پاکستان داعش کے ہاتھوں اپنے لوگوں کو قتل کر رہا ہے

#image_title

پاکستان داعش کے ہاتھوں اپنے لوگوں کو قتل کر رہا ہے

فیاض افغان

 

29 ستمبر 2023ء کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں داعشی خوارج نے ایک بار پھر ایک عظیم انسانیت سوز جرم کا ارتکاب کر لیا، اور اپنے عظیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کے موقع پر خودکش حملوں کے ذریعے کم از کم پچاس مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ درجنوں اور زخمی ہوئے جن میں بچے، جوان اور بوڑھے شامل ہیں۔

دین اسلام نے انسانی جان کو قیمتی اور محفوظ قرار دیا ہے، انسان کے بے مقصد قتل کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔ اور ہمارا یقین ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کی توہین کرتے ہیں، ان پر تشدد کرتے ہیں اور ان کے خون بہاتے ہیں، وہ یقیناً خدا کے غضب کے مستحق ہوں گے۔

آج مسلمان داعشی خوارج کی وجہ سے جسمانی، نفسیاتی، سماجی، سیاسی، ثقافتی، معاشی، زبانی اور جنسی پہلوؤں سے شدید تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں، اس کام سے ان کا غرض بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کو دہشت گرد اور اسلام کے بابرکت دین کو دہشت گرد دین معرفی کرنا ہے۔ ان کو تقویہ دینے کے پیچھے چند بے رحم، خود غرض، متکبر، اور جابر حکومتوں کا ہاتھ ہے جن میں سے ایک حکومت پاکستان ہے۔

اس بات کی قابل اعتماد شواہد موجود ہیں کہ پاکستان افغانستان اور خطے میں داعش کو ایک پراکسی دہشت گرد تنظیم کے طور پر ابھارنے اور مضبوط کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، اور پاکستانی حکومت کی براہ راست حمایت سے قبائلی علاقوں میں طویل عرصے سے داعش کو بھرتی کر رہا ہے، جن میں بلوچستان بھی داعش کے لیے ایک بڑا اور لاقانونیت والا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

بلوچستان میں ہونے والے حملے اور اسی طرح کے دیگر حملوں کے بارے میں معلومات اور ان جرائم میں ملوث افراد کے نام افغانستان کی انٹیلی جنس اداروں کے جانب سے وقتاً فوقتاً پاکستان کی انٹیلی جنس اداروں کو دی جاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود حکومت پاکستان نے افغانستان کی انٹیلی جنس معلومات پر کوئی توجہ نہیں دی اور اس طرح کے حملوں کو روکا نہیں، اور ہم ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں مساجد، اجتماعات اور دینی مدارس ایسے انسانی اور اسلام دشمن جرائم کا نشانہ بنتے ہیں۔

بے گناہ اور بے خبر لوگ مارے جاتے ہیں، ایسے دل ہلا دینے والے واقعات کی روک تھام میں ناکامی یہ پیغام دیتی ہے کہ حکومت پاکستان داعش کے ہاتھوں اپنے لوگوں کو ذلیل، محکوم اور آخر کار قتل کرنے اور اس کے بدلے میں اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن یہ معاہدہ انہیں سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں دے گا۔