ملا داداللہ شہید رحمہ اللہ

#image_title

حاجی عبداللہ کے صاحبزادے ملاداداللہ شہید 1967 میں صوبہ روزگان کے ضلع دھراود میں ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے، ابتدائی دینی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی اور مختصر عرصے میں درمیانے درجے کی مروجہ کتابیں پڑھ لیں آپ حصول علم میں مصروف تھے کہ سابق سوویت یونین نے افغانستان پر یلغار کردی۔

جہادی زندگی:

شہید ملا داد اللہ کے مجاہد ساتھیوں کے مطابق انہوں نے ۔ 1983 قندہار میں معروف جہادی کمانڈر مولوی اختر محمد آغا کی سربراہی میں روسی افواج کے خلاف جہاد میں حصہ لیا اور پہلی بار قندہار کے ضلع ارغنداب کے شاہین گاؤں میں روسی افواج کے خلاف ایک گھمسان کی لڑائی میں شریک ہوئے، اگر چہ اس وقت ان کی عمر کم تھی، مگر شجاعت اور مہارت کی بنیاد پر وہ اپنے ساتھیوں میں نمایاں تھے۔ ارغنداب میں روسی افواج کو شکست دینے کے بعد وہ صوبہ ہلمند گئے جہاں پر انہوں نے مشہور کمانڈر ملا نیم اخند زادہ کے ساتھ مل کر روسی افواج کے خلاف جہادی کارروائیوں کو دوام بخشا، وہاں ایک سال گزارنے کے بعد واپس قندہار آئے اور مولوی اختر محمد آغا کی سر براہی میں اپنی اسلامی، شرعی اور جہادی ذمہ داریوں کو اس وقت تک پوری شجاعت اور مہارت کے ساتھ احسن طریقے سے نبھاتے رہے جب تک روسی افواج اور ان کے کمیونسٹ حامی مکمل شکست کھا کر افغانستان سے نکلنے پر مجبور نہ ہوئے، کابل فتح ہونے کے بعد جب اقتدار کی باگ دوڑ مجاہدین نے سنبھالی اور کئی ایک اقتدار پرست جہادی رہنماوں کے درمیان حصول اقتدار کے لئے خانہ جنگی شروع ہوئی تو آپ نے اسلحہ پھینک کر اپنی ادھوری تعلیم کی تکمیل کے لئے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کو سینے میں مولوی محمد شفیع کے مدرسہ میں داخلہ لیا اور بعد ازاں مشہور علمی اور جہادی شخصیت شیخ الحدیث مولوی عبدالعلی دیوبندی رحمہ اللہ کے مدرسہ میں داخلہ لے کر اکتساب فیض کرتے رہے۔

1994 میں جب قندہار میں طالبان کی اسلامی تحریک نے عالیقدر امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی سر براہی میں ظلم ، فساد اور بدامنی کے خلاف جنم لیا تو اسی دن سے شہید ملا داداللہ بھی تحریک کے ہمسفر بن کر اپنے بیس ساتھیوں سمیت عالیقدر امیر المومنین کی ہدایت پر قندہار کے ضلع پنجوائی چلے گئے۔ انہوں نے ضلع چنین بولدک، قندھار شہر اور ائیر پورٹ کو فتح کرنے کی لڑائیوں میں بھر پور حصہ لیا قندھار کو فتح کرنے کے بعد موصوف کو سر براہ کی جانب سے صوبہ روزگان بھیجا گیا جہاں انہوں نے لوگوں کو اسلامی تحریک کی حمایت کرنے کی دعوت دی،

روزگان کی حمایت کے بعد قیادت نے انہیں صوبہ ہلمند کے لئے تعینات کیا جہاں انہوں نے سنگین کو فتح کرنے کے بعد کچھ مدت کے لئے صوبہ فراہ میں جہادی خدمات انجام دیں اور پھر صوبہ زابل، غزنی اور میدان وردگ کی فتوحات کے بعد صوبہ لوگر اور چہار آسیاب کی کارروائیوں میں بھر پور حصہ لیا اسی طرح پکتیا اور خوست میں اسلام کا جھنڈا گاڑنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ شہید ملا داد اللہ چہار آسیاب میں گھمسان لڑائیوں کے بعد امیر المومنین کی ہدایت پر صوبہ فراہ میں تعینات ہوئے اور وہاں دشمن کے خلاف مزاحمت جاری رکھی، اسی وقت دشمن نے چہار آسیاب پر شدید حملہ کیا اور ایک مرتبہ پھر قیادت کی جانب سے آپ کو چہار آسیاب کی ذمہ داری سونپ دی گئی آپ نے ذمہ داری سنبھالتے ہی دشمن پر خوفناک حملہ کیا اس پیش قدمی کے دوران بارودی سرنگ پھٹنے سے آپ کا ایک پاؤں کٹ گیا۔ جب اسلامی امارت کے مجاہدین نے کابل کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے اور وریشمین چوٹی سے حملہ کیا، تو شہید ملا بورجان کے ساتھ آپ نے بھی نہایت اہم رول ادا کیا، اور گھمسان کی لڑائی کے بعد دارالحکومت کابل کو جنگجو کمانڈروں اور شر پسند عناصر سے آزاد کر کے اسلامی نظام کا عادلانہ جھنڈا لہرادیا۔ فتح کابل کے موقع پر آپ کو خواجہ رواش کے قریب دائیں ہاتھ پر زخم لگا اس کے باوجود آپ نے دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے کابل کو جنگجو کمانڈروں اور شر پسند عناصر سے ازاد کرکے اسلامی کا عادلانہ جھنڈا لہرا دیا۔ فتح کابل کے موقع پر آپ کو خواجہ رواش کے قریب دائیں ہاتھ پر زخم لگا اس کے باوجود آپ نے دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے کابل کے شمالی علاقوں شکر درہ ، پل مٹک اور کاپیسا کی جانب پیش قدمی جاری رکھی۔ ان تمام جنگوں میں وہ جنرل کمانڈر بھی نہیں تھے مگر انہوں نے ایک فعال اور بہادر مجاہد کی حیثیت سے نہایت اہم رول ادا کیا۔

جب – 1997 میں صوبہ بادغیس کی جانب سے امارت اسلامیہ کے مجاہدین فاریاب اور دیگر شمالی صوبوں میں داخل ہوئے تو ملا داداللہ شہید بھی اپنے ہزاروں ساتھیوں اور امارت کے رہنماوں سمیت درہ سالنگ کے راستے شمالی صوبوں میں داخل ہوئے جب صوبہ بغلان کی پلخمری تک پیش قدمی کی تو جنرل مالک نے تاریخی بے وفائی اور غداری کرتے ہوئے ہزاروں مجاہدین کو شہید کردیا، ملاداداللہ اپنے ساتھیوں سمیت پلخمری میں محاصرے میں آگئے ، اس وقت مجاہدین شدید مشکلات اور خطرات سے دوچار تھے، ملاداداللہ شہید اور ملا امیر خان متقی کے بشمول امارت اسلامیہ کے دوسرے رہنماوں نے حکمت اور بصیرت سے کامیاب منصوبہ بنایا جس کے نتیجے میں تمام مجاہدین دشمن کے ضرر سے محفوظ ہوئے۔ امارت اسلامیہ کے رہنماوں نے ان حالات میں نہ صرف مجاہدین کا مورال بلند رکھا بلکہ مقامی لوگوں سے بھی تعلقات استوار کر کے ان کا اعتماد حاصل کر لیا جس کے بعد مقامی لوگوں اور جہادی کمانڈروں کے تعاون سے صوبہ قندوز پر حملہ کیا اور بہت کم مزاحمت کے بعد اس پر قبضہ کر لیا جو مجاہدین کا ایک مضبوط مرکز رہا، ملاداداللہ (جو اس صوبے کے کمانڈر تھے) نے ایک سال تک شدید مشکلات میں قندوز کا دفاع کیا اور دشمن کے متعدد حملوں کو پسپا کیا، اس کے بعد آپ صوبہ بامیان، تخار اور کابل کے شمالی صوبوں بگرام ، تگاب اور نجراب کی مختلف کارروائیوں میں شریک رہے۔

گیارہ ستمبر واقعہ کے بعد جب امریکہ نے حماقت کرتے ہوئے افغانستان پر حملہ کیا تو شہید ملاداداللہ نے شمالی صوبوں میں امریکہ اور اس کے حامیوں شمالی اتحاد کے خلاف شدید مزاحمت کی جب امریکہ کے شدید فضائی حملے اور شمالی اتحاد کے زمینی حملے حد سے بڑھ گئے تو مجاہدین شمالی صوبوں سے عقب نشینی کرتے ہوئے کابل روانہ ہوئے اس وقت ملاداداللہ شہید نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ضلع بلخ میں ایک گھر میں پناہ لی۔ امریکہ اور دوستم ملیشیا کی سخت تفتیش کے باوجود ایک مہینہ اسی گھر میں قیام کیا پھر سٹلائٹ فون کے ذریعے بی بی سی کو انٹرویو دیا جس میں کہا کہ الحمد للہ میں آج چار بجے خیر وعافیت سے قندھار پہنچ گیا، انٹرویو سننے کے بعد دشمن کو یقین آیا کہ وہ ان کے محاصرے سے نکل گئے ہیں، اس انٹرویو کے بعد وہ چند حریت پسند عوام کے تعاون سے درہ سالنگ کے راستے قندھار پہنچے

جب عالیقدرامیر المومنین نے قابض استعمار کے خلاف جہاد کو نئی روح بخشی اور جہادی کارروائیوں کو منظم شکل دیتے ہوئے رہبری شوری تشکیل دی تو ملا داداللہ شہید کو بھی اس کا رکن مقرر کیا، آپ نے مقدس جہاد کے فریضہ کو نئے خطوط پر استوار کرتے ہوئے کارروائیاں تیز کر دیں اس دوران بی بی سی کے نامہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی نے آپ سے ایک اہم انٹرویو لیا جس میں آپ نے تازہ کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ قندہار کے شمال میں درہ نور میں 60 امریکی اور افغان فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دی اور درہ نور جو قندہار اور روزگان کی قومی شاہراہ ہے بند کر دیا۔ ملا داد اللہ نے اس سوال کے کہ امریکہ بڑی قوت کے ساتھ افغانستان آیا ہے شاید آپ اس کو شکست دینے اور نکالنے میں کامیابی حاصل نہ کر سکیں گے جواب میں کہا کہ روس بھی افغانستان سے جانا نہیں چاہتا تھا مگر جب اس کا گھیرا تنگ ہوا تو وہ مجبور ہو کر فرار ہوا امریکہ بھی اسی طرح ہماری سرزمین سے رسوا ہو کر نکلے گا ان شاء اللہ ۔ اس انٹرویو نے کابل حکومت کے ایوانوں میں کھلبلی مچادی اور نام نہاد صدر کرزئی کے دماغ کو چوٹ لگی اسی لئے وہ کہنے لگا کہ ہم اس انٹرویو کی شدید مذمت کرتے ہیں اور صحافیوں سے بھی کہا کہ وہ عسکریت پسندوں کا انٹرویو لینے سے گریز کریں، اس انٹرویو کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوئے اور پورے افغانستان میں مجاہدین کو نیا حوصلہ ملا۔

ملاداداللہ شہید امارت اسلامیہ کے ان رہنماوں میں سے تھے جن پر عالیقدرامیر المومنین کو خاص اعتماد تھا، وہ بہادر ، باہمت، مضبوط اعصاب کے مالک، منصوبہ ساز اور حکمت عملی کے ماہر تھے، امارت اسلامیہ کے پہلے ادوار اور پھر امریکہ کے خلاف جاری جہاد میں ان کا تابناک کردار تھا۔ ان کے جوان عزم جذبے اور جہادی خدمت کے متعلق ان کے ایک ساتھی نے بتایا کہ روسی افواج نے قندهار کے ضلع ارغنداب کا محاصرہ کر کے وہاں موجود مجاہدین کے خلاف فوجی آپریشن شروع کر دیا جس کے خلاف وہ دفاعی جنگ میں صبح سے شام تک مسلسل لڑتے رہے اور رات کو صبح تک – 150 کلو آٹا گوند کر اس سے روٹی پکائی۔ جب وہ قندوز میں محاصرہ میں تھے تو مطمئن اور پر سکون تھے ان کے چہرے پر خوف کے آثار نہیں تھے حالانکہ قندوز پر مسعود اور دوستم کے جنگجووں کے حملے چاروں طرف سے ہو رہے تھے ملاداداللہ شہید بڑی دلیری سے ان کا مقابلہ کرتے تھے اور ساتھیوں کو حوصلہ دیتے تھے۔

الجزیرہ چینل کے رپورٹر نے ھلمند میں چند دن ان کے ساتھ قیام کیا وہ کہتے ہیں کہ ملاداد اللہ انتہائی ملنسار اور متوکل آدمی تھے ، وہ امریکی فضائیہ سے نہیں ڈرتے تھے اور نہ ہی ان کے دل میں خوف تھا وہ ھلمند میں امریکیوں کی پروا کئے بغیر آزاد گھومتے پھرتے تھے، ھلمند میں سینکڑوں میل پیدل گھومتے تھے حالانکہ وہ ایک پاوں سے معذور بھی تھے۔ اس نمائندے نے انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا کہ آپ امریکہ کو انتہائی مطلوب افراد میں سے ہیں پھر بھی کھلے عام اور آزاد گھومتے ہیں کیا آپ کو جاسوسی طیاروں اور سیاروں سے خطرہ اور خوف کا احساس نہیں ہے ؟ تو جواب میں ملاداداللہ شہید کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے اوپر جاسوسی طیارے اور سیارے ہیں مگر ان سے اوپر ہمارے محافظ ، قادر اور مددگار رب بھی ہیں، ہم اسی کی رضا کے لئے جہاد کرتے ہیں اور اسی کی راہ میں جام شہادت نوش کرنے کے متمنی ہیں۔

آپ انتہائی مدبر اور اعلی فکر کے حامل تھے آپ یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ جب تک امارت اسلامیہ کو اُس کی پشت سے محفوظ نا بنایا گیا جب تک افغانستان میں فتح کا حصول انتہائی مشکل ہے۔ چنانچہ اسی بنا پر آپ نے وزیرستان کے متعدد دورے کئے اور اپنے جہادی رفقاء عبد اللہ محسود شہید اور بیت اللہ محسود شہید سے طویل ملاقتیں کیں اور پاکستانی فوج کو کمزور کرنے اور اسے امریکی حمایت سے دستبردار کرنے اور پاکستان میں جہادی تحریک کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا آپ کی بہادری بے مثال تھی ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ قندوز میں دوستم کی ملیشیا کے گھیراؤ میں پھنس گئے تو آپ نے دو ستم کے ایک اہم کمانڈر کو خنجر کی نوک پر قابو کر لیا اور اپنے ساتھ قندھار لے آئے اس طرح آپ دشمن کی قید میں آنے سے بچ گئے۔ آپ کو مہاجر مجاھدین سے خصوصی شغف تھا آپ ہی نے مہاجرین کے ساتھ مل کر مزاحمت کے ابتدئی ایام میں استشھادی بریگیڈ کی بنیادر کھی اور پے در پے حملے کر کے دشمن کو مفلوج کر دیا

ملا دادللہ کی شہادت کا واقعہ :

الحاج ملاداداللہ اخند نے پوری عمر جہاد میں گزاری۔ 14 مئی 2007 بمطابق – 26 ربیع الثانی – 1428 میں صوبہ ھلمند ضلع گرمسیر کے درویشان گاؤں میں قابض امریکیوں کے چھاپے میں جام شہادت نوش کر گئے۔

بلاشبہ وہ افغانستان جہاد کے صف اول کے کمانڈروں میں سے تھے ، ان کی شہادت اسلام اور افغان جہاد کی تاریخ کا بہت بڑا سانحہ تھی۔ ہماری تاریخ کے ایک اہم موڑ پر اپنی آئندہ نسلوں کو شہید کی مجاہدانہ زندگی اور سانحہ شہادت کی مصدقہ معلومات فراہم کرنے اور محفوظ بنانے کی خاطر افغانستان کے مشہور جہادی کمانڈر اور امارت اسلامیہ صوبہ ھلمند کے فوجی سربراہ ملا محمد نعیم اخند سے نشست کی اور سانحہ شہادت کے اصل حقائق سے متعلق ان سے دریافت کیا۔ ملا محمد نعیم سانحہ شہادت کی رات ان کے ساتھ ایک مکان میں سور ہے تھے اور تمام کارروائی اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

انہوں نے بتایا کہ سانحہ شہادت سے دو دن پہلے ہم اکھٹے ہوئے، میں ضلع باغران سے گرمسیر آیا تو وہ بھی یہاں تھے۔ اس روز دشمن کے طیارے بہت زیادہ پرواز کر رہے تھے کیونکہ ملاداداللہ شہید سٹلائٹ فون استعمال کرتے تھے اور دشمن سٹلائٹ فون کا پیچھا کرتا تھا، اس سے ایک دن پہلے بھی انہوں نے چھاپہ مارا مگر اللہ تعالی نے محفوظ رکھا، ہم نے مغرب کی نماز ادا کی اور پھر کھانا کھا کر درویشان گاؤں چلے گئے جہاں ایک خالی گھر میں قیام کیا، ہمارے ساتھیوں میں ، ملاداداللہ اخند ، اجمل، حافظ حمد اللہ ، دین محمد ،میرویس اور اس کا ایک ساتھی ملا در محمد تھا، ساتھیوں میں ڈیوٹی تقسیم کر کے ہم سو گئے ، اچانک آنکھ کھلی تو کان میں آواز پڑی کہ امریکی فوجیوں نے چھاپہ مارا ہے، طیارے نیچے پرواز کر رہے ہیں، میں نے ملاداداللہ اخند جو میرے ساتھ سو رہے تھے کو جگایا انہوں نے اپنا مصنوعی پاوں رکھ لیا اور اسلحہ اٹھا کر مکان سے باہر نکلے، چونکہ میں مکان سے واقف تھا اور مجھے معلوم تھا کہ مکان کے دو دروازے ہیں: ایک عام دروازہ ہے اور ایک پیچھے ندی کی جانب خاص دروازہ ہے، میں نے ان سے کہا کہ میرے پیچھے آنا، اس دوران جب ہم باہر نکلے تو طیارے بہت نیچے پرواز کر رہے تھے اور فوجیوں کو بھی اتار دیا تھا۔ پہلے میں مکان سے نکالا ساتھی بھی ادھر ادھر دوڑ رہے تھے، اس وقت مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ ملاداداللہ کس طرف نکلے میں مکان سے باہر پیچھے کی جانب گیا تو طیارے نے مکان پر بم گرایا جس سے مکان کی ایک دیوار گر گئی ، جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو امریکی فوجی سامنے آرہے تھے ، میں نے ان پر فائر کھول دیا تو انہوں نے بھی فورا فائرنگ کر دی، میں دیوار کے پیچھے چھپ گیا اور پھر ندی میں چھلانگ لگادی، یہاں پر تسلی نہیں ہوئی ساتھیوں کا اندیشہ تھا واپس مکان کی طرف آیا اور آواز دی کہ اجمل اس طرف آؤ، اجمل اس طرف آؤ، لیکن مجھے معلوم ہوا کہ ملا داد اللہ ، میرویس اور دین محمد مکان سے نکل کر کسی دوسری طرف گئے ہیں، میں مکان سے واپس نکلا اور امریکیوں سے آمنے سامنے لڑائی شروع ہوئی، اسی دوران طیارے نے فائر کیا جس سے میرا پاؤں زخمی ہوا اور میں گر گیا، جب میں واپس کھڑا ہوا تو دوبارہ فائرنگ سے میرا ہاتھ ، پیٹ اور کندھا زخمی ہوا، اس وقت میرے ہاتھ نے کام چھوڑ دیا اور میں گر کر بے ہوش ہوا اور پھر ہوش میں آیا اور اس وقت یہ سمجھ گیا کہ شدید بمباری جاری ہے ، فضا میں طیاروں کا شور تھا ہر طرف بم برس رہے تھے ، بہت مشکل مرحلہ تھا، میں آہستہ آہستہ ندی میں گرا اور پانی میں بہہ گیا جب کافی دور پہنچا تو ایک سائیڈ پر تکیہ لگایا جب اٹھنے کی کوشش کی تو پھر بے ہوش ہوا، جب ہوش میں آیا تو صبح کی اذان کی آوازیں آرہی تھیں، امریکی چلے گئے تھے ، ہمارے ساتھی ہماری تلاش میں آئے تھے میں نے انہیں آواز دی کہ یہاں آجاؤ، اسی دوران ہمارے گرمسیر کے ذمہ دار عبد الہادی آغا آئے جب مجھ پر نظر پڑی اور دیکھا کہ میں زخمی ہوں تو اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی کہ گاڑی اس طرف لے آئیں ، جب گاڑی آئی تو میں نے ان سے کہا کہ مجھے سخت سردی لگ رہی ہے، زخمی ہوں خون پیٹ میں جارہا ہے اور پھر پوچھا کہ مہمان ( ملاداداللہ اخند) کہاں ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ سب خیریت سے ہیں صرف آپ معمولی زخمی ہیں، مہمان محفوظ ہیں، کوئی مشکل نہیں، مجھے ایک کلینک لایا گیا اسی دوران میرویس بھی آیا میں نے اس سے بھی پوچھا کہ حاجی ملا صاحب کہاں ہیں ؟ اس نے بتایا کہ سب ساتھی خیریت سے ہیں صرف معمولی زخمی ہیں لیکن میں سمجھ رہا تھا وہ صرف مجھے تسلی دے رہے ہیں کیونکہ مجھے بمباری کے دوران مکان کے اندر پتہ چلا کہ اجمل، حافظ حمد اللہ اور ملا در محمد سمیت دوسرے ساتھی بھی اسی وقت شہید ہوئے اور ملاداداللہ اخند کو مکان سے باہر نکلتے وقت طیاروں نے شہید کر دیا تھا۔ مجھے بعد میں انہی ساتھیوں اور ملا عبد الہادی آغا جنہوں نے ملاداداللہ شہید کا جسد خاکی تلاش کر کے دیکھ لیا تھا، بتایا کہ ملاداداللہ مکان سے زندہ نکلے تھے ، قریب ندی تک پہنچ گئے وہ کوشش کر رہے تھے کہ ندی سے گزر جائیں اسی دوران امریکی طیاروں نے ان پر فائر کھول دیا اور وہ اسی پانی میں شہید ہو گئے ، عبد الہادی آغا کے مطابق وہ طیارے کے فائر سے شہید ہوئے تھے۔

ملا داد اللّٰہ
اس چھاپے میں ہمارے دوسرے ساتھی بھی شہید ہوئے صرف میں ، میرویس اور دین محمد کو اللہ تعالی نے محفوظ رکھا، ملاداداللہ شہید کو ان کی وصیت کے مطابق کہ میں جہاں پر شہید ہو جاؤں وہیں پر دفن کیا جائے، اگلی رات وہ اور ان کے ساتھیوں کی تدفین شروع کر دی گئی، چند ساتھیوں نے قریب قبرستان میں قبریں تیار کیں اور پھر ایک، ایک شہید کو دفن کیا گیا، اس وقت جب دین محمد قبرستان میں شہداء کو دفن کر رہے تھے اور میرویس اور اس کے ساتھی مکان سے شہداء کو لانے میں مصروف تھے تمام شہداء کو سپرد خاک کر دیا گیا صرف ملا داد اللہ شہید کی تدفین باقی تھی کہ اسی دوران امریکیوں نے پھر اسی مکان پر بمباری کر کے چھاپہ مارا اور تلاش کے دوران ملاداداللہ شہید کا جسد خاکی انہیں ہاتھ آیا، اسی چھاپے میں امارت اسلامیہ کے دوسرے اہم رہنما بھی شہید ہوئے جن میں عبدالہادی اجمل کو کیوبا جیل سے رہا ہوا تھا اور اب گرمسیر کا سر براہ تھا اور اس کے علاوہ حافظ حمد اللہ گلالی جنہیں حال ہی میں جیل سے رہائی ملی تھی اور با صلاحیت شخص تھا، اسی طرح حاجی میرویس اور مولوی در محمد بھی شہید ہوئے۔

ملاداداللہ شہید کو قندهار میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کے پسمانگان میں 4 بچے رہ گئے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کی اولاد کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے اور شہید کو جنت الفردوس میں اعلی درجات سے نوازے۔ آمین۔

إنا لله وانا راجعون۔