۶ جدی: مادیت اور روحانیت کا ٹکراؤ

ماہر بلال

۱۳۵۸ ہ ش بمطابق ۱۹۷۹ء، وقت کی جابر خونی قوت نے چند بے ضمیر بکاؤ غلاموں کی مدد سے افغانستان کی پاک سرزمین پر قبضہ کرنے کے لیے قدم بڑھائے۔

روسی جارحیت پسندوں نے برطانوی استعمار کے نقش قدم کی پیروی کی لیکن بد قسمتی سے یہ حملہ آور سفاکیت اور دہشت میں برطانویوں سے بھی کئی قدم آگے تھے۔ سوویت جارحیت پسند اور ان کے نام نہاد اتحادی (جاسوس) ظلم اور وحشت میں اتنے آگے بڑھ چکے تھے کہ جب کسی گاؤں پر حملہ کرتے تو انسانوں، جانوروں سمیت ہر چیز ختم کر دیتے، پانی کے کنویں مٹی سے بھر دیتے اور تمام ضروریات زندگی تباہ کر ڈالتے۔

اس کے بعد افغان مؤمن عوام بہت تکالیف کا شکار ہوئی، اور اسے جسمانی اور ذہنی دونوں اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

سرخ حملہ آوروں کی بربریت کے نتیجے میں لاکھوں افغان شہید ہوئے، لاکھوں زخمی، معذور، بیوہ اور یتیم ہو گئے اور لاکھوں ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

زمینی حملے کے علاوہ سرخ لشکر کے شیطانی دماغوں نے یہاں الحاد کے زہریلے پودے کو پروان چڑھانے کی بھی کوشش کی، یعنی تمام بدبختیوں کے ساتھ ان شکست خوردہ لوگوں نے دائرۂ اسلام کو بھی ہدف بنایا۔

ان تمام سرخ لشکروں کے مقابل میں وقت کے کچھ متدین نوجوانوں نے لڑںے کے لیے خود کو تیار کر لیا اور بے سروسامانی کی حالت میں سرخ دشمن کے مقابل نکل کھڑے ہوئے۔ عجیب منظر تھا، کوئی دست بدست تو کوئی پرانی ٹوٹی بندوقوں سے باغی لشکر کا مقابلہ کر رہا تھا۔

مجاہدین مادی لشکر کے مقابل روحانیت کے سہارے نہتے یا پرانے ٹوٹے پھوٹے اسلحے کے ساتھ سوویت ظالموں پر چڑھ دوڑے۔ اسی مقدس جدوجہد کی برکت سے آج تک جہادی محاذ مجاہدین کے وجود سے گرم رہے ہیں۔ حالانکہ سوویت استبداد کی اس وقت مادی قوت اس قدر زیادہ تھی کہ مشرق اور مغرب کی تمام منظم اور مسلح افواج اس سے خوف کھاتی تھیں اور کوئی بھی ان کے سامنے کھڑا ہونے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا، لیکن اس سب کے باوجود افغان مجاہد عوام نے اپنی اسلامی اور افغان مقدسات کو اپنی جانوں پر ترجیح دی۔ اسلام سے اسی عقیدت اور فداکاری کا نتیجہ تھا کہ ظالم حملہ آور افغانوں کے ہاتھوں جنگ کے میدان میں تنہا رہ گیا، فوجی قافلے تتر بتر ہو گئے اور غنیمت چھوڑ کر اس پاک سرزمین سے فرار ہو گئے۔

مومنین کی قربانیوں کی برکت سے معنوی قدر حاصل ہوئی، سوویت یونین کی ساری طاقت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، غرور کے پرفتن محلات مسمار ہو گئے، مادیت اور مادی قوت پر انحصار کرنے والے رو سیاہ پوری دنیا میں شرمسار ہوئے۔ لیکن اس ساری جنگی تکالیف کے باوجود افغانستان آج بھی مستحکم ہے، اس کی عوام زندگی کی خوشیوں سے لطف اندوز ہو رہی ہے، افغانستان پھر سے آزادی کے گیت گا رہا ہے اور حریت پسند افغان خوشیاں منا رہے ہیں۔

یہ سب اسلام کی خاطر قربانی دینے کا اعزاز ہے، جس سے ہم آج تک حصہ پا رہے ہیں۔

ہر گزری ہوئی بات بھلائی نہیں جاتی، مظالم کے آثار چھپے نہیں آج بھی نظر آتے ہیں۔

عالمی طاقتوں سے کہوں گا کہ اب بھی وقت ہے، افغان جانبازوں کے ہاتھوں شکست کھانے والی ریاستیں دیگر بدمعاشوں کی تربیت کرنے کی بجائے افغان حکومت کے ساتھ تعامل کرنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھائیں اور سابقہ غلطیوں کو پھر سے دہرانے کی کوشش مت کریں۔ ان روسیوں سے بھی کہنا چاہوں گا، یہاں ایک بار شرمناک شکست کھانے کے بعد دوبارہ دیگر غلاموں کو لانے کی کوشش مت کرو! شمالی اتحاد کے باغی ہوں یا کوئی اور اسلام دشمن عناصر، انہیں پالنا چھوڑ دو! ورنہ تمہارا سابقہ انجام ایک بار پھر دہرایا جائے گا!

آخر میں سلطنتوں کا قبرستان کہلانے کی حقدار افغان مومن مجاہد قوم کو ان سب تکالیف کے خاتمے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

اسلامی نظام، آزادی و خودمختاری سے لطف اندوز ہوں، اور ہمیشہ اسلام کی خاطر قربانی دینے والے بن جائیں، کامیابی اور اعزاز ہمیشہ آپ کے قدم چومے گی۔