عالم اسلام پر داعش کے برے اثرات | چوتھی قسط

طاہر احرار

#image_title

شام:

شام جو انبیاء کی سرزمین کے طور پر مشہور ہے، ایک آباد، زرخیز ملک تھا۔ حکمران شیعہ تھے اور مسلمانوں کے خلاف مظالم کرتے تھے۔ عوام نے حکمران سفاک حکومت کے خلاف بغاوت کی جسے بشار الاسد نے کچلنے کی کوشش کی اور خانہ جنگی شروع ہو گئی۔

اس خانہ جنگی کے دوران داعش نے بھی شام میں اپنی کاروائیاں شروع کر دیں۔

یہاں میں خانہ جنگی کے اعداد و شمار کا ذکر نہیں کروں گا بلکہ داعش کے حملوں میں مارے جانے والوں کے اعداد و شمار کا ذکر کروں گا۔

انسٹی ٹٰیوٹ آف اسٹڈی آف وار (Institute of Study of War) کے تجزیے کے مطابق:

  • ۲۰۱۵ء جنگ کا سب سے خونی سال تھا، ایک سال میں ایک لاکھ دس ہزار لوگ مارے گئے۔
  • ۲۰۱۵ء سے ۲۰۲۲ء تک ۲۵ ہزار ۵۴۶ صرف بچے مارے گئے، اسی عرصے میں ۱۵ ہزار ۴۳۷ خواتین اور ۶۹ ہزار نواجوان قتل ہوئے۔

سوچیں اس کاذب خلافت کے لیے کتنے بچے یتیم ہو گئے اور کتنی خواتین بیوہ ہو گئیں۔

کاش! کہ انہوں نے ایک اسلامی خلافت ہی قائم کی ہوتی، لیکن جب تک یہ وہاں حاکم تھے، انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے شر اور فساد کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

انہیں کی وجہ سے شام آج بھی جل رہا ہے، اور روسی بم ہمارے مسلمانوں کے گھر تباہ کر رہے ہیں۔

جاری ہے…!