عالم اسلام کے لیے داعش کی خدمات؟

پہلی قسط

#image_title

عالم اسلام کے لیے داعش کی خدمات؟

پہلی قسط

طاہر احرار

عراق:

امریکہ نے اس بہانے سے کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں، ۲۰۰۳ء میں اس ملک پر حملہ کر دیا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ عراق میں ایسے ہتھیار نہیں تھے۔

لیکن امریکہ نے اپنی عوام کا رخ دوسری طرف مبذول کر دیا، کہ وہ چاہتے ہیں کہ صدام حسین کی آمرانہ حکومت کو ہٹا کر اس کی جگہ جمہوری حکومت قائم کی جائے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نسبتاً امن قائم ہوا، لیکن عوام کا مطالبہ یہ تھا کہ امریکی عراق سے چلے جائیں۔ اگرچہ اس مطالبے کی وجہ سے جنگ میں تیزی آئی لیکن پھر بھی امریکی فوجی اس ملک سے بالآخر چلے گئے۔

امریکہ نے دوبارہ واپس آنے کے لیے شیعہ سنی فسادات شروع کروائے، اور اس کے لیے داعش کو جنم دیا، جس نے ایک بار پھر امریکی فوجی موجودگی کا اچھا موقع فراہم کر دیا۔

 

داعش:

آغاز میں داعش بہت تیزی سے آگے بڑھی۔ بین الاقوامی تنظیم بننے سے قبل، بین الاقوامی اور مغربی میڈیا نے اس کی خوب تشہیر کی، خبروں کی شہہ سرخیاں اور ہر کسی کی مجلس کا موضوع یہی داعش بن گئی۔

امریکی امداد اور ڈالروں نے اور ان کے جبر اور ظلم نے داعش کو بہت شہرت دی۔

امریکہ میں جنگی تحقیق کا مرکز (Institute of War Analysis)جو کہ پوری دنیا میں جنگوں کا مطالعہ کرتا ہے، اس نے عراق میں داعش کی جنگ کا اس طرح تجزیہ کیا:

امریکہ نے داعش سے جنگ کے بہانے بیس لاکھ عراقیوں کو معذور یا ہلاک کر دیا۔ عراق کے ۴۲ فیصد تیل کے کنویں بمباری کی وجہ سے تباہ ہو گئے، عراقی فوج کی ۵۰ فیصد گاڑیاں تباہ ہوئیں، ۸۵ فیصد اسلحہ تباہ ہوا ہا استعمال میں آیا، ۸۰ فیصد انفرا سٹرکچر تباہ ہوا اور اسی بہانے سے عام لوگوں ے ۵۴ فیصد گھر یا تباہ ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا۔

صرف داعش کے ساتھ جنگ کرنے کے بہانے عراقی مسلمانوں اور بالخصوص سنیوں کو ۶۰ لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ عراق کے لوگوں کے لیے جھوٹی خلافت کا مالی اور جانی نقصان تھا۔

انہوں نے خود عراقی عوام کے ساتھ کیا کیا؟

ہم دوسری قسط میں اس چیز کا مطالعہ کریں گے۔

جاری ہے…