فتنوں کا تعارف | پہلی قسط

طارق منصور

شریعت نے  فتنوں سے تحفظ کے لیےایمانی حصار کے دفاع کے تمام پہلوؤں کو نہایت واضح اور دقیق انداز میں بیان کیا ہے اور اس نے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قیامت تک آنے والے تمام فتنوں کے بارے میں ہر جگہ بصیرت و حکمت کے آثار اور نشانیاں رکھ دی ہیں۔ فتنوں اور برائیوں کو پہچاننے کی ضرورت ان شرعی اصولوں میں سے ہے جو ایمانی بنیادوں، فلاحی کاموں، دینی اعمال و ثمرات کے تحفظ کے ضامن ہیں۔

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور میں برائی کے بارے میں کچھ سوال کرتا تھا، تاکہ اس میں پڑ نہ جاؤں۔ (بخاری و مسلم)
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس اصول کی پیروی کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں: جو لوگ صرف نیکی کو پہچانتے ہیں اور برائی کو نہیں پہچانتے، ان کے بارے میں یہ شدید خدشہ ہے کہ وہ برائی کو نیکی کی نیت سے قبول کر لیں گے، یا وہ اس برائی کی اتنی مخالفت نہیں کریں گے جتنی کہ وہ لوگ کر سکتے ہیں جو اس برائی کو سمجھتے ہیں۔
اس بنا پر ہر مسلمان پر واجب ہے کہ برائی کو پہچاننے کے لیے وہ تمام اسباب اور عوامل جانیں جن کی وجہ سے مسلمانوں میں فتنہ، قتال، تکفیر، ارتداد اور قتل و غارت گری نے جنم لیا تاکہ ہمارے بچے، جوان اور بوڑھے پاکیزہ شعائر بے داغ کردار، اور مقدس نعروں کے نام پر، خفیہ سازشوں، شیطانی منتروں، دجالی جالوں اور متعفن فتنوں کا شکار نہ ہو جائیں۔ خیر و شر کی تمیز کے لیے دقیق محاسبہ کریں اور اسلام، جہاد، شرعی نظام جیسے مفاہیم سے دینی مصالح کو سامنے رکھتے ہوئے اعتدال کے ساتھ متعارف ہوں۔

جاری ہے…!