پاکستان میں افغان مہاجرین کی حالت زار اور داعش کے حملے

#image_title

پاکستان میں افغان مہاجرین کی حالت زار اور داعش کے حملے
صلاح الدین (ثانی)

جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پڑوسی ملک پاکستان میں افغان مہاجرین کی حالت روز بروز ابتر ہوتی چلی جا رہی ہے اور آئے روز پاکستانی حکومت افغان مہاجرین کے ساتھ ویسا ہی برا سلوک کر رہی ہے جیسا فلسطینیوں کے ساتھ یہودی کرتے ہیں۔ میں یہ بات جذبات میں آ کر نہیں بلکہ اسلامی اور انسانی ہمدردی کے باعث کر رہا ہوں۔
پاکستان کی طرف سے افغان مہاجرین کے ساتھ اس طرح کی بربریت اور اس کے ساتھ داعش کے حملے کیا معنی رکھتے ہیں؟
۱۔ قبائلی علاقوں میں داعش کے حملے، پاکستانی آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر ترتیب دیے گئے ہیں جن میں صرف قبائلی علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ عالمی برادری کو قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی کی فعال موجودگی دکھائی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ عوامی مقامات، مساجد اور مدارس میں داعش کی موجودگی کی نشاندہی بھی کی جائے۔
اس کا سب سے بڑا اور اہم ہدف یہ ہے کہ عالمی برادری کے سامنے موجودہ افغان حکومت کو ان گروہوں کی آمد و رفت میں ممد و معاون ثابت کیا جائے۔ داعش قبائلی علاقوں میں عام عوام پر اپنے وحشیانہ حملے کرنا چاہتی ہے اور اس کے پیچھے پاکستانی خفیہ اداروں کا ہاتھ ہے، کیونکہ انہوں نے خفیہ طور پر ’خان‘ نامی داعش کے رکن کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا۔
۲۔ افغان مہاجرین کو زبردستی ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی حکومت افغان مہاجرین کو ان کے گھروں سے اس لیے بے دخل کر رہی ہے تاکہ پاکستانی قوم کے سامنے خود کو مرنے والوں کے لواحقین کا خادم ثابت کر سکیں، اور ان کی ترتیب دی گئی خفیہ کاروائیوں کو، جو انہوں نے داعش کے ساتھ مل کر کیں، چھپایا جا سکے۔ داعش نے بھی اپنے شیطانی مکر و فریب کے ساتھ ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، کیونکہ ایسا کرنے پر پاکستانی حکومت سوالات کی زد میں آ جاتی۔
پاکستانی حکومت اور داعش میں کوئی فرق نہیں کیونکہ ان دونوں کا روحانی استاد اسرائیل ہے۔
جیسے یہودیوں نے فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے نکال باہر کیا، داعش نے بھی افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں افغان مسلمانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا، اسی طرح اب پاکستانی حکومت بھی اقدامات کر رہی ہے اور قبائلی علاقوں میں عام مسلمانوں کو گھر سے بے گھر کر رہی ہے اور ان پر ظلم ڈھا رہی ہے۔
اسرائیل فلسطین پر اپنا حق جتاتا ہے اور مسلمانوں کو قتل کرتا ہے، داعش خلافت کا دعویٰ کرتی ہے اور مسلمانوں کو قتل کرتی ہے اور پاکستان پھر دہشت گردی اور عدم استحکام کا دعویٰ کرتا ہے اور مسلمانوں کو قتل کرتا ہے۔
یہ تینوں بدعنوان اور کرپٹ ریاستیں اسلامی اور انسانی حقوق کے خلاف مظالم کا ارتکاب کرتی ہیں اور مغرب، انسانی حقوق کا علمبردار، یہ سب کچھ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔
آخر میں پھر میں پاکستانی حکومت سے کہتا ہوں کہ داعش کے مسلمانوں پر بزدلانہ اور وحشیانہ حملے، جس کی قیادت تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے، اسے مظلوم افغان مہاجرین پر مسلط مت کرو۔