کل کے طاغوت کے غلام کو آج اپنے سوا کوئی مسلمان نظر نہیں آتا

زبیر عاطف

#image_title

خراسانی خوارج کا تمام پراپیگنڈہ مواد، خواہ وہ مضامین ہوں، صوتی بیان ہو، ویڈیو ہو یا کوئی کتاب، سب میں اپنے سوا تمام مسلمانوں کی تکفیر کی جاتی ہے۔ آئیے آج یہ دیکھتے ہیں کہ اس پراپیگنڈہ مواد پر نظر ثانی کون کرتا ہے اور اس کا پس منظر کیا ہے؟

خراسانی خوارج کے میڈیا سیل کا انچارج سلطان عزیز عزام نامی ایک شخص ہے، جو نام نہاد خراسان ولایت کے رسمی پراپیگنڈہ مواد کی تیاری، تدوین اور ادارت کا مسئول ہے۔

ماضی میں نشر ہونے والی کتابوں کو دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی بہت راسخ العقیدہ مسلمان ہو گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ داعشی خوارج کے حالیہ مؤقف اور فتوے کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ خود سات سال قبل مسلمان ہوا تھا۔ سلطان عزیز اس لیے ۷ سال قبل مسلمان ہوا کیونکہ ۷ سال قبل وہ ایسے کام کر رہا تھا کہ اس کے موجودہ گروہ کے مطابق ایسے کام کرنے والا مرتد اور اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ عزام نے ایسے جو کام کیے ہیں، وہ ذیل میں درج ہیں۔

معاصر خوارج عام طور پر یہ رائے رکھتے ہیں کہ ان کے عقیدے کے خلاف بنے نظاموں میں کسی بھی قسم کی ذمہ داری ادا کرنے والا کافر اور مرتد ہے۔ یہ ان لوگوں کی تکفیر کرنے میں زیادہ جلدی کرتے ہیں جو، ان کی اصطلاح میں، ’’طاغوتی‘‘ حکومت کے قیام اور استحکام میں اہم کردار ادا کررہے ہوں۔

سات سال قبل، عزام خود کابل کی کٹھ پتلی حکومت کے الیکشن کمیشن میں ملازم تھا، وہ لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دیتا تھا، اور اس کے لیے این جی اوز کے ساتھ مل کر بھی کام کرتا تھا۔ اس نے خود اپنی کتاب میں بھی اعتراف کیا ہے کہ اس کی تنخواہ ڈالروں میں تھی۔

عزام ایک شاعر بھی تھا اور اس کی نظمیں آج بھی ان ادبی رسالوں میں موجود ہیں جن کے سر ورق پر ایک نامحرم عورت کی تصویر ہوا کرتی ہے۔ اس نے ننگرہار کے مختلف ریڈیو اسٹیشنوں میں بھی کام کیا جن میں ’سپین غر‘ اور ’اصلاح غگ‘ ریڈیو شامل ہیں۔

آج مسلمانوں کی تکفیر کرنے والا ’’درے مورچل‘‘ نامی پشتو میں ترجمہ شدہ ایک ترکی ڈرامے کا بہت پرستار تھا، یہاں تک کہ اس نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ کا نام مذکورہ ڈرامے کے ایک کردار کے نام پر رکھا اور اس پر اپنی تصویر لگا لی۔

آج دیکھیں تو وہی شخص جو کل خود طاغوتی حکومت میں طاغوت کی حاکمیت کے لیے کام کرتا تھا، آج وہ اس مجاہد کی تکفیر کرتا ہے کہ جو اس وقت مورچوں میں موجود تھا جب یہ طاغوت کی خدمت کر رہا تھا۔ آج طاغوت کا سابقہ غلام اور صفِ اوّل کا سپاہی، طاغوت کے مدّ مقابل جنگ کرنے والے مجاہد کی تکفیر کرتا ہے۔ آج وہ شخص جو ریڈیو پر محبت کے قصے اور شعر سنایا کرتا تھا اور جس کی زبان منکر میں مصروف تھی، اسی منہ سے بڑے آسانی سے اپنے گروپ کے علاوہ ان تمام لوگوں کی، جنہوں نے ان کے گروپ سے ہٹ کر جہاد اور ہجرت کے مفاہیم سمجھے، تکفیر کرتا ہے۔

خوارج کا پورا گروہ ایسے ہی نفرت انگیز، منافقانہ، اور گھٹیا لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔ ہم نے بطورِ مثال اس گمراہ منہج کے ایک فرد کا ذکر کیا، باقی فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں۔