افغان وزیر دفاع نے المرصاد کے دعؤوں پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی

ابو محمد

جب افغانستان میں امریکی استعمار آخری سانسیں لے رہا تھا تو عالمی طاقتوں نے افغانستان میں داعش کے نام سے اپنا آخری حربہ استعمال کیا۔ وہ اس گروہ کے ذریعے مسلمانوں کے جہادی سلسلہ کو ضرب لگانا چاہتے تھے، لیکن ان کی یہ آرزو پوری نہ ہوسکی اور وطن عزیز میں اغیار کے خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔

افغانستان میں امارت اسلامیہ کے قیام کے بعد داعشی خوارج نے اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کا نعرہ لگاتے ہوئے دینی مراکز اور دیگر عوامی مقامات پر حملے کیے، ان حملوں کے سلسلے میں گرفتار ہونے والے تمام افراد غیر ملکی شہری تھے۔

آج میڈیا سنٹر میں افغانستان کے وزیر دفاع اور سیکورٹی اینڈ سیٹلمنٹ کمیشن (Security & Settlement Commission) کے سربراہ مولوی محمد یعقوب مجاہد نے ملک کی داخلی سلامتی کے حوالے سے ایک جامع پریس کانفرنس کی اور ملک میں ہونے والے سیکورٹی واقعات کے بارے میں اہم معلومات میڈیا اور ہم وطنوں کے سامنے رکھیں۔

مجاہد صاحب نے اپنے بیان میں کہا: افغانستان میں عوامی مقامات، مساجد، مدارس اور خانقاہوں پر حملوں میں زیادہ تر غیر ملکیوں کو استعمال کیا جاتا ہے، جن میں زیادہ تر تاجکستان کے شہری ہیں۔

وزیر دفاع کی حالیہ پریس کانفرنس نے المرصاد ادارے کی ان معلومات کی تصدیق کر دی جو اس نے کچھ عرصہ قبل شائع کی تھی، جس میں تاجکستان کے کچھ شہریوں نے اعتراف کیا تھا کہ خوارج نے انہیں دھوکے سے افغانستان میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے لیے حملہ کرنے کا کہا تھا، جنہیں پھر بہادر افغان سیکورٹی فورسز کی طرف سے گرفتار کر لیا گیا۔

وزیردفاع کی آج کی کانفرنس سے واضح ہو گیا کہ کچھ غیر ملکی شہری افغانستان میں حملے کرکے افغانستان کی امن و سلامتی کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس طرح کے کئی حملوں کی ترتیبات میں پاکستانی شہری بھی ملوث تھے۔

ہماری سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں میں بیس سے زائد پاکستانی شہری مارے گئے اور درجنوں زندہ پکڑے گئے۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل المرصاد نے افغانستان میں داعش کے ہلاک ہونے والے رہنماؤں کی فہرست شائع کی تھی جس میں پاکستانی شہریوں کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔