افغانستان میں داعش کی موجودگی کا تجزیہ

محمد صادق طارق

افغانستان میں امارت اسلامیہ کا قیام اور طالبان کی جانب سے نئی حکومت کے اعلان کے بعد ماہرین نے اعلان کیا کہ داعش کے دوبارہ سر اٹھانے کا خطرہ طالبان کے لیے اپنے ملک کا نظام چلانے کے لیے سب سے اہم چیلنج ہو گا۔

مذکورہ مسئلہ یقیناً تحقیق و تجزیہ کا متقاضی ہے کہ افغانستان کی سرزمین میں داعش کی دلچسپی اور اثر و رسوخ کی وجوہات کیا ہیں؟ یا وہ کیا عوامل ہیں جو داعش کے اثر و رسوخ کی راہ ہموار کر رہے ہیں؟ مندرجہ بالا سوالات کے جوابات ذیل میں واضح کیے گئے ہیں:

افغانستان، اپنے جغرافیائی محل وقوع، قوم اور بلاشبہ سیاسی اور سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے ہمیشہ متحارب گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے پناہ گاہ بنا رہا ہے، کیونکہ یہاں عشروں سے ایک مضبوط حکومت پورے ملک پر حکمران نہیں رہی، ایسی حالت میں کہ جب حکومت پورے ملک پر حکمرانی نہیں کر پاتی، ریاست کے کنٹرول سے باہر کے علاقے متحارب گروپوں کے وجود کے لیے مثالی جگہیں ہوتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ افغانستان کا جغرافیہ پچھلے سالوں میں ایک بدعنوان حکومت کے ہاتھ میں رہا، جس کی قیادت بظاہر ایک کرائے کی اور غلام انتظامیہ کر رہی تھی لیکن حقیقت میں ہر صوبہ ایک آزاد ملک کی شکل اختیار کیے ہوئے تھا، اسی وجہ سے اس حکومت نے ملک میں داعش جیسے فتنہ گر گروہ کی راہ ہموار کرنے کے لیے مناسب حالات پیدا کیے۔

چونکہ افغانستان وسطی ایشیاء اور اور برصغیر کے درمیاں پل کی حیثیت رکھتا ہے، اسی لیے داعش سمیت ہر متحارب گروہ کے لیے مناسب جگہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ افغانستان ایران، چین، پاکستان اور دیگر مختلف ممالک کے پڑوس میں واقع ہے، داعش کے لیے اس ملک میں دلچسپی دگنی کر دیتی ہے۔

امریکہ جو چین کا حریف اور ایران کا کھلا مخالف ہے، خفیہ طور پر داعش کی حمایت کرتا ہے اور خود کو ممکنہ خطرے سے بچانے کے لیے ان دونوں ممالک کی سرحدوں پر لوگوں کو کھڑا کرنا چاہتا ہے۔

داعش کو اپنے ظہور کے آغاز سے ہی اپنی شدت کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے بعض تجزیہ کاروں کی نظر میں اس نے بہت پہلے سے ہی افغانسان میں علاقے تیار کر لیے تھے، تاکہ ایک دن جب مشرق وسطیٰ اور عراق میں شکست کا سامنا ہو، شام اور عراقی حکومت اپنی زمینیں پھر سے حاصل کر لیں، تو یہ افغانستان، پاکستان اور قبائلی علاقوں میں اپنی نام نہاد خلافت کو جاری رکھ سکیں۔

لیکن اس رائے کو بعض تجزیہ نگاروں کی ذاتی رائے سمجھا جاتا ہے اور یہ کمزور بھی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ داعش طاقت کے متلاشی ممالک کا مشترکہ منصوبہ ہے اور انہوں نے سابق کابل انتظامیہ کے تعاون سے داخل افغانستان میں داعش کو تشکیل دیا۔

عراق و شام میں تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے بعد، داعش کو دولت اور کاروبار میں خصوصی دلچسپی تھی اور مقصد یہ تھا کہ افغانستان کے کچھ حصوں پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے اہم مالی وسائل حاصل کر سکیں۔

افغانستان سے باہر تیل اور گیس کے ان ذخائر کی مالیت تقریباً تین بلین ڈالر بتائی جاتی ہے اور داعش ان ذخائر کو حاصل کرنے کے خواب کی تعبیر کے لیے ابن سیرین کی کتابوں سے استفادہ کر رہی تھی۔

داعش کا منصوبہ بیرونی طاقتوں اور خطے کے بعض ممالک کے اہداف کے دائرے میں ترتیب دیا گیا تھا۔ چونکہ اس وقت عالمی طاقتیں ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے در پے ہیں، امریکہ داعش کے نظریے سے استفادہ کرتے ہوئے کسی نہ کسی طرح اپنے اقتصادی اور سیاسی حریفوں چین اور روس کو پسپائی پر مجبور کرنا چاہتا ہے اور ان کے افغانستان کے ساتھ سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات ختم کرنا چاہتا ہے۔

یہ مسئلہ جس کا تجزیہ ہم نے پیش کیا ایک پیچیدہ اور دور رس نتائج کا حامل مسئلہ ہے، اسے افغانستان میں داعش کے اثر و رسوخ کی خواہش کی بنیادی وجوہات کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن مذکورہ وجوہات بہت سی دیگر وجوہات میں سے چند ہیں۔