پاکستان کیا چاہتا ہے؟

#image_title

پاکستان کیا چاہتا ہے؟

اویس احمد

 

پاکستان شدید معاشی بحران کا شکار ہے، بجائے اس کے کہ حکومت اصلاحات لے کر آئے اور اخراجات کم کرے، وہ بیرونی دنیا بالخصوص مغربی ممالک کے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہے، مغربی ممالک پھر اس کے ساتھ مشروط تعاون کرتے ہیں۔ چند ڈالروں کے حصول کے لیے پاکستان آج اپنے ہی ملک کے اندر اپنی ہی عوام پر حملے کر رہا ہے، بے گناہ عوام شہید ہو جاتے ہیں اور اس کی ذمہ داری داعشی خوارج قبول کر لیتی ہے۔ ایک طرف حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ انہیں واقعات کی وجہ سے ملک شدید مسائل کا شکار ہے، اور اس کی خاطر مغرب سے مدد مانگتی ہے، جبکہ دوسری طرف داعش کے لیے پراپیگنڈہ مہم چلا رہی ہے۔

حال ہی میں اس نے افغان مہاجرین کے ساتھ ظلم سے بھر پور فیصلہ جاری کیا ہے، ان مظلوموں کا سرمایہ وہاں پھنسا ہوا ہے، ان کے ذاتی گھر وہاں موجود ہیں، اس مختصر وقت میں وہ پاکستان نہیں چھوڑ سکتے۔

اس کے ساتھ ساتھ افغان حکومت اس مشکل وقت میں سخت دباؤ میں ہے کہ ان لوگوں کی آبادکاری کی فکر کرے، لیکن پاکستان ایک بار پھر انہیں مہاجرین کے نام پر امداد وصول کر لے گا۔

یہ افواہیں بھی ہیں کہ داعشی خوارج کو ان مہاجر کیمپوں میں لایا جائے گا، امارت اسلامیہ افغانستان کے خلاف انہیں تربیت دی جائے گی اور افغانستان میں ایک اور جنگ شروع کی جائے گی۔ لیکن افغانستان اس صورتحال سے نکل چکا ہے جو پاکستان کے خیال میں ہے اور یہ فیصلہ ہو سکتا ہے پاکستان کے لیے فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث بنے۔