6 جدی

مقتصد سارگر

۶ جدی (۲۷ دسمبر)، افغانستان کی تاریخ کے ایک کربناک باب کا تاریک ترین دن ۔

اُس وقت افغانستان ایک نئے دور میں داخل ہونے والا تھا، افغان افغانستان کی تعمیر میں مصروف تھے، ۵ سالہ اور ۷ سالہ ترقیاتی منصوبے میزوں پر موجود تھے اور ان پر عمل درآمد کا عزم کیا جا چکا تھا، افغانستان کسی کے زیر تسلط نہیں تھا اور افغانستان کے پاس سب کچھ تھا۔ بالآخر ایک خونخوار نظریے کے پیروکار وحشی لوگوں نے افغانستان کی فضا کو دہشت اور بربریت سے آلودہ کر دیا۔، افغانوں کے سینوں پر سے گزر کر انہوں نے اپنی حکومت کا آغاز کیا، حب الوطنی کے نعروں کے تحت وطن کو تباہ کرنے کا کام شروع کیا۔ گاؤں دیہات کے لوگوں کو بموں کی آگ سے تھکا کر رکھ دیا یہاں تک کہ گاؤں دیہاتوں کے بچوں کے لیے بم کھلونا بن گئے۔

کمیونسٹ اور ۶ جدی کے عاملین وہ بے رحم اور سنگ دل لوگ تھے کہ جنہوں نے جانوروں تک پر رحم نہیں کیا اور گاؤں دیہات میں جانوروں تک کو نشانہ بنایا۔

کمیونسٹ اور ۶ جدی کے عاملین نے زندانوں سے لے کر اجتماعات تک، کھلے عام بھی اور ڈھکے چھپے انداز می بھی اللہ تعالیٰ کی دشمنی کرنے پر کمر کس لی تھی، اور لوگوں سے کہتے پھرتے تھے کہ ’’اب تمہارا خدا تمہیں ہم سے آزاد کروا کر دکھائے‘‘۔ نعوذ باللہ

کمیونسٹ، خلقی اور پرچمی اپنے اجتماعات میں انسان کو ایک سبز پودے سے تعبیر کرتے تھے اور انسان کی موت کے بعد کی زندگی اور روز قیامت کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔

لیکن بالآخر یہ افغانوں کا جہاد اور سرفروشی تھی کہ وہ اس ناپاک فکر کے مقابلے میں ڈت گئے اور مظلوموں کا حساب چکتا کروانے کے لیے انہیں عملی جہاد کی راہ پر لے آئے۔ شدید چیلنجز کے باوجود مجاہدین نے گریباں چاک، دیوانہ وار اس مست اور بے دین لشکر کے خلاف ہزاروں سروں کا نذرانہ پیش کیا اور وقت کے کفر و استبداد کی کمر توڑ کر رکھ دی۔

الحمد للہ ثم الحمد للہ، یہ اسی جہاد کی برکت اور سرفروشوں کی قربانیوں کا ثمر ہے کہ افغانستان کے جوانمرد افغانوں کے ہاتھوں ایک بار پھر اسلامی نظام قائم ہو چکا ہے اور لمبی کشمکش کے بعد افغانستان ایک بار پھر بہادر افغانوں کے ہاتھ میں ہے۔