۷ اکتوبر – امریکی قبضہ اور داعش کی درآمد

#image_title

۷ اکتوبر – امریکی قبضہ اور داعش کی درآمد
صلاح الدین (ثانی)

یہ بات ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ امت محمدیہ ﷺ کفار، مرتدین، خوارج، باغیوں اور فتنہ گروں کے شر اور فساد کا ہمیشہ شکار رہی ہے۔
پوری تاریخ میں کسی دوسرے دین یا مذہب پراس قدر ظلم اور بربریت نہیں کی گئی جتنی کہ اسلام کے مبارک دین کے ساتھ کی گئی۔ پوری تاریخ میں اسلام کے بنیادی دشمن صلیبی، یہودی، خوارج، مرتدین اور باغی رہے ہیں۔

افغانستان پر امریکی قبضہ
امریکہ شیخ اسامہ بن لادن تقبلہ اللہ کا بہانہ بنا کر افغانستان آیا اور اپنے مفاد کے لیے یہ ڈھونگ رچایا کہ شیخ اسامہ تقبلہ اللہ افغانستان سے امریکہ پر حملہ کر رہے ہیں۔ اس طریقے سے اس نے افغانستان کی سرزمین پر حملہ کیا، ڈھیروں ہولناکیوں اور مظالم کے ذریعے اس نے افغانستان میں شرعی قانون کی بجائے جمہوری قانون قائم کیا اور یہ کوشش کرنے لگا کہ افغان قوم اس کی صلیبی اور مغربی ثقافت کو اپنا لیں یا قبول کر لیں، اور اس مقصد کے لیے اس کا ہدف یہاں کی نوجوان نسل تھی۔
بہت سے نوجوان مرد اور عورتیں جمہوریت کی اس بیماری کا شکار ہو گئے۔ اور پھر اتنا کچھ ہو گیا کہ اسے بیان کرنے میں کئی کتابیں درکار ہوں گی۔

افغانستان میں داعش کی درآمد
امریکہ نے اپنے اہداف کی تکمیل کے لیے ہر طرح کی سازشیں اور منصوبے استعمال کیے لیکن ان سب میں اہم ترین منصوبہ اور سازش افغانستان میں داعش کی ایجاد تھی۔
۸ میزان کو اشرف غنی نے اقتدار میں آتے ہی امریکیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا کہ کرائے کی افغان ملیشیا افغانستان آنے والے طیاروں کی تلاشی نہیں لے گی۔
بعد ازاں امریکہ شام کے خلیج الطننف سے داعش کو یہاں لے آیا اور اپنے فوجی کیمپوں کے ساتھ ان کو افغانستان کے شمالی صوبوں میں منتقل کر دیا، جس سے افغان قوم کو ایک اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔
لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے افغان قوم ان صلیبی اور خارجی ظلمتوں اور سازشوں سے سرخرو نکل آئی۔ الحمد للہ

تمام عالم اسلام کی آزادی اور خود مختاری کے متمنی