فلسطینی جہاد اور داعش کی خاموشی

صلاح الدین (ثانی)

#image_title

صلاح الدین ایوبی کے مبارک ہاتھوں سے فتح اور آزاد ہونے والے فلسطین بالخصوص مسجد الاقصیٰ کو وقت کے متکبر صلیبیوں کے بعد ایک بار پھر وقت کے متکبر یہدویوں نے اپنے قبضے میں لے لیا۔

فلسطین کی مبارک سرزمین میں یہودی کفار نے امت محمدیہ ﷺ کی نوجوان عورتوں پر دست درازی کی اور ان کی عزت و آبرو تار تار کر ڈالی، نوجوانوں کو قید یا شہید کیا، علماء و مشائخ کو قتل کیا، گھر بار تباہ کر دیے، خوبصورت شہروں اور اطراف کو کھنڈرات میں بدل ڈالا، لاکھوں فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کیا اور ان کے گھروں اور زمینوں کو صیہونی ریاست میں تبدیل کر دیا۔ آخر کار صیہونی یہودیوں کے مظالم اور وحشتوں نے ایوبی کے پوتوں کو پھر غصہ دلایا اور انہیں تلوار اٹھانے پر مجبور کر دیا، جس کے نتیجے میں ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو پوری دنیا کے صیہونی غاصبوں کے دلوں پر چھریاں چلیں اور ہزاروں کی تعداد میں دنیا سے رخصت ہوئے، اور صلاح الدین ایوبی کی تاریخ پھر سے دہرائی گئی۔ لیکن آج کے دور میں ایک گروہ، جو خود کو مدعیانِ خلافت اور امت کا محافظ کہتا ہے، اس مبارک غزوہ سے غافل ہے۔ کیوں؟

داعش، وہ گروہ ہے، جس نے خلافت اور شریعت کا نام لے کر دنیا کے چاروں کونوں میں خون کے دریا بہا دیے اور تمام عمر اقصیٰ کی آزادی کے نعروں میں گزار دی۔

یہ جو آج ایوبی لشکر ایک بار پھر اقصیٰ کی آزادی کے لیے اپنے سروں کا سودہ کر رہے ہیں، یہ دنیا کے سخت ترین کفار سے جہاد اور قتال میں مصروف ہیں، ایسے میں اس جعلی خلافت کے ٹھیکیدار کہاں غائب ہیں؟

داعش آج فلسطینیوں کے ساتھ مل کر یہودیوں کے خلاف جہاد کیوں نہیں کر رہی؟

جس طرح عرب دنیا کے حکمران فلسطین کے مسئلے پر خاموش ہیں، کوئی ایمانی حس یا ضمیر ان کو جھنجھوڑتا نہیں، اسی طرح داعشی خوارج بھی عرب حکمرانوں کی طرح فلسطین کے مسئلے میں خاموش اور اندھے ہیں۔

داعش کی خاموشی کی وجہ:

داعش کا گروہ جو انہی اسرائیلی یہودیوں اور امریکہ کی طرف سے تشکیل دیا گیا منصوبہ ہے، یہودی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، وزیر دفاع، موساد کے سابقہ سربراہان، اور کمانڈر اور امریکہ کی طرف سے بلنکن داعش کی ریاست کے بڑے رہنما ہیں، اسی لیے داعش کی طرف سے کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوتا۔ داعشی خوارج کے تمام منصوبے اور نقشے اسرائیل کی طرف سے آتے ہیں اور پھر عراق، شام، صومالیہ، افغانستان اور پاکستان میں استعمال میں لائے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کا خون بہایا جاتا ہے، مساجد تباہ کی جاتی ہیں، اور عوامی مقامات پر قتلِ عام کیا جاتا ہے۔ جس طرح آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ غزہ میں صیہونی غاصبین کے ہاتھوں مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، اسی طرح کی مظالم داعش نے عراق، شام اور افغانستان میں بھی کیے ہیں، عام مسلمانوں کے گھروں کو جلایا، ان کی املاک چوری کیں، مردوں کو شہید کیا، ان کی بیویوں کو اٹھایا اور انہیں اپنی بیویاں بنایا۔ داعش اور اسرائیل کے کاموں میں اور کردار میں کوئی فرق نہیں۔

اسرائیل + امریکہ = داعش