افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے

قلب الاسد افغانی

امارت اسلامیہ افغانستان کے بعض پڑوسی اور کچھ دیگر ممالک بھی وقتا فوقتا الزام تراشی کرتے رہتے ہیں کہ افغان سرزمین ان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور افغانستان سے انہیں خطرہ درپیش ہے۔

لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد اور ان ممالک کا پراپیگنڈہ ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے افغانوں کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک کیا تھا، افغان ان سے بدلہ لینے کے لیے ان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کریں گے۔ ان کا معاملہ ایسا ہی ہے کہ بھیڑیے کو اگر گھر میں بھی جگہ دے دیں تو وہ بکری کے انتقام کے خوف سے سو نہ پائے۔

لیکن ہم اس لیے بھی اپنی سرزمین ان کے خلاف استعمال نہیں کریں گے کیونکہ اب ہم ایک مضبوط نظام رکھتے ہیں تو پھر ہمیں کیا ضرورت ہے کہ کمزور لوگوں کی طرح اپنی سرزمین کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیں اور افغانستان کو پھر سے جنگ کا مرکز بنا دیں۔

اس حوالے سے گزشتہ روز سکیورٹی کانفرنس میں افغانستان کے محترم وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد نے تقریر کرتے ہوئے کہا: ’’دوحہ میں قبضے کے خاتمے کے معاہدے میں جو عہد امارت اسلامیہ افغانستان کی طرف سے دوسروں کے خلاف افغان سرزمین کے استعال نہ کیے جانے کے بارے یں کیا گیا تھا، ہم اپنے عہد پر قائم ہیں۔ ہم کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دیں گے کہ افغان سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال کرے اور نہ ہی کسی کو اجازت دیں گے کہ افغانوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر افغان نوجوانوں کو کسی کے خلاف استعمال کرے، اس حوالے سے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ ہم کسی سے عداوت نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی کی عداوت قبول کرتے ہیں۔

یہاں میں ایک بات کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا اور وہ یہ کہ خطے میں افغانستان کے حوالے سے خدشات پیدا کرنے کے لیے بعض مفاد پرست داخلی اور خارجی حلقوں کی جانب سے کوششیں کی جارہی ہیں۔

یہ بد نیت ٹولے جھوٹی اطلاعات گھڑتے ہیں اور مختلف ذرائع کے ذریعے مختلف سمتوں میں بھیجتے ہیں۔ وہ اس طرح اپنے سیاسی اور مالی مفادات کا حصول اور اپنے ناپاک مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔ یہ مفاد پرست ٹولے جھوٹی اطلاعات پھیلانے میں بہت مہارت رکھتے ہیں اور پچھلے بیس سالوں میں اس شعبے میں بہت تجربہ بھی حاصل کر چکے ہیں۔

ہم ان جھوٹی اطلاعات گھڑنے والے ٹولے سے بخوبی واقف ہیں، مگر افسوس اقوام متحدہ اور بالخصوص سلامتی کونسل ان جھوٹی اطلاعات کا شکار ہو چکی ہے، اس لیے خطے کے اور دیگر ممالک کو افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے ایسی جھوٹی رپورٹس کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔

ہمارا افہام و تفہیم کا راستہ ہر کسی کے لیے کھلا ہے جو چاہے وہ اپنے خدشات کے حوالے سے اطمینان حاصل کر سکتا ہے۔‘‘