غزہ: گمشدہ ضمیر اور گمشدہ جذبۂ انسانیت

وحید اللہ مصلح

غزہ خوفناک فلموں کا حقیقی منظر ہے، ٹی وی دیکھیں، صیہونی ریاست کے ڈرونز گھوم رہے ہیں، کچھ وقت کے بعد اسرائیلی طیاروں سے گرائے گئے بم پھٹتے ہیں، ٹی وی کیمرے کا لینس زوم کرتا ہے اور کالے دھوئیں میں ڈوبے تباہ شدہ مکانات پر فوکس کرتا ہے، اور ہم اس اٹھتے ہوئے کالے دھوئیں کا منظر دیکھتے ہیں۔ اس منظر میں وہاں عورتیں، بچے، بوڑھے اور جوان اس دھوئیں کی لپیٹ میں ہیں۔ جب امدادی کارکن منہدم مکانات کی چھان بین کے لیے جاتے ہیں تو یہ تھکے ہارے لوگ ہاتھ میں پکڑے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کرتے ہیں کہ کوئی زندہ ہے؟ پتھر اور کنکریٹ کے سلیب ایک دوسرے پر گرے ہوئے ہیں اور ان کے نیچے انسانی گوشت کٹ رہا ہے…

اسرائیلی طیارے نچلی پرواز کرتے ہیں اور غزہ میں کاغذ گراتے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ لوگ جنوبی غزہ کی طرف چلے جائیں۔ کچھ لوگ ان پر بھروسہ کرتے ہیں، بسیں بھرتے ہیں اور متعین راستے پر چلنے لگتے ہیں، ابھی آدھا راستہ بھی طے نہیں ہوتا کہ صیہونی ریاست کے طیارے ان پر بم گرانے لگتے ہیں، کچھ وقت کے بعد اس تباہ ہوئی بس میں سے کچھ بچ جانے والے لوگ ٹی وی پر اسرائیلی بموں کی داستان سناتے نظر آتے ہیں…

تباہ حال ہسپتال اور زخمی ماحول

صیہونی ریاست وہاں شہروں اور اطراف میں گھروں پر مسلسل بمباری کر رہی ہے، زخمی بچے اور عورتیں سب کو ہسپتال لایا جاتا ہے، ان میں بوڑھے بھی ہیں۔ ڈاکٹر اور طبی کارکن سب زخمیوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں، آپریشن تھیٹروں میں گنجائش سے کہیں زیادہ زخمی پڑے ہیں، زخمی ہڈیوں کے علاج اور مرہم پٹی کے انتظار میں راہداریوں میں زمین پر پڑے ہیں۔ لواحقین اپنے مریضوں کو تسلی دے رہے ہیں اور کچھ ڈاکٹروں سے درخواست کر رہے ہیں کہ ان کے مریضوں کے پاس بھی آئیں، اسی لمحے صیہونی ریاست کے طیاروں نے ہدف کو نشانہ بنایا، کئی بم گرائے گئے اور پھر یہاں لائے گئے زخمی ایک بار پھر قتلِ عام  اور بربریت کا نشانہ بنائے گئے۔ یہ الاہلی العرب ہسپتال تھا اور یہاں صیہونی ریاست کے بموں سے سینکڑوں زخمی اور ان کے لواحقین شہید ہوئے اور سینکڑوں دیگر زخمی…

پھر بھی اسرائیل غزہ کے ہسپتالوں کو پیغام دیتا ہے کہ ہسپتال خالی کر دو، ہم بمباری کریں گے! انسان پھر بھی شرمسار نہیں ہوتا، انسانی ضمیر کو پھر بھی جھٹکا نہیں لگتا، ہلال احمر چیخ رہا ہے کہ زخمی منتقل کیے جانے کے قابل نہیں ، لیکن صیہونی ریاست کہتی ہے کہ سب سے پہلے جنہیں منتقل نہیں کیا جا سکتا انہیں منتقل کرو، ہسپتال خالی کرو تاکہ انہیں تباہ کیا جا سکے، یعنی اسرائیل چاہتا ہے کہ وہ ہسپتالوں کو تباہ کر دے اور پھر جب یہ گھروں پر بم گرائے تو بچے، عورتیں، بوڑھے اور جوان زخمی علاج سے محروم ہو جائیں اور پھر غزہ میں کوئی زندہ باقی نہ بچے۔

ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آتا ہے، یہ چوبیس گھنٹوں میں جانے کتنے آپریشنز میں سے ایک ہے، اسے آرام کی ضرورت ہے، نیند سے آنکھیں بوجھل ہو رہی ہیں، اسی لمحے اسرائیلی بموں سے زخمی اور شہید ہونے والے مزید لوگوں کو ہسپتال کی دہلیزوں میں لایا جا رہا ہے، ڈاکٹر اپنی نیند چھوڑ دیتا ہے اور زخمیوں کو شہیدوں سے جدا کرنے لگتا ہے۔ وہ تھوڑا آگے بڑھا، اور آگے دیکھا تو اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا، وہاں، عورتیں، بچے اور اس کے ماں باپ خون میں لت پت پڑے ہیں، اس کی آواز حلق میں ہی دب کر رہ گئی، وہ رونے لگا اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ بھاگا اور درد بھری آواز میں کہا حسبنا اللہ و نعم الوکیل، اس کی ماں آخری سانسیں لے رہی تھی اس نے اپنے ڈاکٹر بیٹے سے گھٹی آواز میں کہا، میرے بیٹے یہ وطن اور قبلے کی جنگ ہے، اس سے تھک مت جانا۔ پھر اس نے آخری سانس لی اور بیٹے نے اسے کلمہ شہادت کی تلقین کی… کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے اپنے پورے خاندان کی لاشیں دفن کر دیں!

دنیا یہ تمام ظلم دیکھ رہی ہے اور کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے، لیکن عالمی طاقتیں غدار ہیں، دنیا میں انسانی حقوق کے نعرے جھوٹے ہیں، حقوقِ نسواں اور بچوں کے حقوق صرف مغربی لوگوں اور صیہونی ریاست کے غاصبین کے لیے ہیں، مسلمان چاہے مغربی کلچر کو اپنا بھی لے پھر بھی وہ کبھی سر کا تاج نہیں بن سکتا بلکہ جوتے کا تلوا ہی رہے گا۔

غزہ: گمشدہ عالمی جذبہ اور وحشیانہ تقابل!

یہ غزہ ہے، یہاں بمباری اور حملے تھمتے نہیں، اسرائیل یہاں ہزاروں عام لوگوں کو عمداً نشانہ بنا رہا ہے، عورتیں قتل کی جا رہی ہیں اور بچے تشدد کا شکار ہو رہے ہیں، لیکن مغرب کو یہاں کا کوئی ایک فرد بھی عام شہری نہیں لگتا، اسی لیے ہزاروں عام شہری مارے جا چکے ہیں۔ اسرائیل مسلسل بمباری کر رہا ہے اور مغرب کہتا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ مغرب نے اسرائیل کے لیے اپنے دفاع کی خاطر اتنا بڑا اور وسیع میدان چھوڑ رکھا ہے کہ اس کے ظلم، تباہی اور قتل و غارت گری کی کوئی حد نہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ تمام ہلاکتیں غزہ میں ہو رہی ہیں، اور یورپ اور مغرب کے رہنما غمخواری کے لیے اسرائیل جا رہے ہیں… تمام ہلاکتیں غزہ میں جاری ہیں اور مُردوں پر ماتم اسرائیل میں ہو رہا ہے۔ یہ ناانصاف دنیا ہے، جب یہ تل ابیب جاتے ہیں تو بجائے یہ کہ کم از کم عام شہریوں کو قتل کرنے پر کچھ تنبیہ کر دیں، یہ سب وہاں کہتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آپ اس جنگ میں عام شہریوں کا خیال رکھتے ہیں! یہ ظالمانہ جانبداری کی حد ہے، یہ نہ صرف اسرائیل کے مظالم پر خاموشی ہے بلکہ پوری دنیا اسرائیل کے سامنے غلامانہ انداز میں تسلیم ہو چکی ہے۔

غزہ ایک بڑے قبرستان میں تبدیل ہو رہا ہے، لیکن اس قبرستان کی حدود سے اس پار پورا مغرب اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ خود غزہ ایک بڑی مغربی یلغار کے مقابلے میں تنہا کھڑا ہے۔ اس وقت، ایک وسیع تر تہذیبی تصادم کے تناظر میں اس تنازع میں بڑے مذہبی عوامل بھی شامل ہیں۔ غزہ میں اسلام ہے اور غزہ سے اس طرف مقبوضہ علاقے میں یہودیت ہے، اور مغری عیسائی دنیا یک زبان ہو کر اسرائیلی یہودی ایجنڈا کی حمایت میں متحد ہو گئی ہے اور اپنے تمام طیارے اور بحری جنگی بیڑے مشرقی وسطیٰ میں متحرک اور تیار کر رکھے ہیں۔

غزہ اور کروڑوں عرب پڑوسی!

فلسطین پر صیہونیت کے جان لیوا حملے اور مسلسل محاصرے کوئی آج کی بات نہیں ہیں، یہ عثمانی سلطنت کے ساتھ عرب شیوخ کی وہ غداریاں ہیں، جو بالآخر عثمانی سلطنت کے سقوط، فلسطین کی فروخت، اور عرب اتحاد کی ناکامی پر منتج ہوا۔ انگریز لارنس نے یہ سب کچھ عرب شیوخ کو دھوکا دے کر کیا اور پھر سائکس پیکو اور لوزان کے معاہدوں کے تحت مشرق وسطیٰ  میں درجنوں عربی ممالک اسی مغربی استعمار کے ایجنڈا کے تناظر میں بنائے گئے اور یہ اتنے زیادہ اس لیے بنائے گئے تاکہ ہر ایک پر علیحدہ علیحدہ انٹیلی جنس کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔

فلسطین بنیادی طور پر عرب قوم پرستی اور عرب وابستگی کا شکار ہے، وہ قوم پرستی کہ جس نے اپنے تجزیوں اور انفرادی طریقوں میں اتنے رنگ بدلے کہ اقدار اس کے مطابق گرتے چلے گئے۔ جمال عبد الناصر کے قومی نعرے کے عروج کے زمانے میں مصر کی تمام فضائیہ اس حال میں تباہ ہو گئی کہ فوجی شراب کے نشے میں دھت تھے، راتیں ام کلثوم کے گانے سننے اور رقاصاؤں کا ناچ دیکھنے میں گزار رہے تھے۔ جب اسرائیلی جیٹ طیاروں نے مصری ہوائی اڈہ تباہ کیا تو اس وقت وزیر دفاع عبد الحکیم عامر شراب کے نشے میں مدہوش پڑا تھا، اس نے بعد میں خودکشی کر لی۔ عرب کبھی بھی اہم مسائل پر متحد نہیں ہوئے، ان میں سے ہر ایک نے سائکس پیکو کے تقسیم کیے جغرافیہ میں اپنی سلطنتوں کے مقامی مفادات کا ہی خیال کیا، اور اہم مسائل اور ثقافتی شناخت کو اسی طرح ماضی کے بیابانوں میں گم کر دیا۔

ان کروڑوں عربوں کے ہوتے ہوئے غزہ ایک دائمی اور مسلسل محاصرے کی زد میں ہے۔ یہ عشروں کا قصہ ہے۔ امن کے دور میں بھی ان کی بجلی، خوراک، پانی، گھریلو سامان، تعمیراتی وسائل، ادویات اور زندگی کی تمام ضروری اشیاء اسرائیل کی اجازت کے بغیر غزہ نہیں لے جائی جا سکتیں۔ غزہ چوبیس گھنٹے اسرائیلی جاسوسی سیٹلائٹس کی توجہ کا مرکز ہے، اسرائیل کسی بھی وقت یہاں بمباری کر سکتا ہے، حتیٰ کہ اسرائیل نے ان کے اس پر امن احتجاج پر بھی گولیاں برسائیں، جسے انہوں نے دوبارہ واپسی کا عنوان دیا تھا۔

فلسطین (غزہ) اپنے عربی ماحول میں ایک طویل عرصے سے مظالم کا شکار ہے۔ فلسطین اس عربی قوم پرستی کی تجزیاتی کشمکش میں ایک جزیرے کی موجودہ شکل اختیار کر گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی سیکولرازم اور استبدادی حکمرانی ان کے اپنے جغرافیہ میں ان کی اپنی عوام کے اقدار اور عقائد سے متصادم ہے، اس لیے انہوں نے اپنے ٹینکوں کا رخ اپنی ہی اقوام کی طرف کر رکھا ہے۔ یہاں فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل نے اپنے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے، اور اپنے ٹینکوں کے ساتھ فلسطینی قوم کے سامنے کھڑے ہیں، یہی فرق ہے عربی اور اسرائیلی ریاستوں کے درمیان۔

تاریخ کا ظلم اور آخری محاز

تاریخ کا یہ جبر اب ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے کہ دنیا ایک قوم کو اجتماعی سزا ملتے دیکھ رہی ہے، دنیا ٹی وی پر براہ راست دیکھ رہی ہے کہ گھروں، ہسپتالوں اور مسجدوں پر بمباری کی جا رہی ہے، دنیا براہ راست دیکھ رہی ہے کہ بچوں عورتوں اور مردوں کو سامنے قتل کیا جا رہا ہے، دنیا براہ راست دیکھ رہی ہے کہ ایک قوم کا اجتماعی قتل عام کیا جا رہا ہے، لیکن انسانی ضمیر سو رہا ہے، خاص طور پر مغربی نظام میں انسانی حقوق کی تعریف میں غزہ شامل نہیں، وہاں خون کا کوئی رنگ نہیں، وہاں نہ اسرائیلی بموں کی کوئی آواز ہے نہ ہی اس کا کوئی نقصان، یہ دوغلی دنیا انسانوں کے ساتھ دوغلا رویہ رکھتی ہے، ان کی لغت میں مسلمان اور تیسری دنیا کے انسان انصاف اور عدل کے حقدار نہیں۔

اس ناانصاف دنیا میں اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا، جب تک انسانوں میں تفریق کی جاتی رہے گی، کہ غزہ آگ میں جل رہا ہو، کہ یمن اور عراق میں جنگ چل رہی ہو، کہ شام اور لیبیا تباہ ہو رہے ہوں، اور اس جنگی ماحول میں اسرائیل اپنے لوہے کے گنبدوں میں امن کا خواب دیکھے، ایسا امن ناممکن ہے، ہر وقت ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں ہو سکے گا، عرب پڑوس میں یہ مغربی انٹیلی جنس ہمیشہ حکمران نہیں رہے گی، ایک دن آئے گا جب یہاں عوام کا غصہ عوام کی مرضی کے نمائندوں کو اقتدار میں لائے گا۔ ۲۰۱۲ء کی عرب بہار پھر دہرائی جا سکتی ہے، زیادہ نہیں اگر اس پالیسی نے مصر کی عوام کو ہی اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور یہ فطری بات ہے کہ عوام میں اسلام پسندی کی جڑیں موجود ہیں، عوامی انقلاب کے ساتھ عسکری ٹیکنالوجی کا ارتقاء خطے میں ایک ایسا طوفان لے کر آئے گا کہ پھر مسئلۂ فلسطین اس چھوٹے سے غزہ اور مغربی کنارے تک محدود نہیں رہے گا۔ فلسطین کا اپنا جغرافیہ ہے اور عثمانی آرکائیوز میں فلسطین کا نقشہ محفوظ ہے۔

ٹی وی چل رہا ہے اور الجزیرہ پر دو ذخمی کم عمر بھائی ہسپتال میں ہیں، بستر پر پڑا ایک بھائی شہادت کی راہ تک رہا ہے، اور ساتھ بیٹھا دوسرا بھائی اسے کلمۂ شہادت کی تلقین کر رہا ہے، اس کی روح نکلنے والی ہے اور وہ آہستہ آہستہ کلمہ کا ورد کر رہا ہے لیکن یہ چھوٹا جنگجو اسے پکار رہا ہے کہ زور سے کہو، وہ زور سے کہنے کی کوشش کرتا ہے اور اسی میں اس کی روح پرواز کر جاتی ہے… اسرائیل غزہ میں ایسی نسل سے برسرِ پیکار ہے اور مغرب ایسی نسل کے مقابلے میں اسرائیل کی حمایت میں اکٹھا ہو رہا ہے۔

لیکن اے دنیا کے جارح قطب! ایسی نسل سے جنگ نہیں جیتی جا سکتی، وہ یا تو سب مر جائیں گے یا اپنی زمین اور اپنا قبلہ جیت جائیں گے۔ یہ اقدار کی جنگ ہے اور تمہارا سامنا ایک قابل قدر اور پر عزم قوم سے ہے۔ وہ وقت آئے گا کہ جب اس جنگ کا اختتام فلسطینی کریں گے۔

یہ آخری محاذ ہے!