پاکستان میں افغان مہاجرین کے خلاف مظالم میں داعش کا کردار

#image_title

پاکستان میں افغان مہاجرین کے خلاف مظالم میں داعش کا کردار

ابو محمد

حال ہی میں پاکستان کے خفیہ اداروں اور ان کے زیر اثر نگران حکومت نے بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں سے ڈالر وصول کرنے اور ان سے مالی امداد کے حصول کے لیے افغان مہاجرین کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، اور منصوبہ یہ بنایا ہے کہ انہیں گرفتار کیا جائے، ان کی تذلیل کی جائے اور ان کی جائدادیں ضبط کرنے کا نوٹس جاری کیا جائے۔ لیکن یہ ان کے لیے آسان نہیں تھا، کیونکہ وہ ہر سال افغان مہاجرین کے نام پر عالمی برادری سے ڈالر وصول کرتے ہیں اور اب ایسا کرنا مہاجرین سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی۔

اس لیے انہوں نے ایک منصوبہ بنایا کہ ہمیں کوئی ایسا بہانہ تلاش کرنا چاہیے کہ جس سے افغان مہاجرین کو بھی زبردستی واپس بھیجا جا سکے اور اپنے ہدف (ڈالروں) کو بھی حاصل کیا جا سکے۔ پاکستانی خفیہ اداروں نے اس اہم ہدف کے حصول اور مسلمانوں کو مجبور کرنے کے لیے ماضی کی طرح ایک بار پھر داعشی خوارج کو استعمال کیا۔

پاکستانی حکام نے داعشی خوارج کی مدد سے پاکستان میں مساجد، مدارس اور علمائے کرام پر حملے کیے اور دعویٰ یہ کیا کہ ان حملوں میں افغان مہاجرین ملوث تھے، اور ان کے خلاف ایک عظیم انسانی آفت برپا کی، ظلم، جبر، بربریت اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا اور ساتھ میں یہ کہہ دیا کہ یکم نومبر تک تمام مہاجرین پاکستان سے نکل جائیں۔

پاکستانی حکومت افغان مہاجرین کی املاک، جائیدادوں، بینک اکاؤنٹس اور نقدی کو لوٹ کر اپنی تباہ ہوتی معیشت کو سہارا دینے کا ارادہ رکھتی ہے، لیکن افغان حکومت انہیں کسی صورت بھی اس کی اجازت نہیں دے گی اور اپنے افغان بھائیوں کی پشت پر چٹان بن کر کھڑی رہے گی۔

لیکن پاکستانی حکومت کی طرف سے لاکھوں افغان مہاجرین کے خلاف اس عظیم وحشت کا سبب اور بہانہ داعش خوارج بنے۔

لعنة الله عليهم