کابل کی فتح یا داعش کا زوال

#image_title

کابل کی فتح یا داعش کا زوال

کریم بريال

جس دن سے انگریزوں نے داعشی خوارج کو عراق کے فلوجہ کیمپ سے کابل منتقل کیا، کابل کٹھ پُتلی انتظامیہ کے زیر کنٹرول تمام اہم علاقے ان کے لیے پناہ گاہیں بن گئے، جہاں سے وہ ملک کے مختلف حصوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے انتقال کیے جاتے تھے اور ان کے لیے علاقیں خالی کیے جاتے تھے۔

صلیبی حملے کے دوران، داعشی خوارج کو صفر ایک، صفر دو فورسز اور اربکی ملیشوں کے مقابلے میں بہت سستی قیمت پر امریکیوں کو مل گیے۔ کیونکہ انہوں نے اسے مسلمانوں اور مجاہدین کے درمیان اس طرح کھڑا کیا کہ بہت سے سادہ لوح اور لا علم مسلمان نوجوان مسلمانوں کی صفوں سے الگ ہو گئے اور اسے داعش کے نام پر اپنے مقاصد کے لیے مجاہدین اور جہادی گروہوں کے خلاف استعمال کیا۔

داعش خوارج کو امریکی امداد کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ مسلم امہ کے عطیات اور اسلامی ممالک کے ذخائر کی چوری اور لوٹ مار سے اپنے اخراجات پورے کر رہے تھے۔

عراق، اور شام میں انہوں نے انہی بدقسمت گمراہ لوگوں(داعشیوں )کو جہادی گروہوں کے خلاف استعمال کیا جو خطے میں امریکہ کے لیے بڑا درد سر بن گئے تھے۔

افغانستان میں جب نیٹو اور امریکہ کی مزاحمت ہل گئی تو اس گمراہ گروہ کو عراق کے فلوجہ کیمپ سے پرائیویٹ طیاروں میں کابل لایا گیا اور پھر کابل سے انہیں ملک کے مختلف حصوں میں کمیونسٹ جرنیلوں نے بھیجا۔
اور امارت اسلامیہ کے صفوں کے خلاف ہر جگہ پہنچا دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ افغانوں کو بیرونی دشمنوں کی سازشوں کا بخوبی علم تھا اور وہ ان کے تدارک کے طریقے بھی جانتے تھے، اس لیے انہوں نے مختلف علاقوں میں امریکہ کے ان کرائے کے قاتلوں پر اس طرح حملے کیے کہ امریکی اور کٹھ پُتلی حکومت اس پر مجبور ہو گئے کہ انہیں زمینی اور فضائی راستے کے ذریعے افغانوں کے چنگل سے بچا کر کابل واپس لے جائیں۔

جس دن کابل فتح ہوا، نہ صرف امریکہ کی کٹھ پتلیوں <کابل انتظامیہ> کی خوش قسمتی ڈوب گئی بلکہ امریکہ کے امپورٹ کیے ہوئے کرائے کے قاتل داعشی خوارج کی قسمت بھی ہمیشہ کے لیے تباہ ہو گئی۔

امریکہ کے جانے کے بعد ہر گھر اور علاقے میں ان کا استقبال سخت حملوں سے کیا گیا، اور یکے بعد دیگرے ان کے ٹھکانوں میں ریزہ ریزہ ہو گئے کہ الحمدللہ پورے ملک میں اس کی جڑیں ختم ہو گئیں۔

اگر امریکہ اور ان کی کرپٹ انتظامیہ کو نیست و نابود نہ کیا جاتا تو آج تک کٹھ پتلیوں کے علاوہ یہ بدبخت خوارج دسووں ہزار مظلوم شہریوں کو خون میں نہلا چکے ہوتے۔

لیکن خدا کا شکر ہے کہ اسلامی نظام کی چھتری تلے مکمل امن آگیا اور غیر ملکی دشمنوں کے جاسوسوں اور سفاکوں کو ملک سے نکال باہر کیا گیا۔