نومبر سے اگست تک، عالمی تکبر نے اپنی ورثے میں صرف داعش چھوڑی

#image_title

نومبر سے اگست تک، عالمی تکبر نے اپنی ورثے میں صرف داعش چھوڑی

رحمت اللہ فیضان

 

امریکہ میں دو تجارتی عمارتوں پر دو ہائی جیک کیے گئے طیاروں کے ذریعے مہلک حملہ کیا گیا، جس میں تقریباً تین ہزار افراد مارے گئے۔ امریکہ نے بلا تاخیر اس حملے کا ذمہ دار عرب مجاہد اسامہ بن لادن کو قرار دیا، جو اس وقت القاعدہ نامی عرب مجاہدین کی تنظیم کے سربراہ تھے۔ امریکیوں نے اعلان کیا کہ امریکی تجارتی عمارتوں پر حملوں کی منصوبہ بندی ۱۹۹۹ء میں اسامہ بن لادن نے کی تھی اور اس مقصد کے لیے انہوں نے صوبہ لوگر کے مس عینک کیمپ میں افراد کو تربیت دی تھی۔

اس حملے کے فوراً بعد امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اسامہ بن لادن کو ذمہ دار ٹھہرایا جو اس وقت افغانستان میں مقیم تھے۔ ایک کانفرنس میں اس نے افغان حکومت کے سامنے پانچ حتمی نکات رکھے:

۱۔ القاعدہ کے تمام رہنماؤں کو امریکہ کے حوالے کر دیا جائے۔

۲۔ طالبان کی جیلوں میں جتنے غیر ملکی قیدی ہیں انہیں رہا کر کے امریکہ کے حوالے کیا جائے۔

۳۔ اسامہ بن لادن سے مربوط تمام ٹریننگ کیمپ بند کر دیے جائیں۔

۴۔ تمام دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کی نشاندہی کر کے انہیں امریکہ کے حوالے کیا جائے۔

۵۔ امریکہ کو دہشت گردوں کے کیمپوں کی چھان بین کی عمومی اور مکمل اجازت دی جائے۔

جارج ڈبلیو بش نے انتہائی تکبر کے ساتھ اعلان کیا کہ دہشت گردوں کو حوالے کر دیا جائے ورنہ وہ (طالبان) اپنا انجام بھگتیں گے، ہماری جنگ القاعدہ کے خلاف شروع ہو گی، لیکن وہاں ختم نہیں ہو گی۔

امریکہ نے نیو یارک حملوں میں ۱۹ افراد کے نام بتائے جن میں کوئی ایک بھی افغانی نہیں تھا۔ ان افراد میں پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے، دو کا متحدہ عرب امارات سے اور دو کا تعلق مصر اور لبنان سے تھا۔

افغان حکومت (اسلامی امارت) نے اس وقت پاکستان میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ امریکہ کے پاس ایسی کوئی دستاویز نہیں ہے جو وہ دکھائیں اور جس سے یہ ثابت ہو کہ نیویارک حملوں میں اسامہ بن لادن ملوث تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی اعلان کیا کہ اسامہ بن لادن ان کے ملک میں مہمان ہیں اور اسلامی اقدار اور افغان ثقافت کے مطابق اسامہ بن لادن کو افغانستان میں پناہ لینے اور قیام کا حق حاصل ہے۔

اسلامی امارت نے تین بار امریکہ سے کہا کہ اگر امریکہ کے پاس گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بارے میں درست ثبوت اور دستاویزات موجود ہیں تو وہ حوالے کریں اسے افغانستان کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، لیکن ان تجاویز کو امریکہ نے مسترد کر دیا۔

جنگ کا آغاز

امارت اسلامیہ کی جانب سے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کے بعد، امریکی افواج اور سی آئی اے نے سابق صدر حامد کرزئی کی حمایت سے ۷ اکتوبر ۲۰۰۱ء کو با ضابطہ طور پر افغانستان پر حملہ کر دیا۔ سی آئی اے کا ’سپیشل ایکٹیویٹیز ڈویژن‘(SAD) وہ پہلا امریکی فوجی دستہ تھا جس نے افغانستان کی سرزمین پر قدم رکھا۔ انہیں کو بعد میں ’یو ایس سپیشل فورسز‘ کہا گیا۔ ان کے ساتھ بعد میں ’پندرہویں میرین ایکسپیڈشنری یونٹ‘ (15th Marine Expeditionary Unit) نامی دیگر دستوں نے بھی شمولیت اختیار کر لی۔

شمالی اتحاد کے ساتھ مل کر ان فوجی دستوں نے افغان حکومت (اسلامی امارت) کے خلاف مشترکہ کاروائیاں شروع کیں، جس کے بعد برطانوی اور آسٹریلوی دستوں کو بھی امریکہ کے تعاون سے میدانِ جنگ میں اتار دیا گیا۔

۷ اکتوبر۲۰۰۱ء کو امریکی افواج کی طرف سے کابل، جلال آباد اور قندھار کے ہوائی اڈوں پر بمباری شروع ہوئی، بش نے افغانستان پر اپنی اس جارحیت کو سی این این پر نشر کروایا اور افغانستان کے لوگوں کو اطمینان دلایا کہ وہ ہوائی جہازوں کے ذریعے سے خوراک، ادویات اور کپڑے پہنچائیں گے۔

امریکی بمبار طیاروں نے افغان حکومت (اسلامی امارت) کے فضائی دفاع کے خوف سے بہت اونچائی سے بم گرائے اور قندھار، کابل اور جلال آباد میں ابتدائی اہداف کو نشانہ بنایا۔ چند دنوں کے بعد افغان حکومت کا فضائی دفاعی نظام تباہ ہو گیا اور افغان فورسز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

دو ہفتوں کے بعد، افغان حکومت کے مسلح مخالفین نے، جو حملہ آور فوجوں کے ساتھ شامل ہو گئے تھے، امریکیوں سے کہا کہ اپنی کاروائیوں کو جنگ کی فرنٹ لائن پر مرکوز رکھیں۔

نومبر ۲۰۰۱ء کے اوائل میں، افغان حکومت کی دفاعی لائنوں پر امریکی C-130 طیاروں نے BLU-82 بموں سے بمباری کی۔ افغان فورسز کی جدید جنگ سے ناواقفیت کی وجہ سے حملہ آوروں کی فضائیہ کو آسانی سے انہیں نشانہ بنانے کا موقع ملا۔

۲ نومبر کو افغان حکومت (امارت اسلامیہ) کے مسلح مخالفین نے، جو حملہ آوروں کا حصہ بن چکے تھے، افغان حکومت (امارت اسلامیہ) کی دفاعی لائن مزار شریف پر امریکی افواج کی مدد سے حملہ کیا اور طالبان کی سپلائی لائن کاٹ دی۔ اس طرح سے مزار شریف میں موجود طالبان اتحادی افواج کے محاصرے میں آ گئے۔

جنگی جرائم

افغانستان پر قبضے کے دوران، امریکہ نے سنگین جنگی جرائم کا ارتکاب کیا، جنگ کے تمام اصول و ضوابط کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا ، عام شہریوں کو قتل کیا، شہری اہداف پر بمباری کی ، قیدیوں کو سخت ترین تشدد کا نشانہ بنایا، جنگی قیدیوں کو قتل کیا، بعض اطلاعات کے مطابق انہوں نے دہشت گردی اور مسلح لوٹ مار کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا اور عام لوگوں کی اور سرکاری املاک کو تباہ کیا، مدارس پر، ہسپتالوں پر اور شادیوں پر بمباری کی، افغانستان کے شمال میں حملہ آور افواج کے مقامی غلاموں نے ۳۰۰۰ طالبان کو کنٹینروں میں ڈال کر ہلاک کیا۔ اقوام متحدہ کو بھی ایسی کئی اجتمائی قبریں ملی ہیں جن میں ہزاروں افغان باشندے ان واقعات کے بعد دفن ہوئے، لیکن امریکہ نے اقوام متحدہ کا یہ تحقیقی منصوبہ بند کروا دیا۔

امریکہ کے ایک معتبر ادارے ’براؤن یونیورسٹی‘ نے افغانستان میں امریکی قبضے کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق:

 افغانستان پر ۲۰ سالہ قبضے کے دوران دو لاکھ اکتالیس ہزار (۲۴۱،۰۰۰) افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان لوگوں میں ۷۱ ہزار ۳۴۴ عام شہری تھے جن میں سے ۴۷ ہزار ۲۴۵ افغانستان کے اندر جبکہ چوبیس ہزار ننانوے (۲۴،۰۹۹) افغانستان کی سرحد سے باہر تھے، جو ڈرون حملوں میں ہلاک ہوئے۔

 افغان پولیس اور افغان نیشنل آرمی کے ۶۹ ہزار فوجی اور ۳۵۸۶ امریکی فوجی ان بیس سالوں میں مارے گئے۔

 ۲۰۱۳ء سے ۲۰۱۹ء تک امریکی ڈرونز نے افغانستان پر ستائیس ہزار گائیڈڈ میزائلوں سے حملہ کیا۔

 ایک دہائی میں ۷ ہزار ۷۹۲ بچے ہلاک اور ۶۶۲ زخمی ہوئے۔

 ۲۰۱۰ء سے امارت اسلامیہ کی فتح تک تین ہزار خواتین ہلاک جبکہ سات ہزار سے زیادہ زخمی ہوئیں۔

حملہ آوروں کے نقصانات

اگرچہ قابض افواج کو افغانستان میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا لیکن انہوں نے اپنے جانی نقصانات کے اصلی اعداد و شمار کو اپنے ہی لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھا۔ وہ جانی نقصانات جن کا انہوں نے خود اعتراف کیا درج ذیل ہیں:

امریکہ: ۲۳۵۵۰ افراد، برطانیہ ۴۵۶ افراد، کینیڈا ۱۵۷ افراد، فرانس ۸۸ افراد، جرمنی ۶۲ افراد، اٹلی ۵۳ افراد، پولینڈ ۴۴ افراد، ڈنمارک ۴۳ افراد، آسٹریلیا ۴۱ افراد، سپین ۳۵ افراد، جارجیا ۳۲ افراد، رومانیہ ۲۶ افراد، نیدرلینڈ ۲۵ افراد، ترکی ۱۵ افراد، چیک ریپبلک ۱۴ افراد، نیوزی لینڈ ۱۰ افراد، ناروے ۱۹ افراد، ایستونیا ۹ افراد، ہنگری ۷ افراد، سویڈن ۵ افراد، لتھوانیا ۴ افراد، سلواکیہ ۳ افراد، فن لینڈ ۲ افراد، اردن ۲ افراد، پرتگال ۲ افراد، جنوبی کروشیا ۲ افراد، البانیہ ۱ فرد، بیلجئیم ۱ فرد، بلغاریہ ۱ فرد، کروشیا ۱ فرد، لتھوانیا ۱ فرد، مونٹی نیگرو ۱ فرد۔

جنگی اخراجات

امریکی محکمہ دفاع کے تخمینے کے مطابق ۲۰۰۱ء سے ۲۰۱۸ء تک امریکہ نے ۵۹۲ سے ۷۳۷ بلین ڈالر تک خرچ کیے جس میں ہر امریکی ٹیکس دہندہ نے ۳،۷۱۴ ڈالر ادا کیے۔ براؤن یونیورسٹی کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے ۲۰۰۱ء سے لے کر ۲۰۱۹ء تک ۹۷۵ بلین ڈالر سرمایہ لگایا۔

۲۰۱۳ء میں ہارورڈ یونیورسٹی میں ’جنرل پولیٹکس‘ کی پروفیسر لنڈا بیلمز نے تخمینہ لگایا کہ افغانستان اور عراق کی جنگوں میں امریکہ کو کم از کم ۴ سے ۶ ٹرلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اس طرح عراق اور افغانستان کی جنگیں امریکی تاریخ کی مہنگی ترین جنگیں بن گئیں۔

امریکی افواج اور اس کے اتحادیوں نے ۲۲ سال قبل دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نعرے کے تحت افغانستان پر حملہ کیا تھا، بیس سالہ قبضے اور اس کے نتیجے میں عظیم اور وحشت ناک جرائم کے بعد ۳۱ اگست ۲۰۲۱ء کو آخری امریکی فوجی اپنا سر جھکائے افغانستان سے نکل گیا اور اپنے پیچھے داعش نامی بدنام زمانہ منصوبہ افغانوں کے لیے چھوڑ گیا۔ الحمد للہ یہ منصوبہ بھی ان کی طرح تباہ ہوگیا۔