فلسطینیوں کی حمایت میں داعش کی جوابی کاروائی

#image_title

فلسطینیوں کی حمایت میں داعش کی جوابی کاروائی

طاہر احرار

 

آج چھٹا دن ہے کہ فلسطینیوں نے اپنی عزت، مال اور آبرو کے تحفظ کے لیے اپنے سروں کو بیچ ڈالا ہے۔

عالمی برادری غاصب یہودیوں کی حمایت کر رہی ہے، امریکہ اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ حمایت کے لیے تل ابیب پہنچے، انہوں نے کہا: ہم وزرائے خارجہ کی حیثیت سے نہیں، بلکہ یہودی ہونے کی حیثٰت سے اپنے بھائیوں کے دفاع کے لیے آئے ہیں۔

بہت سے کافر ممالک کی طرف سے ان کے پاس بڑے بڑے ہتھیار آئے، بہت سے نوجوان مرد اور عورتیں ان کے سپاہی بن کر آئے!

صرف مسلمان ہیں، جو اپنے مظلوم بھائیوں کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔

افغانستان پہلا اسلامی ملک تھا جس نے فلسطینیوں کی جدوجہد کو تسلیم کیا اور اس کی حمایت کی۔

کل بروز جمعہ فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے پورے افغانستان میں علماء اور خطیبوں نے فلسطین کی حمایت کی اور غزہ پر اسرائیل کی بے رحمانہ بمباری کی مذمت کی، ان کے لیے دعائیں کی گئیں اور کابل سمیت بعض بڑے شہروں میں مظاہرے بھی کیے گئے۔

اسرائیلیوں کی اولاد داعش نے افغانوں کی اس حمایت کو برداشت نہیں کیا اور صوبہ بغلان میں لاتعداد بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

اطلاعات کے مطابق بیس سے زیادہ افراد جاں بحق اور درجنوں دیگر زخمی ہوئے جنہیں ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ افغان کیوں فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلی مظالم کی مذمت کر رہے ہیں۔

بظاہر، انہوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا، اور سینکڑوں افغانوں کو سوگوار کر دیا۔