پاکستانی قوم اپنی حکومت کے زیرِ سازش

#image_title

پاکستانی قوم اپنی حکومت کے زیرِ سازش

 

وقتی تبصرہ

 

ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دو خونریز حملوں میں 60 سے زائد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔

ان دونوں دھماکوں کا ہدف مذہبی مراکز اور تقریبات تھیں۔

مستونگ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کی تقریب کے موقع پر مسجد کے قریب حملہ ہوا، اور دوسرا حملہ ہنگو شہر کے ایک مسجد میں ہوا۔

المرصاد کو موصول ہونے والی معلومات اور پچھلے واقعات کے تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس جرم کے پیچھے بھی داعشی خوارج ہیں۔

نئی پالیسی کے مطابق داعشی خوارج زیادہ تر ان حملوں کی ذمہ داری کو قبول نہیں کرتے جو ان کی طرف سے مذہبی مراکز اور تقریبات پر کیے جاتے ہیں، کیونکہ بعض کا خیال ہے کہ یہ کام ( اگرچہ خارجی نظریے کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے) اس سے داعش تنظیم کے بارے میں لوگوں کی منفی ذہنیت کو تقویت ملتی ہے۔

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس جرم کا ارتکاب داعشی خوارج نے کیا تھا لیکن اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ پاکستانی حکومت بھی ان واقعات میں سہولت کاری کی اپنی ذمہ داری سے نہیں بھاگ سکتی،

 

اب تک پاکستان میں جتنے جرائم ہوئے پاکستانی حکومت نے افغانستان پر الزام عائد کیا ہے۔

مستونگ اور ہنگو کے دھماکوں سے قبل باجوڑ میں علمائے کرام کے ایک جلسے میں ہونے والے دھماکوں میں جہاں بھاری جانی نقصان ہوا وہیں پاکستان نے اس کا الزام افغانستان پر عائد کیا۔

باجوڑ حملے کی الزام افغانستان پر لگانا یقیناً غیر منصفانہ، اپنی ذمہ داری سے بھاگ اور امارت اسلامیہ کے حوالے سے پاکستانی عوام کی ذہنیت کو خراب کرنے کی ناکام کوشش تھی۔

اس لیے کہ پاکستانی حکومت نے افغانستان سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر حملے سے قبل دینی مراکز اور علمائے کرام پر داعش کے منصوبے پر عمل درآمد کرنے والے ایک بڑے کردار کو گرفتار کر لیا تھا لیکن بعد میں اسے رہا کر دیا اور اس حوالے سے امارت اسلامیہ کی اطلاع اور انتباہ کو نظر انداز کر دیا۔

مستونگ اور ہنگو کے حملوں کو بھی داعشی خوارج کے اسی منصوبے کا حصہ کہا جا سکتا ہے جس کے بارے میں امارت اسلامیہ نے بہت پہلے پاکستان کے ساتھ معلومات شیئر کی تھیں تاکہ معصوم لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔

ان حالیہ خوفناک واقعات نے ظاہر کر دیا ہے کہ داعشی خوارج کسی اسلامی یا انسانی اقدار کے پابند نہیں ہیں اور انہیں اپنے علاوہ دنیا میں کوئی دوسرا مسلمان نظر نہیں آتا، جو بھی ان کی فتنہ پرور صف میں ساتھ نہیں دیتا وہ ان کا ہدف بن جاتا ہے۔

خطے کے ممالک کو سمجھنا چاہیے کہ داعش منصوبہ خطے میں عدم تحفظ اور سیکیورٹی خدشات کے لیے سرگرم ہے، اور اس کی روک تھام کے لیے ہر ملک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان میں بعض ممالک کو چاہیے کہ وہ اسلام دشمن کارروائیوں کو روکیں جن کی روک تھام کے لیے نوجوان داعش کے ہاں پناہ لے رہے ہیں، بعض کو اپنی سرحدوں کو کنٹرول کرنا چاہیے اور کچھ دوسرے ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے انٹیلی جنس مقاصد کے حصول کے لیے اس مذموم منصوبے کی بالواسطہ یا بلا واسطہ حمایت بند کریں۔

 

ذمہ داری سے بھاگنا اور اپنے چھت کا برف دوسرے کے چھت پر پھینکا مسائل کا حل نہیں ہے۔