مستونگ اور ہنگو کے حملے کن مقاصد کیلئے ؟

#image_title

مستونگ اور ہنگو کے حملے کن مقاصد کیلئے ؟

ابو محمد

کل پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں میلاد النبی کے جلوس پر اور اسی طرح صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے ہنگو میں نماز جمعہ کے خطبے کے دوران خودکش حملے ہوگئے، جس کے نتیجے میں بدقسمتی سے کئی بے گناہ مسلمانوں کا خون بہہ گیا، بہت سے بے گناہ پاکستانی شہید اور کافی زخمی ہوگئے ۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
کل کے حملوں اور حالیہ ہونے والے تمام حملوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستانی حکام اپنے لوگوں کے دفاع کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔
اگرچہ ابھی تک کسی متعین گروہ نے کل کے حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، لیکن یہ داعشی خوارج کے ان سلسلہ وار حملوں کی ایک کڑی ہے جو انہوں نے حال ہی میں پاکستان میں علماء، مذہبی مراکز، مساجد اور مدارس پر شروع کیے ہیں، اور گویا بعض پاکستانی حکام ان حملہ آوروں کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ امارت اسلامیہ کی انٹیلی جنس اداروں نے خطے (افغانستان/پاکستان/ایران) میں مساجد، مدارس، ديني مراکز اور اجتماعات پر حملہ کرنے کا ایک بڑا منصوبہ دریافت کیا تھا، اور ساتھ ہی پاکستان اور ایران کو اس منصوبے کے عمل در آمد کرانے والے افراد کی مکمل رپورٹ دی تھی، لیکن المرصاد کی اطلاع کے مطابق بدقسمتی سے پاکستانی حکام نے پاکستان میں ان حملوں کے طراح اور مرکزی کردار "خان” نامی شخص کو گرفتار کر کے رہا کر دیا!

اس رپورٹ کو سامنے رکھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کچھ پاکستانی حکام جان بوجھ کر داعش کیلیے زمینہ سازی کر رہے ہیں، تاکہ خطے کو غیر محفوظ متعارف کرایا جاسکے، اس کا الزام افغانستان پر لگایا جا سکے، اور مغربی آقاؤں سے اس نام پر چندہ (ڈالرز) اکٹھی کی جائیں۔
لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ امارت اسلامیہ اور خطے کے ممالک مزید ان فریب کاریوں سے عادی ہوچکے ہیں، اور دنیا کو بھی باور کراسکیں گے۔
لہذا ایسے واقعات اور دوسرے ممالک پر اس کے الزام سے پاکستان کو اپنے لوگوں کے خون بہانے کے سوا کوئی سیاسی/اقتصادی فایدہ نہیں ہوگا۔