پیارا فلسطین | ساتویں قسط

#image_title

پیارا فلسطین | ساتویں قسط

عزیز الدین مصنف

 ایک عرب مورخ لکھتا ہے: اسرائیل کے وجود میں آنے سے پہلے، اسرائیل کی حکومت کا تاریخ میں کوئی نام نہیں ہے، کیونکہ اس سے پہلے ان کے پاس اس نام کی حکومت نہیں تھی۔اسرائیل کے سابق وزیر اعظم بن گورین کہتے ہیں: یہودیوں نے جتنی کوششیں حکومت بنانے کے لیے کی تھی ان میں وہ کامیاب نہیں ہوئے، یہاں تک کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر بال میں توڈور ہرتزل کی قیادت میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ایک نئی ریاست کی تشکیل کے لیے پہلے اقدامات کیے گئے۔

 1895 میں ہرتزل نے (یہود کی ریاست) کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جس میں اس نے یہودیوں سے کہا کہ وہ ارجنٹائن میں اپنے لیے حکومت بنائیں۔

 (تاریخ الحرکۃ الصہیونزم، ڈاکٹر آلن تایر)

جب ہرتزل نے یہ کتاب لکھی اور یہودیوں نے فلسطین کو رہائش کے لیے منتخب کیا تو ہرتزل نے فوراً ترکی کا سفر کیا۔

اس وقت ترکی میں سلطان عبدالحمید سلطنت عثمانیہ کا حکمران تھا، اس نے پیسوں کے عوض اسرائیل کے لیے ایک زمین لینے کی پیشکش کی، لیکن اس پیشکش کو سلطان عبدالحمید نے رد کر دیا، اور اسی وقت ہرتزل واپس برطانیہ چلا گیا، اور وہاں جاکر اس نے یہودیوں کے لیے صحرائے سینا کو چھوڑنے پر مجبور کیا، آخر کار کئی انگریز انجینئر صحرائے سینا کا معائنہ کرنے وہاں گئے، لیکن صحرائے سینا رہنے کے لیے مناسب جگہ نہیں تھی، بلکہ انھوں نے فلسطین کو قبضہ کرنے کے لیے نقشے تیار کیے تھے۔

 یہ وہ وقت تھا جب پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی اور پوری دنیا بالخصوص یہودی اپنے مستقبل کے لیے پریشان تھے۔

 پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ قدرے بے چین تھا، اس نے امریکہ کو جنگ کے میدان میں لانے اور اپنے لیے ایک اتحادی تلاش کرنے کی کوشش کی، چونکہ امریکہ کی حکومت یہود کی زیرِ اثر تھی اس لیے برطانیہ کے یہودیوں کی ضرورت پڑی، امریکہ کو پہلی جنگ عظیم میں داخل کرنے کے لیے یہودیوں نے برطانیہ کے ساتھ فلسطین کو قبضہ کرنے کی معاہدے پر دستخط کیے۔

جیرالڈ کے سمتھ کہتے ہیں:

 واحد چیز جس نے امریکہ کو پہلی جنگ عظیم میں حصہ لینے کی ترغیب دی وہ صیہونیت تھی، یہ منصوبہ جو لندن کے ایک گھر میں تیار کیا گیا تھا، اسے آگے بڑھانے کے لیے جیمس مالکوم نے ڈیزائن کیا تھا۔جیمس مالکوم اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں:

 میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے امریکہ کو پہلی جنگ عظیم تک پہنچایا۔

وہ کہتے ہیں کہ میں نے مختلف مضامین اور لکھ کر اور دورے کرکے یورپی ممالک کو یہودیوں کو نظر انداز نہ کرنے کی ترغیب دی، میں نے امریکی یہودیوں کے ساتھ بے شمار ملاقاتیں جس کے نتیجے میں 1917 کے موسم بہار میں امریکہ کو پہلی عالمی جنگ میں لانے میں کامیاب رہا.

صہیونی رہنما حایم وایزمین نے روتشیلدبر، لوید جارج، ونسٹن، چرچیل اور بیلفورڈ پر دباؤ ڈالنے کے بعد انہیں یہودی حکومت بنانے کے لیے حلف اٹھانے پر آمادہ کیا۔ برطانیہ جس نے ماضی میں یہودیوں سے ایسے وعدے کیے تھے، اس نے ملٹری منسٹری کو حکم دیا کہ وہ ایسا معاہدہ لکھے جسمیں یہودی بھی مطمئن ہو جائیں اور عرب بھی کوئی ردعمل ظاہر نہ کریں۔

 مالکوم بعد میں لکھتے ہیں: اس معاہدے کے لکھے جانے سے پہلے میں نے سعودی عرب کے نمائندے مارشل حداد سے ملاقات کے دوران اس معاملے کی وضاحت اس طرح کی تھی: کہ امریکہ کی آمد سے دونوں کے مفادات کا تحفظ ہو گا، عربوں کو بغاوت نہیں کرنی چاہیے۔

 اس کے بعد برطانیہ نے صیہونیوں کے رہنما وائزمین سے ایک معاہدہ لکھنے کو کہا، وائزمین نے برطانوی وزیر خارجہ آرثر جیمس بالفور کی طرف سے یہودی روچلیڈ کے نام ایک مکتوب میں درج ذیل مضمون لکھا:

 برطانیہ فلسطین میں یہودیوں کے لیے ریاست کے قیام سے مکمل اتفاق کرتا ہے اور برطانیہ ان معاملات کو بہتر طریقے سے منظم کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔

 بعد ازاں یہ معاہدہ واشنگٹن کے جج برانڈیس کو ٹیلی گراف کیا گیا، پھر برانڈیس کی رضامندی کے بعد برطانوی خارجہ امور کے معاہدے پر دستخط کیے اور اسے اس وقت کے سب سے زیادہ سرمایہ دار یہودی روچلیڈ کے حوالے کر دیا۔ یہ معاہدہ 1917 میں ہوا تھا، لیکن مسلمانوں کو اس وقت اطلاع دی گئی جب سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا اور فلسطین کا بیشتر حصہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا تھا اور یہ 1918 عیسوی سال تھا۔ (خطر الیہودیہ العالمیہ علی الاسلام والمسیحیہ صفحہ: 239)

 1920ء کی دہائی کے دوران برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ فلسطین کی حکومت کو فوجی سے سول حکومت میں تبدیل کر دے گا، اس اعلان کے مطابق اس نے یہودی اتحادیوں کو دستخط کے لیے ایک خط بھیجا جس میں یہودیوں کے لیے ایک الگ سیاسی اور انتظامی تنظیم بنائی جائے، فلسطین میں یہودیوں کی نقل مکانی کی صحیح رہنمائی کے لیے یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فلسطین جانے والے یہودیوں کو منظم کرنے کے لیے ایک کابینہ تشکیل دی جائے۔

 اور وہاں آنے والے پناہ گزینوں کے لیے زمین اور رہائش کے انتظامات کیے جائیں۔

اس معاہدے کو اقوام متحدہ نے 1922ء میں منظور کیا، اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد برطانیہ نے اپنے نمائندے ہربرٹ سیموئل کو فلسطین بھیجا، سیموئیل پچاس سال تک فلسطین میں رہے۔ اور اس نے مندرجہ ذیل کام کئیں۔

 ✓ 60,000 یہودیوں کے لیے رہائش کی ترتیب

 ✓ حکومتی نظام میں یہودیوں کو اہم عہدے دینا

 ✓ عربوں سے زبردستی زمین چھین کر یہودیوں کو دینا

 ✓ غیر ملکی تجارتی امور یہودیوں کو منتقل کرنا

 ✓ عربوں کے مسلح ہونے کی ممانعت

 ✓ یہودیوں کو ہتھیار خریدنے کے لیے سہولیات فراہم کرنا

 پوری دنیا کے یہودیوں کو فلسطین کی شہریت دی گئی، فلسطین میں رہنے والے عربوں کو ان کی شہریت سے محروم کر دیا گیا، دوسری طرف یہودیوں نے اسرائیل کی خوب حمایت کی، اسی لیے انہوں نے اردن کے مشرقی کنارے پر ایک مضبوط فوجی اڈہ بھی قائم کیا، تاکہ یہودیوں کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

 (خطیر الہودید: 242)

 جاری ہے ۔۔۔