موجودہ اور پرانے خوارج کی مشترکہ سولہ صفات

#image_title

موجودہ اور پرانے خوارج کی مشترکہ سولہ صفات

عبد اللہ

ہم سیرت اور تاریخی کتب سے پرانے خوارج کی صفات نقل کر کے آپکے سامنے رکھتے ہیں، اور فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں کہ موجودہ خوارج یعنی داعش میں یہ نشانیاں کس حد تک موجود ہیں۔

1-تکفیر:

مسلمانوں کو کافر قرار دینا پرانے خوارج کی عادت تھی ، نافع بن الازرق خوارج کے ازارقہ گروہ کا سر براہ تھا، علامہ مبرد اور تاریخ کے دیگر علماء نے ان کا وہ فتوی نقل کیا ہے جو انہوں نے بنو ہاشم کے ایک غلام کے سوال کے جواب میں دیا تھا فشهد نافع انهم جميعاً في النار، ورأى قتلهم وقال والدار دار کفر الا من اظهر ایمانه ولا يحل اكل ذبائحهم، ولاتنا كحهم، ولا توارثهم و من جاء منهم جاء فعلينا ان نمتحنه: وهم ككفار العرب لا تقبل منهم الا الاسلام او السيف) ترجمہ : نافع نے ان کے بارے میں گواہی دی کہ یہ سب جہنم میں جائیں گے ، ان کا قتل کرنالازم ہے ، وہ یہ کہا کرتا تھا کہ یہ ( مخالفین کا وطن ) دار الکفر ہے سب کا فر ہیں صرف وہی مومن ہے جو اپنے ایمان کو ظاہر کر دے، مخالفین کا ذبیحہ حلال نہیں ، ان کے ساتھ نکاح جائز نہیں، یہ مسلمانوں کے وارث نہیں بن سکتے اگر ان یہاں سے کوئی شخص ہمارے پاس آیا تو ہم اس کے ایمان کا امتحان لیں گے ، یہ عرب کے لوگوں کی طرح کا فر ہیں ان سے صرف اسلام قبول کیا جاسکتا ہے ورنہ قتل کئے جائیں گے ( یعنی ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جا سکتا )
اس پر آپ غور کریں پھر موجودہ خوارج میں سے عدنانی کے بيانات سن لیں تو پتہ چلے گا کہ آج کا عدنانی بعینہ کل کے نافع بن الازرق کی زبان بول رہا ہے
عدنانی 5رمضان۱۴۳۶ میں اپنے ایک بیان بعنوان ” يا قومنا اجيبوا داعي الله میں یوں کہتا ہے ” فاحذر بقتال
الدولة الاسلاميه تقع با الكفر من حيث تدرى او لاتدرى تم الدولہ کے ساتھ جنگ کرنے کی بنا پر کفر میں واقع ہوتے ہو( کا فر ہو جاتے ہو) چاہیے تمہیں علم ہو يا نہ ہو۔
عجیب منطق نہیں ہے کیا ؟
اگر بالفرض مان لیں کہ یہ حقیقی اسلامی خلافت اور شرعی حکومت ہے تو پھر بھی اسلامی خلافت کے خلاف تلوار اٹھانا شریعت کی اصطلاح میں بغاوت ہے نہ کہ کفر۔
جبکہ کہ یہ تو سرے سے ایک اسلامی حکومت ہے ہی نہیں اور نہ ہم اس خلافت اور حکومت کو تسلیم کرتے ہیں۔

2-مسلمانوں کا خون بہانا:

تاریخ دیکھی جائے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ قدیم اور پرانے خوارج مسلمانوں کے خون کے پیا سے تھے، امام طبری لکھتے ہیں ( ان الخوارج لما خرجوا من العراق، فعدلوا الى المداين. فجعلوا يقتلون
النساء والولدان،ویبقرون بطون الحبالی ویفعلون افعالا لم یفعلھا غیرھم
ترجمہ: خوارج جب عراق سے نکلے اور مداین کی طرف متوجہ ہوئے تو عورتوں اور بچوں کو قتل کرتے، حتی کہ حاملہ عورتوں کے پیٹ پاک کر دینے ایسے ایسے برے کام کرتے جو ان کے سوا اج تک کسی نے نہیں کئے۔ موجودہ خوارج کو دیکھیں شام میں ان (داعشیوں) خوارج نے محمد فاتح کے گھر میں عورتوں اور بچوں تک کو معاف نہ کیا بلکہ ان کو ظالمانہ طریقے پر چھری سے ذبح کیا۔

3-اھل ذمہ کا خون حلال قراردینا:

پرانے خوارج ذمیوں (غیر مسلم جو مسلمانوں کی ذمہ داری کے تحت مسلمانوں کے ملک میں جزیہ دے کر رہتے ہوں) کے خون بہانے کو حلال سمجھتے تھے، اماں عائشہ رضی اللہ عنھا کی حدیث کا ایک ٹکڑا نقل کرتے ہے (قالت عائشه يا ابن شداد فقد قتلهم فقال والله ما بعث اليهم حتی قطعوا السبيل وسفکوا الدماء و اتحلوا الذمة الخ)
موجودہ خوارج ( داعشیوں) نے بھی عراق اور شام میں اہل ذمہ کے معاملے میں سخت ترین جرائم کئے حالانکہ ذمیوں نے ان کے خلاف تلوار بھی نہیں اٹھائی تھی اور ان داعشیوں نے ان کی عورتوں کو باندیاں بنا لیا۔

4-علماء اور ائمہ دین کے خلاف غلط باتیں کرنا اور ان کی توهین کرنا:

پرانے خوارج میں ایک صف ت یہ تھی کہ وہ علماء کا مذاق اڑاتے ان کی توہین کرتے ان کے خلاف غیر اخلاقی باتیں کرتے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عید اللہ ابن عباس رضی اللہ عنهما کو خوارج کی جانب بھیجا تو حرقوص بن زبیر نے اپنے ساتھیوں سے کہا: "يا حملة القرآن أن هذا عبد الله بن عباس من لم يكن يعرفه فانا اعرفه هذا ممن نزل فيه وفي قومه (بل هم قوم خصمون ( ” الزخرف: ۵۸) فردوه الى صاحبه و لا تواضعوه "کتاب الله ( تاریخ طبری ج ۵ ص ۷۴ البدايه والنهايه ج، ص ۲۸۳ مسند احمد (۶۵۶) یعنی حرقوص بن زہیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی کھلے عام توہین اور بے عزتی کی۔
موجودہ خوارج بھی جہادی تحریک کے قائدین اور علما کو برے القابات سے یاد کرتے ہیں جو بھی ان کی مصنوعی اور پلاسٹ کی خلافت کو نہیں مانتا اس کی حددرجہ توہین کرتے ہیں۔

5-ان میں علماء کا نہ ہونا :

ابن عباس رضی اللہ عنہ خوارج کے پاس مناظرے کیلئے تشریف لے گئے اور ان سے کہا” جئتكم من اصحاب رسول صلى الله عليه وسلم وليس فيكم احد منهم و من عند ابن عم رسول صلی اللہ علیہ وسلم وعليه نزل القرآن و هو اعلم بتأويله”
میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے آیا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے آیا ہوں جو قرآن کریم کا مطلب و تفسیر سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ اور تمہاری جماعت میں صحابہ میں سے کوئی ایک بھی موجود نہیں۔۔۔ موجودہ خوارج ( داعش) میں کوئی مستند عالم نہیں لیبیا سے الجزائر تک عراق سے افغانستان تک ان کے پاس کوئی صاحب فتوی عالم نہیں اور نہ کوئی مستند مفتی یا عالم ان میں شمولیت کے ارادے سے ان کے قریب آیا۔ حالانکہ علم کا خلافت اور حکومت سے بہت گہرا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو روئے زمین پر اپنی خلافت و حکومت دی تو علم بھی دیا جس کی بدولت انہیں فرشتوں پر فضیلت ملی مسجود ملائکہ بنائے گئے۔ علما کرام کی تائید وحمایت خلافت کے لیے ضروری
ہے۔

6-حداثة السن کم عمری:

خوارج کی ایک صفت کم عمری ہے اللہ کے نبی علیہ السلام خوراج کے متعلق فرماتے ہیں ” احداث الاسنان ” کم عمر ہوں گے موجودہ خوارج میں بھی تقریبا سب کم عمر ہیں تيس پنتیس سال سے اوپر کے بہت کم لوگ ملیں گے سب نوجوان اور کم عمر ہیں

7-آپس میں ایک دوسرے کو شکوک و شبہات کی وجہ سے قتل کرنا:

ابو نجدہ خارجی خوارج کا ایک بڑا سر براہ تھا خود خوارج نے ہی اسے قتل کیا عراقی خوارج اس کام میں بھی ان پرانوں سے پیچھے نہیں رہے بلکہ ہم مسلسل یہ خبریں سنتے ہیں کہ عراق اور شام میں کئی بڑوں بڑوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔

8-اپنی سرزمین کے علاوہ پوری دنیا کو دار الکفر کہنا:

امام ابن تیمیہ رح نے لکھا ہے( وسموا دارهم دار الهجره وجعلوا دار المسلمين دار کفر و حرب)
عدنانی نے ۱۴۳۶ مضان کے بیان میں جس کا عنوان ” يا قومنا اجيبوا داعی اللہ تھا کچھ يوں کہتا ہے دولت اسلامیہ کی سرزمین کے علاوہ کوئی ایسی زمین نہیں جہاں اللہ کا حکم نافذ ہو اور اس کو دار الا سلام کہا جا سکے۔

9-نقض بیعت :

پرانے خوارج جب اپنے امیر سے بیعت کرتے تو پھر اسے توڑ دیتے ( لما اجتمع الخوارج في بيت زيد الطائي تدافعوا الامارة حتى رضى بها عبد الله بن وهب فقالوا ها توها. أما والله لا آخذها رغبة في الدنيا و لا ادعها فزعاً من الموت فبايعوه )) موجودہ خوارج نے بھی پہلے اہل حق جہادی قائدین کی بیعت کی اور پھر نہایت ہی بودے اور کمزور دلائل کی بنیاد پر بیعت سے نکل گئے
بغدادی اپنے ایک آڈیو بیان بسلسلہ”باقیه فی العراق والشام” میں کہتا ہے ایک طرف الظواہری کا حکم تھا اور دوسری جانب اللہ کا حکم، تو ہم نے اللّٰہ کا حکم الظواہری کے حکم پر مقدم کردیا ، لیکن آخر دم تک کبھی بھی بغدادی نے وضاحت نہ کی۔ کہ الظواہری کا کونسا حکم اللّٰہ کے حکم کے خلاف تھا

10-اپنے عقیدے کے لئے کمزور اور بودے دلائل پیش کرنا:

ابو العباس المبرد بلند پایہ اسلامی مؤرخ لکھتے ہیں( ان مرداسا ابا بلال (وهو احد الخوارج) لما عقد علی اصحابه ، وعزم علی الخوارج ، رفع يديه وقال : اللهم ان کان ما نحن فيه حقا ، فأرنا آية ، قال : فرجف البيت ، وقال آخرون: فارتفع السقف ، فذکر رجل من الخوارج ذالک لابي العاليه الرياحي يعجبه من الآية ، ويرغب في مذهب القوم ؛ فقال ابو العالية : کاد الخسف ينزل بهم ، ثم ادرکتهم نظرة اللّٰه)
ترجمہ: مرداس ابو بلال خارجی نے جب نکلنے کا ارادہ کیا تو اپنے ساتھیوں کو اکٹھا کرکے دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے اور یہ دعا کی ، کہ اے خدا اگر ہم حق پر ہے تو ہمیں کوئی نشانی دکھلا دے ، کہتے ہیں کہ کمرہ ہلنے لگا اور بعض کہتے ہیں کہ کمرے سے چھت ہٹ گئی ، ابو العالیہ الریاحی کو مذھب خوارج میں شمولیت کی ترغیب دینے کے لئے کسی نے ان نشانیوں کا ذکر کیا ، تو ابوالعالیہ نے کہا کہ قریب کہ یہ زمین دھنس جاتے لیکن اللّٰہ کی دی ہوئی مہلت کے وجہ سے بچ گئے (الکامل فی التاریخ ج 5 ص64)
بالکل یہی حال داعش کا ہے مسلمانوں کے قتل جائز قرار دینے کے لئے نہایت کمزور اور بودے دلائل پیش کرتے ہیں اور انہیں ضعیف دلائل کو اپنی حقانیت کے لئے بنیاد بناتے ہیں

11-جهادی قیادت اور آئمہ علم پر طعن کرنا :
پرانے خوارج ائمہ دین کے خلاف مختلف باتیں کرتے تھے ان کا تمسخر اڑاتے ان پر طعن کرتے تھے ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں ان ابن ملجم والبرک بن عبد الله التميي و عمر و بن بكر التميمى ايضاً اجتمعوا فتذاكروا قتل على اخوانهم من اهل النهروان فترحموا عليهم و قالوا: ماذا نصنع بالبقاء بعدهم ؟ كانوا لا يخافون فى الله لومة لائم، فلو شرينا انفسنا فاتينا آئمة الضلال فقتلناهم فأرحنا منهم البلاد ترجمه : ابن ملجم ، برک بن عبد اللہ اور عمر بن بکر اکھٹے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے اپنے خارجی دوستوں کا تذکرہ کیا ان کے لیے دعائے رحمت کی پھر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان جیسے دوستوں کی شہادت کے بعد زندہ رہنے کا کیا فائدہ ؟ ہمارے یہ شہید ساتھی اللہ کے معاملے میں کسی ملامت گر کی پرواہ نہیں کرتے تھے (نہیں ڈرتے تھے ) اگر ہم اپنے جانوں کا سودا کر لیں اور گمراہی کے پیشواؤں ( مراد علی، معاویه و عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم تھے) کو جاکر قتل کردیں تو مسلمانوں کے شہر ان کے شر سے راحت پالیں گے
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے واصل ضلالهم ، اعتقادهم فى أيمة الهدى وجماعة المسلمين انهم خارجون عن العدل و انهم ضالون
عدنانی نے اپنے ایک بیان جس کا عنوان "لن يضروکم الا اذی” ہے میں شیخ مقدسی اور شیخ ابوقتادہ جیسےحضرات کو علمی گدھے کہا ہے

12-اپنے مسلم مخالفین کی مسلمان بیویوں کو باندیاں بنانا اور کنیزیں سمجھنا:

"فألبيهسية من الخوارج استحلت القتل والسبى على كل حال البيھسیہ خوارج کا ایک فرقہ ہے یہ عورتوں کو باندیاں بنانے اور قتل کرنے کو ہر حال میں جائز کہتے ہیں۔ علامہ زرکلی لکھتے ہیں” فقد جاء عند اليعقوبي أن نجده بن عامر الحنفى الحروري قد خرج في ايام ابن الزبير بناحية اليمامة، ثم صار الى الطايف فوجد ابنة لعمرو بن عثمان بن عفان قد وقعت في السبى فاشتراها من ماله بمائة الف درهم وبعث بها الى عبد الملك ” نجدہ بن عامر الحنفی الحروری عبد الله بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں یمامہ کے اطراف میں منظر عام پر آیا پھر طائف چلا گیا ۔ اس نے خوارج کی جانب سے گرفتار کی گئی باندیوں میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی پوتی دیکھی جسے ایک لاکھ درہم کے عوض خرید کر عبد الملک بن مروان کو بھیج دیا۔ عراق میں داعش نے اپنے مخالفین کی بیویوں کو باندیاں بنا کر سوق النحاس میں بیچا اور پھر ان کی تصاویر سوشل میڈیا ٹویٹر وغیرہ پر فخریہ انداز میں نشر کردی ، ابو بکر شیکاو داعشی دن دہاڑے ایک عام گاؤں سے عورتوں کو یہ کہہ کر لے گیا کہ انتخابات میں شرکت کی وجہ سے یہ مرتد ہو چکی ہیں ( جمہوریت اور ووٹنگ کے بارے میں اہل سنت علماء کا موقف کتاب کے اخر میں ذکر ہے)

13-اہل قبلہ کے اموال کو حلال کھنا:

جب خوارج نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تو ان کے اموال کو اپنے لیے جائز اور حلال سمجھ کر لوٹ لیا اور سارا بیت المال بھی صاف کر کے ساتھ لے گئے۔ آج کے خوارج داعشی اپنے مخالفین کے اموال کو حلال سمجھتے ہیں اسکی زندہ مثال افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے علاقے بٹی کوٹ، نازیانو اور آچین کا ضلع ہے جہاں مسلمانوں کے مویشیوں اور اموال کو مال غنیمت کہہ کر چھین لیا گیا اسی طرح صوبہ کنڑ کے بعض ضلعوں میں عوام الناس کے اموال کی لوٹ مار کی گئی

14-قیاس کرنا:

پرانے خوارج بھی قیاس کرتے تھے علامہ ابن حزم لکھتے ہیں :
ان الخوارج المتقدمون يستدلون بقتال الصديق فى قتال الردة، على جواز مقاتلة اهل القبله وقالوا: ان هذا كما فعله ابو بكر بأهل الردة
پرانے خوارج بھی اہل قبلہ (مسلمانوں) کے قتل کو جائز قرار دینے کے لیے قیاس سے کام لیتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو ویسا ہی کر رہے ہیں جیسا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مرتدین کے ساتھ کیا، دوسری جگہ فرماتے ہیں: ” انهم اشدالناس عملاً بالقياس ، ہمارے زمانے کے خوارج بھی
اسی پر عمل پیرا ہیں

15-اصلی کافروں سے مسلمانوں کا قتل کرنا زیادہ اہم قرار دینا:

امام طبری بہلول کا قصہ یوں بیان کرتے ہیں: ترجمہ ، بہلول خارجی نے جب خالد کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو کہا: کہ پہلے خالد کا یہ نما ئندہ قتل کر دیا جائے، لیکن ساتھیوں نے کہا: اگر ہم اسے قتل کر دیں تو خالد ہم سے بچ جائے گا، بہلول خارجی ہی وہ شخص تھا جس نے مساجد شھید کیں ، اور گرجے اور یہودیوں کی عبادت گاہیں تعمیر کیں، اس کے مجوسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے اور مسلمان خواتین ذمیوں کے نکاح میں دیتا تھا، (تاریخ الطبری ج ۷ ص ۱۳۹) دیکھیے اس خارجی کا کفار سے کتنا گہرا تعلق ہے جبکہ مسلمانوں کے خلاف جرائم کا مر تکب اور ان کے قتل کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ بہلول کا یہ بیان پڑھنے کے بعد خوارج کے ترجمان عدنانی یادیگر داعشیوں کے صوتی (آڈیو) بیانات سنیں تو دونوں کے درمیان کوئی فرق محسوس نہیں ہو گا

16-ائمہ اور علماء کیلئے برے القابات کا انتخاب کرنا:

"(كان الخوارج يسمون الخليفه الراشد عثمان (النعثل) والراسبی یسمی علیا (الجاحد) من شدة بغضه له
خوارج عثمان رضی اللّٰہ عنہ کو نعثل (احمق) اور علی رضی اللّٰہ عنہ کو جاحد (منکر ) کہا کرتے تھے
نعثل مصر میں لمبی داڑھی والا ایک احمق انسان تھا اور عرب میں ہر اس شخص کو بولا جاتا جو احمق ہو اور اسکی داڑھی بھی ہو ۔
عدنانی اپنے بیان جس کا عنوان ” قل للذین کفروا ستغلبون ” ہے کے سولویں منٹ اور دس سیکنڈ پر شیخ الظواہری کے بارے میں ایسا کہتا ہے
و ان سفاهة الشيخ لا حلم بعده، وان الفتى بعد السفاهة يحلم ان اشعار میں عدنانی شیخ الظواہری حفظہ اللہ کو بار بار سفیہ ( احمق) کہ رہا ہے
نینوی ولایت کے اعلامی مکتب نے ایک ویڈیو نشر کی جس میں امیر المؤمنین ملا اختر منصور شھید تقبلہ اللہ کے لیے عمیل (کفار کا مزدور) اور طاغوت جیسے القابات استعمال کئے گئے ہیں