۶ جدی: افغانستان کی معاصر تاریخ کا تاریک اور کربناک دن

انجینئر عابد نظامی

اپنے بہترین جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے، افغانستان پوری تاریخ میں مختلف حملہ آوروں اور استعمار کے حملوں کا مرکز بنا رہا ہے۔ اس مختصر تاریخ میں تین سپر پاور حملہ آور، برطانیہ،  روس اور امریکہ قابل ذکر ہیں۔

یہ تاریخ یعنی ۶ جدی ۱۳۵۸ہ ش بمطابق ۲۷ دسمبر ۱۹۷۹ء، افغانستان کی پاک و مقدس سرزمین پر درندہ صفت روسی فوج جس کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تک تھی کے حملے کا دن ہے۔

۶ جدی (۲۷ دسمبر) کی شام روسیوں نے ببرک کارمل کی قیادت میں روسیاہ و وطن فروش کمیونسٹ پارٹی کی مدد سے کابل کی مقدس سرزمین پر حملہ کیا اور اس وقت کے خلقی صدر حفیظ اللہ امین کو اس کے فوجی اور سول ساتھیوں کےساتھ قتل کر دیا، جس سے افغانستان کی تاریخ میں ایک نئی بدنما داستان کا آغاز ہوا، جس کی تلافی بدقسمتی سے افغان عوام آج تک نہیں کر پائی۔

جب روسی جارحیت پسند جدید جنگی ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر، جس میں توپیں، ٹینک، جنگی طیارے اور طرح طرح کا جنگی ساز و سامان شامل تھا، افغانستان کی سرزمین میں داخل ہوئے تو مغربی بلاک سمیت کسی نے یہ سوچا بھی نہ تھا کہ ان سے سامنا ہو جائے گا۔ لیکن جب روسی حملہ آور کابل پر مکمل طور پر قابض ہو چکے تو انہوں نے جلال آباد کی طرف پیش قدمی شروع کر دی، لیکن ماہپیر کے علاقے میں انہیں مجاہدین کے تند و تیز حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے ساتھ ہی افغان عوام میں جہاد اور آزادی کا سویا ہوا جذبہ پھر سے بیدار ہو گیا۔

جی ہاں! تمام جنگی جرنیلوں اور عسکری و سیاسی محققین نے اس جنگ کو خودکشی اور حماقت قرار دیا۔ لیکن مقدس ایمانی جزبے سے سرشار انقلابی افغانوں نے اجرتی سپاہیوں کے خلاف ایسی جنگ شروع کی کہ تمام تجزیہ نگار اور محققین انگشت بدنداں رہ گئے۔

جی ہاں! روسیوں نے افغانستان کی پاک سرزمین پر حملہ کیا، افغانوں نے نہتے ہوتے ہوئے بھی صرف ایمانی طاقت سے روسی حملہ آوروں کے سارے غرور اور سلطنت کا شیرازہ بکھیر دیا۔ روسیوں کو مسلسل شکست کا سامنا کرنا پڑا، اس کے زیادہ تر فوجی یہاں مارے گئے یا زخمی ہوئے، کثیر تعداد میں مال اور اسلحہ یہاں خرچ ہوا۔ یہ اخراجات اور طویل جنگ سوویت برداشت نہ کر سکے، اس لیے انہوں نے افغان سرزمین چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور بالآخر ۱۳۶۷ ہ ش بمطابق ۱۹۸۹ء ان کے بچے کھچے فوجی افغان سرزمین سے نکل گئے، افغانوں نے مختلف ملکوں کو ان کے ظلم اور غلامی سے نجات دلائی، دیوارِ برلن گرا دی گئی اور وارسا معاہدہ ختم ہو گیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض ممالک نے اپنے مادی مفادات کی خاطر افغان عوام کی مدد بھی کی، جن میں امریکہ، سعودیہ اور پاکستان سرفہرست تھے۔

جی ہاں! یہ جنگ اتنی آسان نہیں تھی، روسیوں نے کارمل اور نجیب کی حکومتوں کی مدد سے، اپنے مظالم اور بمباریاں جاری رکھیں، سول اور فوجی مقامات تباہ کر دیے، گھروں اور مسجدوں پر بمباری کی اور پورے ملک کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا۔

لاکھوں افغان شہید ہوئے، لاکھوں معذور ہوئے اور اسی طرح لاکھوں دیگر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

روسیوں نے افغانستان سے نکلنے سے قبل بہت سے قومی، مذہبی، گروہی، لسانی اور فرقہ وارانہ بیج بھی بوئے، جس کے نتیجے میں پورا ملک برباد اور جہاد کا مقدس مقصد یعنی نفاذِ شریعت خاک میں مل گیا اور وہ ہدف جو روسی اپنی پوری عسکری قوت کے ساتھ حاصل نہ کر سکے، وہ بدقسمتی سے بہت آسانی سے حاصل کر لیا گیا۔

روسیوں کے جانے کے بعد افغانوں کے مابین اقتدار کی جنگ شروع ہو گئی، افغانستان میں افغانوں پر ایسے ایسے ظلم ڈھائے گئے کہ لوگ کمیونسٹوں کے مظالم بھول گئے۔

عوام کی ناموس، مال و عزت سے کھلواڑ کیا گیا، ہر جگہ لوٹ مار اور ڈاکے شروع ہو گئے، لوگوں کی زندگی موت سے بدتر ہو گئی۔ سکول اور تعلیمی ادارے تباہ اور بند ہو گئے۔ وطن کی دولت کو نیلام اور پڑوسی ممالک کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا۔ افغانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا کہ قندھار سے اچاناک طالبان کے نام سے ایک تحریک اٹھی، افغانوں نے اس تحریک کا پرتپاک اسقتبال کیا اورقلیل وقت میں اس نے شر و فساد کو پورے ملک سے سمیٹ کر پہاڑوں اور غاروں تک محدود کر دیا۔

طالبان نے امن قائم کیا اور لوگوں کی عزت، مال اور آبرو کا تحفظ کیا اور اسلامی نظام کی بنیاد رکھ دی جس سے افغانستان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔