مدعیانِ خلافت اقصیٰ کے قضیہ پر خاموش کیوں ہیں؟

حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ

#image_title

مدعیانِ خلافت اقصیٰ کے قضیہ پر خاموش کیوں ہیں؟
حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ

اسرائیل اور فلسطینی مسلمانوں کے مابین جنگ ایک ہفتے سے زائد وقت سے جاری ہے۔ یہ جنگ حماس کی عسکری شاخ کتائب القسّام کے آپریشن سے شروع ہوئی اور ڈیڑھ ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی اب تک جاری ہے۔ اس کے جواب میں غاصب اسرائیلیوں نے غزہ کی پٹی پر وحشیانہ بمباری شروع کر رکھی ہے اور ہزاروں مسلمانوں کو شہید کر دیا ہے۔
اسرائیل اور فلسطینی مسلمانوں کے درمیان جنگ نے داعشی خوارج کے اصل چہرے کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ دنیا کی تمام جہادی تنظیموں نے فلسطینی مسلمانوں کی حمایت کا اعلان کیا لیکن داعشی خوارج نے، جو خود کو مسجدِ اقصیٰ کا واحد وارث اور امت کے صالحین تصور کرتے ہیں، حمایت کا اعلان تو درکنار، اپنے رسمی اعلانات میں فلسطین اور اسرائیل کا ذکر تک نہیں کیا۔
توقع تو یہ تھی کہ داعشی خوارج اپنے ہفتہ وار اداریے میں اپنی رسمی پوزیشن واضح کرتے، لیکن گزشتہ ہفتے کے النبا کے اداریے میں فلسطین کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، اور مسلمانوں کی مدد کرنے کے بارے میں صرف عمومی بات کی گئی۔ کچھ آن لائن خوارج، جو اس قضیہ میں اپنا حصہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اس ایک صفحے کے مضمون کو غزہ کے حالات کے ساتھ جوڑنے اور لوگوں پر یہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ ان کی گمنام قیادت واقعی میں امت مسلمہ کے مسائل کے غم میں مبتلا ہے۔
کیا فلسطین کے معاملے نے عام داعشیوں کو اپنے آپ کو جھوٹی تسلیاں دینے کی بجائے اپنے منہج پر نظرِ ثانی کرنے اور امت کے ایک اہم قضیے (مسجد اقصیٰ) کے بارے میں اپنی قیادت کی خاموشی کی وجہ جاننے پر مجبور کیا ہے؟ داعشی خوارج کی قیادت اقصیٰ کے معاملے میں اس لیے خاموش ہے کیونکہ انہیں وہاں مسلمان اور مجاہدین نظر نہیں آتے۔ بہت وقت پہلے سے انہوں نے حماس ( کہ جو فلسطین میں سب سے نمایاں مسلح گروہ ہے) کی تکفیر کی اور انہیں کافر ہی گردانتے ہیں۔ انہیں اقصیٰ کے تحفظ کے لیے لڑنے والے مجاہد اور اسرائیلی یہودی کے درمیان کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ بلکہ وہ اس پر خوش ہوتے ہیں کہ یہودی فلسطینی مجاہدین کو قتل کر رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک ’مرتد‘ کو قتل کرنا اصلی کافر کو قتل کرنے کی نسبت زیادہ ثواب کا کام ہے۔
داعشی خوارج کا منہج اس قدر متشدد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے کہ انہیں دنیا میں اپنے گروہ کے علاوہ کوئی دوسرا مسلمان نظر نہیں آتا۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر وہ بیت المقدس کی آزادی کے لیے جاری اس جدوجہد کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں تو وہ اپنے ہی فتویٰ کے مطابق اسلام سے خارج ہو جائیں گے۔
داعشیوں کی گمنام قیادت، جن کا مکمل نسب اور اصلیت ’ابو‘ اور ’قریشی‘ پر ہی منحصر ہے، اور ان کے مضحکہ خیز نعروں سے بے وقوف بنے ہوئے نوجوان فلسطین کے مسئلے کو دیکھیں اور خود سے سوال کریں کہ ان کا گروہ اسلام اور امت سے کس قدر وابستہ ہے اور انہوں نے خلافت کے مقدس نعرے کو کس قدر بدنام کر دیا ہے۔