پاکستان میں داعش کی وسیع پیمانے پر موجودگی افغانستان اور خطے کی سلامتی کے لیے بڑا چيلنج 

#image_title

پاکستان میں داعش کی وسیع پیمانے پر موجودگی افغانستان اور خطے کی سلامتی کے لیے بڑا چيلنج

أبو محمد

کچھ عرصہ قبل المرصاد ادارے نے ایک اہم رپورٹ میں کہا تھا کہ داعشی خوارج خطے (پاکستان، افغانستان، ایران) میں دینی مذہبی علمائے کرام کو قتل کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے، اور المرصاد نے دعویٰ کیا تھا کہ امارت اسلامیہ کے انٹیلی جنس اداروں کے پاس حملہ آوروں کے بارے میں مکمل معلومات تھیں، جسے انہوں نے پاکستانی اور ایرانی حکام کے ساتھ شیئر بھی کیا تھا۔

انہوں نے پاکستانی علمائے کرام کو بھی مشورہ دیا تھا کہ وہ حکومت پر بھروسہ نہ کریں اور اپنی حفاظت خود یقینی بنائیں۔

اسی طرح امارت اسلامیہ نے افغانستان میں مذکورہ منصوبے پر عمل درآمد کرنے والے دواعش کو ہلاک کر دیا تھا۔

لیکن پاکستانی فریق کی بے حسی اور عدم توجہی کے باعث پاکستان میں اس وقت سے علمائے کرام کا قتل جاری ہے، دو روز قبل کراچی میں ایک سلفی عالم دین شیخ ضیاء الرحمان کو شہید کر دیا گیا، اور گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما حافظ حمد اللہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

امارت اسلامیہ کی آمد کے ساتھ ہی افغانستان میں داعش کی بھاگ دوڑ ختم ہو گئی ہے اور امارت اسلامیہ خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر اس فتنہ کو مزید روکنا چاہتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستانی حکام نے ان کو سنجیدہ نہیں ليا۔

پاکستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی لہر جیسے افغانستان اور خطے کی سلامتی کے لیے چیلنج ہے ایسا ہی داعش کے حوالے سے پاکستانی حکومت کی نیت پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ وہ یا تو داعش کو جان بوجھ کر فعالیت کی اجازت دیتے ہیں یا پھر ان کو روکنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

بہرحال پاکستانی مذہبی طبقے کو اپنی سیکیورٹی پر خود نگاہ رکھنی چاہیے تاکہ علماء کی جان لیوا حملوں جیسے عظیم نقصانات سے محفوظ رہیں۔