افغانستان اب مزید پراکسی جنگوں کا مرکز نہیں

رحمت اللہ فیضان

افغانستان اور ایران بلاشبہ ایک مشترکہ تہذیب کے وارث ہیں، رسمی، واضح اور متعین سرحدوں کی تشکیل سے قبل کئی حکمرانوں نے اس خطے پر، جسے آج ایران و افغانستان کے نام سے جانا جاتا ہے، حکومت کی اور موجودہ ایران تاریخی ایران کا ایک حصہ ہے۔

جب رسمی سرحد کھینچ دی گئی اور حدود کا تعین ہو گیا تب بھی ایرانیوں کے ذہن میں ایک سوچ باقی رہی  اور وہ یہ کہ: افغانستان مال ایران بودہ است (افغانستان ایران کی ملکیت ہے)

اس جملے سے جو نتیجہ نکلتا ہے، فطری بات ہے کہ افغان عوام کے لیے بے چینی اور رد عمل کا سبب بنے گا۔

اگر افغانستان نے ۱۹۳۵ء میں فارس کی طرح اپنے لیے ’ایران‘ نام منتخب کر لیا ہوتا تو کیا آج بھی یہ دعویٰ کیا جا سکتا تھا کہ فارس ایران کا یعنی افغاسنتان کا ایک حصہ تھا یا ہے؟

یہ جو بعض اوقات ایرانی سفارت کار اور دانشور افغانستان کے بارے میں ایسے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کرتے ہیں، اس طرح کی سوچ کی جڑ اسی غلط فہمی میں پنہاں ہے جو کہتے ہیں کہ ’’افغانستان مال ایران بودہ است (افغانستان ایران کی ملکیت ہے)۔

آج حالات بہت بدل چکے ہیں ، افغانستان اور ایران کی عوام دو خود مختار ممالک میں آباد ہیں جن کے مختلف اقدار اور سیاسی نظام ہیں، ان کی اپنی جغرافیائی اور اقتصادی سرحدیں ہیں۔ فارسی زبان، مشترکہ تاریخ اور دین اسلام وہ تین عناصر ہیں جو دونوں ملکوں کے لوگوں کے درمیان روابط قائم کرتے ہیں۔

افغانستان میں اسلامیہ جمہوریہ ایران کے سفیر اور نمائندۂ خصوصی حسن کاظمی قمی صاحب ایک تجربہ کار سفارت کار ہیں اور افغانستان اور ایران کے روابط قائم کرنے میں ان کی طرف سے اٹھائے گئے مثبت اقدامات لائق تحسین ہیں لیکن ان کے افغانستان کے حوالے سے حالیہ اشتعال انگیز بیانات کی جڑ بھی ’’افغانستان مال ایران بودہ است‘‘ ہی ہے۔

ہم قمی صاحب کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ افغانستان ایک آزاد ملک اور مرکزی نظام کا حامل ہے اور اس نظام میں خارجہ پالیسی کے لیے وزارت خارجہ کا ایک ادارہ بھی ہے، اور اس کے ساتھ ذبیح اللہ مجاہد نامی رسمی ترجمان بھی ہیں، اس کے ساتھ جو بات واضح طور پر کہنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ افغانستان اب پراکسی جنگوں کا مرکز نہیں ہو گا۔

فلسطین اور بالخصوص مسجد اقصیٰ (مسلمانوں کا قبلۂ اول) کا مسئلہ عقیدے کے اعتبار سے پوری امت مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ ہے اور افغانستان بھی امت مسلمہ کا ایک حصہ ہے۔

افغانستان کا موجودہ نظام سب سے زیادہ فلسطین کی مظلومیت کا درد محسوس کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے افغانستان کی موجودہ حکومت کا موقف بہت واضح اور سب کے سامنے ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ دیگر ممالک بالخصوص ایرانی سفارت کاروں کو افغانستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے  رائے دینے کی ضرورت ہے۔

ایران برسوں سے اسرائیل کے ساتھ بلی چوہے کا کھیل کھیل رہا ہے، اگر ایسا نہیں تو پھر کیوں فلسطین میں اسرائیلی مظالم و جرائم کے خلاف صرف لفظی مذمت کر رہا ہے؟ اس کے پاس بھی فدائی بٹالین موجود ہیں، کیا اس نے اب تک فلسطین کی مدد کے لیے اپنا کوئی استشہادی بٹالین وہاں بھیجا؟

ایران مشرق وسطیٰ میں اپنے معاشی مفادات کے حصول کے لیے اپنے فدائی استعمال کر سکتا ہے  تو پھر فلسطین کی مدد کے لیے صرف حزب اللہ کو ہی جنگ کا حکم کیوں نہیں دے دیتا؟ وہ حزب اللہ جو خطے میں ہر اعتبار سے قوی اور مضبوط ہے۔