۶ جدی کی مناسبت سے

محمد صادق طارق

ایک بار پھر ۶ جدی (۲۷ دسمبر) کا دن آیا ہے، وہ دن جب ہمارے ملک پر سوویت یونین کا سرخ لشکر حملہ آور ہوا تھا۔ وہ دن جب ملک کے سابق نائب صدر اپنی پارٹی اور حکومتی ارکان کے ایک گروپ کے ساتھ زہر آلود کھانا کھانے کے بعد کوما کی حالت میں تھے اور انہیں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ وہ دن جب ایک اور شاہ شجاع نے ایک نئے نعرے اور شعار کے ساتھ اقتدار سنبھالا تھا۔

معزز لکھاریوں اور ساتھیوں نے اس سلسلے میں جو کچھ مناسب سمجھا وہ شیئر کیا ہے۔

میرے لیے یہ کہنا کافی ہو گا کہ اس سال 6 جدی کے سالگرہ کی آمد پچھلے سالوں سے مختلف ہے، کیونکہ ہم سوویت یونین کے حریف اتحادی امریکہ اور نیٹو کو شکست دینے کے بعد اپنے ملک کو تمام سپر پاورز کے کنٹرول سے آزاد کروا چکے ہیں، اور ان کے ظلم کی حکمرانی کو تہس نہس کرچکے ہیں۔

تو میں اس تاریخ کو یاد کرنے کے لیے جو ہمارے پیارے ملک افغانستان میں امریکہ کی شکست کے ساتھ ایک بار پھر مختلف شکل میں دہرائی گئی، کچھ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

میں نے ان دو حملہ آوروں کے دو ظالمانہ قبضوں کے درمیان درج ذیل مماثلت کی نشاندہی کرنا ضروری سمجھا۔

1. دنیا کے متکبرین کے دو غاصبانہ قبضوں کے دوران ہمارے پیارے ملک کے ہزاروں لوگ خاک و خون میں نہا کر اس راہ میں بے گھر ہوگئے۔

2. روس اور امریکہ کے لگاتار دو قبضوں میں ہمارے پیارے ملک کے ہزاروں گھر، باغات، سڑکیں، پل، سکول، مدارس، مساجد، خانقاہیں، کھیت اور ہسپتال فضائی اور زمینی بمباری سے تباہ و برباد ہو گیے۔

3. استعمار کے ان دو ظالمانہ قبضوں میں ہمارے لاکھوں لوگ وطن عزیز سے بے گھر ہو کر "افغان مہاجرین” کے نام سے دنیا کے مختلف ممالک میں بھٹک رہے ہیں۔ وہ نہ وطن میں آباد ہونے کی نعمت کا فائدہ اٹھا سکے اور نہ ہی پردیس کی ترقی سے کچھ منافع حاصل کر سکے۔

4. دنیا کی دو سپر پاورز کی یلغار کے دوران ہمارے ملک کی ہزاروں ماؤں اور بہنوں نے اپنے بچوں اور شوہروں سے محروم ہونے پر آنسو بہائے اور بہت سی بہنیں آج بھی اپنے کھوئے ہوئے بھائیوں کی واپسی کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔

5. ہمارے ملک پر قبضہ ہمیں ان بچوں کی کہانیاں سناتا ہے جنہوں نے اپنے والدین، بھائیوں اور عزیزوں کو کھو کر آنسو بہائے، روئے اور فریاد کی اور اپنی بچگانہ معصومیت کو شفیع بنایا لیکن نہ تو ان کی چیخوں پر کسی نے کان دھرے اور نہ ہی ان کے رونے پر کسی نے توجہ دی۔

6. ان دونوں حملوں کے دوران ہمارے وطن عزیز کے ہزاروں بے گناہ باشندے بغیر کسی جرم کے غیر ملکی جارحیت پسندوں اور ان کے اندرونی غلاموں کے وحشیانہ تشدد کی نذر ہوئے، شہید کیے گئے یا پھر بگرام اور گوانتانامو کے سیاہ کال کھوٹروں میں مشقت کی زندگی گذارتے بوڑھے ہوگیے۔

7. دنیا کی دو سپر پاورز کی جارحیت کے دوران وطن عزیز کے اندر دہشت گردوں کے نام پر بیرونی حملہ آوروں کے ڈرون حملوں میں ہمارے ہزاروں اہل وطن زخمی ہوئے اور آج تک اپنی آنکھیں، ہاتھ، پاؤں اور مختلف اعضاء سے محروم ہیں۔

8. لیکن دونوں حملوں کے دوران ہمارے لوگوں نے بہادری سے کفن پہن لیے اور افغانستان کی آزادی کے لیے "مجاہدین اور طالبان” کے نام سے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں۔ رحمہم اللہ تعالیٰ

9. ان عزیز ہم وطنوں نے خالص اسلامی شریعت کے نفاذ اور تطبیق، افغانستان کی آزادی، اور معاشرتی انصاف کے قیام کے لیے بہت بہادری سے جدوجہد کی۔

10. ہمارے بہادر لوگوں کی قربانیوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی دونوں سپر پاورز کو شکست دی اور ہمیں فتح سے ہمکنار فرمایا۔

11. میں اس عظیم فتح پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اللہ ہمیں سیاسی، فکری، ثقافتی اور سماجی میدانوں میں برکت عطا فرمائے۔  آمین