مسلمانوں کا قاتل داعش

#image_title

مسلمانوں کا قاتل داعش

 

طاهر احرار

 

 

آج آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشاد کی حقانیت اور صداقت اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے!

 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایک گروہ ظاہر ہو گا، جن کا اقتدار و اختیار نوجوانوں کے پاس ہوگا، وہ عقل سے عاری ہوں گے، وہ زبان سے تو احادیث رسول کی قرائت اور قرآن کریم کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن کریم ان کے دلوں میں نہیں اترے گا۔

وہ مسلمانوں سے لڑیں گے اور کفار کو چھوڑ دیں گے، پس اگر وہ دوبارہ ظاہر ہو جائیں تو ان سے لڑو۔ اگر وہ دوبارہ نظر آئیں تو ان سے لڑو، اگر وہ دوبارہ نظر آئے تو ان سے لڑو۔

حدیث شریف کا ترجمہ۔

 

پاکستان کے مستونگ علاقے میں جمعیت علماء اسلام نامی مذہبی تنظیم پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی!

جمعیت علمائے پاکستان پاکستان کے دسیوں ہزار علماء اور عام مسلمانوں کی ایک تنظیم ہے، معلومات کے مطابق 32000 دینی مدارس، تبلیغی مراکز، خانقاہیں فکری طور پر جمعیت علماء اسلام سے منسلک ہیں، جن میں سے زیادہ تر مشہور مشائخ، مفتیان، مدارس کے مہتممین اور مذہبی رہنماء اس کے رکن ہیں۔ یہ تنظیم کوئی مسلح جہادی تنظیم تو نہیں، البتہ یہ لوگ مذہبی اداروں کی تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ہم اس تنظیم کی قیادت کا تزکیہ نہیں کرتے، اس سے سیاسی طور پر بہت سے غلطیاں صادر ہوگئے ہوں گے، لیکن ان پر یا عام مسلمانوں کی اجتماع میں حملہ کرنا کسی طور بھی جایز نہیں ہے۔

 

داعشی خوارج مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں، اور کافروں کو خوش کرتے ہیں۔

پھر وہ خود کو پوری دنیا میں خلافت کا دعویدار کہتے ہیں۔

اسی نشانی کا تذکرہ مندرجہ بالا حدیث مبارک میں نبی کریم نے فرمایا ہے۔

حدیث شریف میں آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ بہترین غازی وہ ہے جو ان خوارج کو قتل کرے اور بہترین شہید وہ ہے جو ان کے ہاتھوں شہید ہوجایے۔

 

اللہ تعالیٰ ان تمام شہداء کی شہادت قبول کریں، جو ان کے ہاتھوں شہید ہوگئے ہیں۔