پاکستان اور افغان حکومتوں کے درمیان مسئلہ کہاں ہے؟

اسد اللہ وحیدی ، معاون پروفیسر کابل یونیورسٹی

#image_title

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افغانستان پر امریکی قیادت میں حملے کے دوران افغانستان میں ہمسایہ ممالک کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی تھی۔ ہمسایہ ممالک کے خلاف اس نفرت کو پھیلانے کے پیچھے ان خارجی ممالک کا ہاتھ تھا، جنہوں نے گزشتہ دو دہائیوں میں افغانستان میں مداخلت کی۔گزشتہ عرصے میں افغانستان میں ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان کے ساتھ بہت سے مسائل کی بڑی وجہ یہی نفرت تھی۔

اگست 2021ء میں امارت اسلامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد موجودہ افغان حکومت کو پچھلی جمہوری حکومت سے بہت سے مسائل وراثت میں ملے ہیں۔ توقع کی جا رہی تھی کہ امارت اسلامیہ افغانستان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی، آغاز میں یہ تعلقات اچھے دکھائی بھی دئیے۔پاکستانی حکام نے بین الاقوامی سطح پر امارت کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے لابنگ کی۔ امارت نے بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کیا اور ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی کی۔ ٹی ٹی پی اور پاکستان کے درمیان بات چیت اچھی چل رہی تھی اور یہ کامیاب ہونے ہی والی تھی کہ ڈرامائی طور پر امن مذاكرات ناکام ہو گئے اور پاکستان نے اعلان کر دیا کہ وہ اب ٹی ٹی پی سے بات نہیں کرے گا۔ پاکستان میں حملوں میں اضافہ ہوا اور پاکستانی فریق نے افغان حکومت پر دباؤ بڑھا دیا اور بین الاقوامی سطح پر بھی امارت پر حملے شروع کر دیے۔افغان حکومت نے کچھ اقدامات کیے لیکن پاکستانی حکام نے بار بار کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے۔ رفتہ رفتہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ ایک انوکھا قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کی عبوری حکومت نے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے ساتھ ہی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔

موجودہ مسئلہ کیوں شروع ہوا؟

کابل میں پاکستانی حکام اور ٹی ٹی پی کے درمیان بات چیت اچھی جارہی تھی۔ مذاکرات میں حصہ لینے والے افغان حکومت کے ایک رکن نے مجھے بتایا کہ "90 فیصد معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے”، یہ )معاملہ (معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب تھا، لیکن پاکستانی فریق پیچھے ہٹ گیا۔ ایک اور اہم پیش رفت پاکستان میں فوجی قیادت کی تبدیلی تھی ۔ جب جنرل عاصم منیر پاکستانی فوج کے سربراہ بنے تو ان کا رجحان ٹی ٹی پی سے بات کرنے کے بجائے ان سے لڑنے کا تھا۔)نتیجتاً ( مذاکرات منسوخ ہو گئے اور جنگ میں تیزی آگئی۔ مسئلہ یہیں سے شروع ہوا اور پھر آہستہ آہستہ بڑھتا چلا گیا۔

پاکستانی حکام چاہتے تھے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرے، انہیں کام کرنے سے روکے، انہیں گرفتار کرے، انہیں قید کرے اور انہیں پاکستان کے حوالے کرے۔یہ درخواست امارت کی جانب سے قبول نہیں کی گئی کیونکہ ایک طرف ٹی ٹی پی نے گزشتہ برسوں میں نیٹو اور امریکہ کے خلاف ان کی مدد کی تھی اور دوسری طرف یہ کارروائیاں ان کی اقدار )روایات( کے خلاف تھیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ امارت ایک نئی حکومت کے طور پر ٹی ٹی پی کی دشمنی کو قبول نہیں کرنا چاہتی اور اپنے خلاف ایک اور محاذ کھولنا نہیں چاہتی۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے ٹی ٹی پی پر مزید دباؤ ڈالا تو امکان ہے کہ یہ داعش میں تبدیل ہوجائےگی، کیونکہ داعش خراسان کے کچھ اہم مردہ اور زندہ افرادٹی ٹی پی کے اراکین تھے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو امارت کے لیے بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

امارت اسلامیہ کی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے مجھے بتایا کہ ’’ہم پاکستان کی سلامتی میں مدد کر رہے ہیں لیکن ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے جس سے ہماری اپنی سلامتی اور وسیع تر مفادات کو خطرہ ہو۔ اگرچہ ہم پاکستان کی سلامتی میں مدد کر رہے ہیں اور یہ ہمارے لئے فائدہ مند ہے لیکن ہم عاصم منیر کی غلط پالیسیوں کی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ پاکستانی فریق کے مطالبات معقول اور زمینی حقائق کے مطابق ہونے چاہئیں‘‘۔

اب تک ایسا لگتا ہے کہ امارت پاکستان کی خواہش کے مطابق ٹی ٹی پی کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کرے گی۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ افغان حکومت پاکستان میں ٹی ٹی پی کی کارروائیوں سے ہم آہنگ ہوگی۔ ٹی ٹی پی کے اقدامات اور پاکستانی حکومت کی نا قابل عمل توقعات نے امارت کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جسے پاکستان سمجھ نہیں رہا اور امارت سے ایسی بات کا مطالبہ کر رہا ہے جو وہ نہیں کر سکتی۔

افغان حکومت پاکستان کے لیے کیا کر سکتی ہے؟

پاکستان کی ایک درخواست یہ بھی تھی کہ امارت قبائلی پناہ گزینوں کی بستیوں کو ڈیورنڈ لائن سے دور کسی جگہ منتقل کرے۔ یہ وہ پناہ گزین ہیں جو قبائلی علاقوں میں پاکستان کی ماضی کی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے سرحد پار کر کے افغانستان میں داخل ہوئے ہیں۔امارت نے یہ کام کر دیا، لیکن اس کے ساتھ پاکستانی فریق کو یہ پیغام بھی دیا کہ یہ پھر بھی اس مسئلے کا اساسی حل نہیں ہے، بلکہ اس کا اصلی حل ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات اور امن قائم کرنا ہے، اس وقت امن آسان اور سستا ہے لیکن اگر پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان لڑائی میں توسیع ہوئی اور پاکستان اور امارت کے درمیان تعلقات مزید خراب ہوئے تو یہ امن مشکل اور مہنگا ہوگا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستانی حکام نے ٹی ٹی پی کے اہم مطالبات کے بارے میں اپنے لوگوں کوغلط معلومات فراہم کیں۔ یہ بالکل ان جھوٹی معلومات کی طرح ہے جنہیں وہ گزشتہ 20 سالوں سے بیان کرتے آئے ہیں کہ "افغانستان میں ہندوستان کے 12 قونصل خانے ہیں‘‘۔ ٹی ٹی پی کے کچھ مطالبات سخت ضرورہوں گے لیکن کابل میں ہونے والے مذاکرات میں ٹی ٹی پی اپنے کچھ مطالبات سے دستبردار ہوئی اور صرف وہی مطالبات باقی رہ گئے تھے جنہیں قبول کرنا پاکستان کے لیے مشکل نہیں تھا۔

ان کے بنیادی مطالبات یہ تھے کہ پاکستانی حکومت قبائلی علاقوں کو لڑائی میں ہونے والی تباہی کا معاوضہ دے، ان کے قیدیوں کو رہا کرئے، پاکستانی حکومت قبائلی علاقوں سے فوج واپس بلائے اور وہاں موجود قبائلی قوانین ) ایف سی آر(کو واپس بحال کرے۔ یہ وہ مطالبات ہیں جنہیں قبول کرنا پاکستان کے لیے طویل جنگ میں مصروف رہنے کے مقابلے میں آسان اور سستا ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور عوام کو سمجھنا چاہئے اور ان پر اپنا موقف رکھنا چاہئے۔ اس مسئلے کا پرامن اور مذاکراتی حل نہ صرف پاکستان کے لیے آسان راستہ ہوگا بلکہ اس سے امارت کو بھی اس مسئلے سے نجات ملے گی۔ مندرجہ بالا دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے نظر یہ آتا ہے کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کرے گی اور پاکستانی حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے متبادل راستہ تلاش کرنے میں امارت کی مدد کر سکتی ہے۔

پاکستانی حکمرانوں میں ایک یہ رائے بھی پائی جاتی ہے کہ ٹی ٹی پی پر افغانستان کی سرزمین کے اندر حملہ کیا جانا چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو حالات تصور سے بھی بدتر ہو سکتے ہیں کیونکہ امارت ردعمل کا مظاہرہ کرے گی اور اپنی ساکھ کی خاطر اسی انداز میں اسے جوابی کارروائی کرنا پڑے گی۔ یہ وہ چیز ہے جسے دونوں طرف کے عوام نہیں چاہتے اور اس کا فائدہ براہ راست دونوں ملکوں کے دشمنوں کو پہنچتا ہے۔ اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ امارت مجبوراً ٹی ٹی پی کو ایک نظام کے طور پر مدد کرے گی اور اس سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

لیکن اس ساری کشیدگی کے باوجود امارت افغانستان میں پاکستان کے ساتھ تنازع کے حق میں نہیں ہے۔ افغان حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے مجھے بتایا کہ ’’یہ مسائل مستقل نہیں رہیں گے۔ اگر ہم افغان حکومت کے خلاف الزامات اور افغان پناہ گزینوں کی جبری بے دخلی سمیت پاکستانی حکومت کے بہت سے دیگر غلط اقدامات پر نظر ڈالیں تو ہم ان سب کو پاکستان کے عوام اور پوری حکومت کا نہیں بلکہ ایک مخصوص حلقے کا کام سمجھتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ صورتحال بدل جائے گی اور اس خاص طرز کی حکمرانی جاری نہیں رہے گی‘‘۔

دوسری جانب اگر ہم پاکستان سے افغان مہاجرین کی بے دخلی کے حوالے سے پاکستانی عوام اور سیاست دانوں کے موقف پر نظر ڈالیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجودہ کشیدگی پاکستان کے اندر ایک مخصوص حلقے کے فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستانی سیاسی جماعتوں اور عوام میں اس بات کو سمجھنے میں کمی نظر آتی ہے کہ اصلی مسئلہ کس نے پیدا کیا اور کون جنگ پر اصرار کر رہا ہے۔ لیکن پاکستان میں یہ صورتحال بدلتی نظر نہیں آرہی اور حالات میں بہتری کے امکانات کم ہیں۔ آخر میں اس کا حل معقول مطالبات اور زمینی حقائق پر مبنی بات چیت اور مذاکرات میں ہے۔ درشت الفاظ کے تبادلے اور میڈیا میں سخت بیان بازی اور الزامات تراشی سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوگا اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ کشیدہ صورتحال مزید خراب ہوگی۔