غزہ اور بے نقاب ہوتے چہرے!

عبد اللہ ایلیار

بلاشبہ، غزہ تکلیف میں ہے اور سخت زخم خوردہ ہے۔

اس کا آشیانہ ویران کردیا گیا، بچوں کو شہید کر دیا گیا۔

اور ماؤں کو ماتم پر مجبور کر دیا گیا۔

الحمد للہ، غزہ اب بھی متانت سے قدم بڑھا رہا ہے اور آواز بلند کر رہا ہے۔

وہ واضح انداز میں اور خوبصورتی سے بات کر رہا ہے،

وہ بات کہ جس کی مٹھاس اور حلاوت سے اب تک دنیا محروم ہے۔

سچی اور حق کی بات!

غزہ جہالت و تاریکی کے پردے چاک کرنے میں کامیاب ہو چکا۔

اور اس نے آج کی دنیا اور انسانیت کا حقیقی چہرہ واضح کر کے دکھا دیا۔

آزادی و انصاف کے دعویداروں کا چہرہ!

مغربی انسان اور جمہوری انسان کا چہرہ!

انسانی حقوق اور اور آزادیٔ اظہار کا چہرہ!

بچوں کے حقوق اور انسانی اقدار کے تحفظ کے اداروں کے محافظین کا چہرہ!

حتیٰ کہ غزہ ایمان و خلافت کے دعویدار موجودہ دور کے داعشی خوارج کا حقیقی اور منافقانہ چہرہ واضح طور پر آشکارہ کرنے میں بھی کامیاب ہو گیا!

ظالموں کے خلاف جہاد کا نعرہ بلند کرنے والے دعویدار! وہ جو خود کو فرقۂ ناجیہ میں شمار کرتے ہیں اور دیگر کو مشرکین میں!

غزہ نے ثابت کر دیا کہ یہ خوارج نہیں بلکہ موساد اور بین الاقوامی کفر کی سکیورٹی فورسز کے سپاہی ہیں، جو اب مجاہدین کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے آئے ہیں…

غزہ مزاحمت، جہاد اور آزادی کی علامت ہے۔

اور وہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا، آنے والی نسلوں اور ملت کے مستقبل کے لیے ایک تاریخی نمونہ اور ریکارڈ…