عالم اسلام پر داعش کے برے اثرات | تیسری قسط

طاہر احرار

#image_title

عراق:

اسلام کے بابرکت دین میں لوگوں کو جنگ کے بغیر کفار کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ اس کا مطلوب و مقصود مسلمانوں اور اسلام کا غلبہ ہے۔

آپ دیکھیں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں مسلمانوں کے پڑوس میں ہزاروں غیر مسلم آباد تھے، لیکن کہیں بھی مسلمانوں نے ان کا قتلِ عام نہیں کیا، بلکہ انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا۔

جب عراق کے زیادہ تر حصے پر داعش کا قبضہ ہوا، تو سنجار کے پہاڑوں نے ایسے واقعات دیکھے کہ جو ایک طول عرصے تک مسلمانوں کے لیے عار کا باعث رہیں گے۔ کیونکہ دنیا اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ داعش ایک مسلمان تنظیم ہے۔

عراق میں سنجار کے علاقے میں یزیدی شیعہ رہتے ہیں، داعش کی حکومت کے تحت آنے کے بعد اس علاقے میں کیا بیتی یہ ہم العربیہ چینل کی ایک مختصر رپورٹ کے ذریعے دیکھتے ہیں:

داعش سے تعلق رکھنے والے ایک قیدی عمار حسین کے مطابق:

صرف میں نے سنجار میں پانچ سو کے قریب لوگوں کو قتل کیا، ہر روز ہم تیس سے چالیس لوگوں کو پکڑتے، پھر سنجار کے قلعہ کے پیچھے زمین پر پھینک کر قتل کرتے۔ اس نے مزید کہا کہ صرف میں نے وہاں ۲۰۰ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور یہ میرے لیے عام سی بات تھی، کیونکہ میں نوجوان ہوں اور شادی شدہ بھی نہیں ہوں۔ داعش میں فتویٰ دینے والوں نے مجھے بتایا کہ ان کا قتل افضل جہاد ہے، ان کی عورتیں ناپاک ہیں، تم نوجوان ہو، جتنا تمہارے بس میں ہو ان کے ساتھ جنسی زیادتی کر سکتے ہو۔

اس قصے کو میں یہیں چھوڑتا ہوں۔

داعش نے عالمِ اسلام پر ایسے نشان اور بدنما داغ چھوڑے ہیں کہ یہ تاریخ میں ہمارے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا بنا رہے گا اور لوگوں کے سامنے اسلام کو ایک بدنما دین کے طور پر متعارف کروائے گا۔ العیاذ باللہ

مغرب نے اسی بدنامی کی خاطر داعش کو بنایا اور اسی بدنامی کی خاطر اسے بطور مسلم تنظیم متعارف کروایا اور خلافت کے مقدس نام کو داغدار کیا۔