وسطی ایشیا میں داعش کا فتنہ

#image_title

وسطی ایشیا میں داعش کا فتنہ

اويس احمد

المرصاد کی حال ہی میں نشر کی گئی ایک دستاویزی فلم "وشهدشاهدمن أهلها”  میں داعش کے چند ارکان نے  اپنی حقیقتِ حال بیان کی ہے ۔ داعش کے ان ارکان کا تعلق تاجکستان سے ہے ، یہ وہ لوگ ہیں جو شریعت اور جہاد کی محبت میں گھروں سے نکلے لیکن داعش نے ان کے جذبات کا استحصال کیا اور انہیں گمراہی کے راستے پر ڈال دیا۔

سوویت یونین کی افغانستان میں شکست کے بعد، وسطی ایشیا کے اسلامی ممالک نے بھی  اپنی آزادی کا اعلان کیا ، جس کے ساتھ ہی سوویت سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ لیکن  جس طرح دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپی استعمار سے مسلم ممالک نے آزادی حاصل تو کر لی لیکن آزادی کے نام پر یورپی استعمار نے اپنی ہی کٹھ پتلیوں کو ان ممالک میں حاکم بنا دیا ، یہی معاملہ وسطی ایشیا کے اسلامی ممالک کے ساتھ بھی ہوا۔ وہاں کے مسلمانوں کے لیے آزادی صرف علامتی تھی ، حقیقت میں  فرق صرف اتنا پڑا کہ بیرونی جابر حکمرانوں کی غلامی سے نکل کر وہاں  کے مسلمان مقامی جابر حکمرانوں کی غلامی میں داخل ہو گئے ۔

سوویت دور میں شعائرِ اسلام پر عمل کرنا جرم تھا اور نام نہاد آزادی حاصل کرنے کے بعد آج بھی وسط ایشیائی ممالک میں داڑھی رکھنے، نماز پڑھنے اور قرآن کی تعلیم حاصل کرنے جیسے بنیادی اسلامی شعائر پر عمل کرنے والےمسلمان ریاستی جبر کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس ریاستی جبر کے نتیجے میں وسطی ایشیاء کے مسلمانوں کی اکثریت اپنے دینی عقائد اور اسلامی روایات سے ہاتھ دھو بیٹھی ، نام کی حد تک مسلمان رہ گئی  اورانہوں نے درحقیقت سیکولرازم کو اپنا دین بنا لیا۔

سوویت یونین کی افغانستان مین شکست کے بعد پوری اسلامی دنیا میں عمومی جہادی بیداری اور پھر امارت اسلامیہ کی فتح نے  وسطی ایشیا کے نوجوانوں کو بھی پھر سے اسلام کی طرف مائل کیا اور ان نوجوانوں کے اندر شریعت اور جہاد کی محبت اور اسلام مخالف جابر حکمرانوں سے بغاوت کا جذبہ پیدا ہوا۔ لیکن بدقسمتی سے ان نوجوانوں کو ایسا قائد میسر نہ آسکا جو ان کی رہنمائی کر سکے اور ان کے مقدس جذبات کو درست سمت میں استعمال کر سکے۔

داعش کی طرف سے  عراق و شام میں نام نہاد خلافت کے اعلان نے  اسلام مخالف ریاستی جبر سے تنگ وسطی ایشیا کے مسلمان نوجوانوں کو جہاد کے لیے اور اسلامی خلافت کے سائے میں زندگی گزارنے کے لیے شام جانے کی ترغیب دلائی، لیکن ان نوجوانوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ جسے وہ اسلامی خلافت سمجھ رہے ہیں وہ حقیقت میں مسلمانوں کے خون سے غدّاری کرنے والا ایک گمراہ ٹولہ ہے، جس کی اوّلین ترجیح غاصب و ظالم کفّار نہیں بلکہ بالعموم عام مسلمانوں کا اور بالخصوص مجاہدین کا خون بہانا ہے۔مسلمان نوجوان شریعت اور جہاد کی محبت میں بڑی تعداد میں داعش میں شامل ہو رہے تھے  لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ داعش اسلامی خلافت کا نام استعمال کر کے حقیقت میں امریکی مفادات کے لیے کام کر رہی ہے۔

اس حوالے سے ایک اہم مثال گلمرود حلیموف  کی ہےجو   وسطی ایشیاء سے تعلق رکھنے والا داعش کا مشہور کمانڈر تھا۔ اس نے ۲۰۱۵ء میں داعش کی بیعت کی اور وسطی ایشیاء  میں خلافت کی صدا بلند کی اور پھر شام چلا گیا جہاں ۲۰۱۶ء میں اسے داعش کا وزیر دفاع مقرر کر دیا گیا۔  مسلمان نوجوانوں نے ، بالخصوص وسطی ایشیا ء کے مسلمان نوجوانوں نےاس پر بھرپور اعتماد کیا، انہیں کیا خبر تھی کہ گلمرود حلیموف حقیقت میں امریکی ایجنٹ ہے۔

گلمرود حلیموف داعش میں شمولیت سے پہلے تاجکستان میں سپیشل فورسز کا سربراہ تھا۔ ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۲ء کے درمیان تاجکستان میں  اسلام پسندوں کی طرف سے حکومت کے خلاف اٹھنے والی  بغاوت کو کچلنے میں اس کا کلیدی کردار رہا۔ ۲۰۰۳ء سے ۲۰۱۴ء تک حلیموف نے براہ راست امریکہ سے، تاجکستان میں بھی اور امریکہ کے اندر بھی، پانچ بار دہشت گردی کے خلاف تربیتی کورس کیے ۔ امریکہ کی طرف سے دہشت گردی (یعنی جہاد) کے خلاف تربیت مکمل کرنے کے بعد اسے امریکہ ہی کی ہدایات پر  داعش میں شامل کر دیا گیا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ حلیموف  داعش میں شمولیت سے عین پہلے تک ایک بے دین اور ملحد شخص تھا اور اسے کسی قسم کی دینی تعلیم حاصل نہیں تھی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ تاجکستان کی اسلام دشمن سپیشل فورسز کا سربراہ بھی تھا۔ لیکن داعش میں شمولیت کےصرف  ایک سال کے اندر اس نے اتنی اعلیٰ سطح تک رسائی حاصل کر لی کہ  اسے  داعش کا  مرکزی وزیر دفاع مقرر کر دیا گیا۔

امریکہ کے وسطی ایشیاء میں چند اہم اسٹریٹیجک اہداف ہیں، جن کے حصول کے لیے امریکہ داعش کو استعمال کر رہا ہے۔ یہ اہداف درج ذیل ہیں:

1.    افغانستان میں ۲۰ سالہ جنگ کے بعد امریکہ اور اس کے اتحایوں کی بد ترین شکست اور امارت اسلامیہ افغانستان کی فتح نے  پوری دنیا کے مسلمانوں میں امید اور حوصلے کی نئی روح پھونک دی ہے۔ امریکہ کو خطرہ ہے کہ اس کا براہ راست اثر وسطی ایشیا کے اسلامی ممالک پر پڑے گا اور امریکہ چاہتا ہے کہ ان اثرات کے راستے میں بند باندھا جائے۔

2.    عالمی استعمار نے عشروں سے وسطی ایشیا کے مسلمانوں کو کٹھ پتلی حکمرانوں کی مدد سے اسلام دے دور اور سیکولر بنا رکھا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ان مسلمانوں میں دینی بیداری پیدا نہ ہو سکے، اور اگر کچھ نوجوان دین کی طرف راغب ہو بھی جائیں  توانہیں بھی درست  سمت کی طرف رہنمائی نہ مل سکے بلکہ وہ گمراہ ہو جائیں۔

3.    روس آج بھی امریکہ کا حریف ہے  اور امریکہ کی عالمی طاقت کو چیلنج کرتاہے۔ روس اور چین کے معاشی اتحاد نے پوری دنیا میں امریکہ کی اجارہ داری کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ  روس کی سرحدات سے جڑے اسلامی ممالک کو روس کے لیے غیر محفوظ بنا دے  اور روس کو کمزور کر دے تاکہ وہ بین الاقوامی امور میں امریکہ کے مد مقابل نہ آسکے۔

امریکہ  کے پاس وسطی ایشیا میں ان اہدا ف کو حاصل کرنے کے لیے بہترین ہتھیار داعش ہے، جسے استعمال کر کے وہ ایک تیر سے کئی شکار کرنا چاہتا ہے۔ مثلاً:

·       وہ داعش کو امارت اسلامیہ افغانستان کے ساتھ لڑوا کر امارت اسلامی کو کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی شکست کا بدلہ لے سکے۔

·       وہ چاہتا ہے کہ داعش اور امارت اسلامیہ کی جنگ کے ذریعے سے امارت اسلامیہ افغانستان کو ناکام بنا دیا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ آج کے دور میں اسلامی شریعت کا نفاذ مسائل کا حل نہیں بلکہ مسائل کا باعث ہے اور مسائل کا اصل حل مغربی تہذیب اور اقدار  کے نفاذ میں ہے۔

·       جو لوگ بھی دین کی طرف آنا چاہیں، جہاد کرنا چاہیں ، وہ درست سمت میں جانے اور برحق جہاد کرنے کی بجائے  داعش جیسے خوارج کے ساتھ مل کر گمراہ ہو جائیں، خود بھی گمراہ ہوں اور اسلام کی بدنامی کا بھی باعث بنیں۔

·       عام مسلمان داعش کی خوارج کی طرز کی اور غلو پر مبنی فکر   اور پر تشدد اوراسلام مخالف طرز عمل کو دیکھ کر جہاد سے متنفر ہو جائیں ، اسلامی تعلیمات کو ترک کر دیں اور سیکولرازم کو اپنائے رکھیں۔

لیکن امریکہ نہیں جانتا کہ اگرچہ اسلامی تاریخ میں پہلے بھی کئی بار گمراہ افکار  اور خوارج کے فتنے نے ضرور سر اٹھایا ہے ، لیکن یہ گمراہ افکار  زیادہ دیر تک اپنا وجود برقرار نہ رکھ پائے اور آج ان کا نام و نشان صرف تاریخ کی کتابوں ہی میں ملتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ کفّار اسلام کو شکست دینے کے لیے اس طرح کے فتنے اٹھا رہے ہیں لیکن ہمیشہ کی طرح اب بھی ان کی چالیں ان ہی پر الٹی پڑ رہی ہیں۔

يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ ۭ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ

یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔ اور  اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کے لیے یہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔

امارت اسلامیہ افغانستان پر عزم ہے کہ جب تک وہ خوارج العصر کے اس فتنے کو افغانستان میں جڑوں سے اکھاڑ نہیں پھینکے گی  تب تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔  اور وہ وقت بھی دور نہیں جب خوارج العصر کا یہ فتنہ بھی ماضی کے دیگر فتنوں کی طرح صرف  تاریخ کی کتابوں کی سیاہی  بن کر رہ

جائے گا۔ بإذن اللہ۔