پیارا فلسطین | آٹھویں قسط

#image_title

عزیز الدین مصنف:

برطانیہ کا انخلاء اور یہودی حکومت کا قیام:

 جب برطانیہ فلسطین سے نکلا تو اسرائیل نے نئی حکومت کے قیام کا اعلان کیا، اس وقت اقوام متحدہ نے جنگ روکنے کے لیے اجلاس بلایا اور یہ معاہدہ طے پایا کہ صحرائے نقب یہودیوں کے پاس ہوگا اور جلیل کا تعلق عربوں سے ہوگا۔

اقوام متحدہ نے اس فیصلے کے ساتھ کونٹ برناڈوٹ کو فلسطین بھیجا، عربوں نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا، اس لیے اس نے یہودیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر عرب صحرائے نقب یہودیوں کو نہ دیں تو یہودی جلیل کو لے صحرائے نقب کو رہنے دیں، جب یہودیوں نے یہ سنا تو برنارڈ کو اشرنین (یہودی جنگجو گروپ) کے سربراہ نے موقع پر ہی ہلاک کر دیا، برنارڈ نے اقوام متحدہ کے نمائندے کو قتل کر دیا تھا لیکن جب وہ نیویارک گئے تو اس کا پرتپاک استقبال کیا گیا، اس لیے کہ اقوام متحدہ کے لیے یہودی اہم تھے نہ کہ اس کے ممبران میں سے ایک.

سب سے نایاب بات یہ تھی کہ جب امریکہ نے فلسطین کی تقسیم کی بات کی، جب بھی اسے کوئی اہلکار رد کرتا تو اسے فوراً مار دیا جاتا،جیمس فرستال امریکہ کے ملٹری کونسل کے رکن نے جب اس رائے کی مخالفت کردی تو اسے نوکری سے نکال دیا گیا، یہاں تک کہ اسے یہودیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر طور پر ہلاک کر دیا گیا۔ ( في جهة ما جنوب السويس دوجلاس ريد)

 جنگ کے بعد اسرائیل نے 202 دیہات کو تبدیل کیا، 200 مساجد کو مسمار کر دیا اور یہاں تک کہ مقبروں کے نقش دار پتھروں کو بھی فروخت کر دیے۔ (اضطھاد العرب جامعه الدول العربيه طبع قاهره، ۱۹۵۵ء)

 غور طلب بات یہ ہے کہ جن ممالک نے اسرائیل کو سرکاری طور پر تسلیم کیا ان میں روس، برطانیہ اور امریکہ تھے۔

  (فلسطین والضمير الانساني) کتاب کے مصنف علوبہ لکھتے ہیں:

 سوویت یونین اور امریکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے علاوہ کسی چیز پر متفق نہیں ہوئے۔

 اگر کوئی پوچھے کہ یہودیوں کی ترقی کیا ہے؟

 جواب:

 • امریکہ اور انگلینڈ کے مشترکہ مفادات

 • مسلمانوں کی غفلت

 • اپنے لیے یہود کی کوششیں۔

 صیہونیت کا آغاز، بین الاقوامی کفر فلسطین کے شکار کی امیدوار:

 19ویں صدی کے آخر میں یورپ یہودیوں کے شر وفتنوں سے پریشان تھا، اس کے ساتھ ساتھ روس کے بعض علاقوں میں رہنے والے یہودی بھی اقوام کو اپنے زیر تسلط لانے میں مصروف تھے، یہودی خودمختاری کے لیے اپنے لیے حکومت تلاش کر رہے تھے، یہاں تک کہ مشرق اور مغرب ان کے شیطانی منصوبوں سے تنگ ہوگئے۔

انیسویں صدی میں یورپی حکومتوں نے یہودیوں کو سائیڈ پر کرنے کیلئے کوششیں شروع کی، اس وقت ہرٹزل نامی آسٹریا کے ایک یہودی مصنف نے 1896ء میں ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا (یہودی ملک)۔

اس کتاب میں اس نے یہودیوں کے لیے ایک علیحدہ ملک بنانے کی درخواست کی، ہرٹزل کی درخواست بعد میں صیہونی نظریے میں تبدیل ہو گئی۔

 جاری ہے۔۔۔

  • السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
    بہت خوب سلسلہ ہے
    کیا ہی اچھا ہو کہ اس سلسلے کو فلمایا بھی جائے
    اور بہترین اردو لب ولہجہ کی رعایت بھی رکھی جائے
    تاکہ عام و تام نفع ہو ۔
    فقط والسلام
    آپ کا خیر اندیش
    محمد بن اسماعیل