عالمِ اسلام پر داعش کے برے اثرات | دوسری قسط

طاہر احرار

#image_title

عراق:

عراق میں جانی و مالی نقصانات سے متعلق ادارہ (Institute of War Analysis) وہاں نقصانات سے متعلق مذکورہ ادارے کی تحقیق کا مطالعہ کر رہا ہے۔ وہ لکھتا ہے:

مالی و جانی نقصانات کے علاوہ عراقی عوام مختلف مسائل کا شکار ہوئی:

5.8% عراقی پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار ہیں،

44% لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں،

15%نوجوان ان پڑھ ہیں،

63% لوگ بے روزگار ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ عراق میں شیعہ اور سنی مذاہب کے درمیان نفرت اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ تاریخ میں اس ی نظیر نہیں ملتی۔

حکومت کے ہر حصے پر شیعوں کی حکومت ہے اور سنیوں کو کوئی موقع نہیں دیا جاتا۔

وہ مظالم جو داعش نے شیعوں پر کیے اس کا بدلہ اب سنی چکا رہے ہیں۔

عراق جو ایک عرب ملک ہے، ایران سے اتنا قریب ہو چکا ہے کہ اس کے تمام فیصلے ایران میں اور ایران کی خواہش کے مطابق کیے جاتے ہیں۔

داعش کی ظلم و بربریت کی وجہ سے یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ عراق دوبارہ اس حالت میں کب واپس آئے گا کہ حکمران سنی مسلمان ہوں، اور عالمِ اسلام بالخصوص عربوں کے درد کی دوا بنیں گے۔