عافیہ صدیقی، امارت اسلامیہ اور موجودہ حالات کے حوالے سے تکفیری عناصر کے ایک اعتراض کا جواب

#image_title

عافیہ صدیقی، امارت اسلامیہ اور موجودہ حالات کے حوالے سے تکفیری عناصر کے ایک اعتراض کا جواب

عزیز الدین مصنف

 

فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ اہل حرب اگر دار الاسلام میں گھس کر مسلمانوں کے اموال ونفوس یا قیدیوں پر قبضہ کر لیں تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ انھیں ان سے چھڑانے کے لیے ان کا پیچھا کریں، لیکن اگر کفار اپنے قلعوں میں داخل ہو جائیں اور ان سے قیدیوں کو چھڑانے کے امکانات معدوم ہو جائیں تو پھر مسلمان ان کا پیچھا کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

(ابن نجیم، البحر الرائق ۱۳/۲۹۰)

بلکہ بعض فقہا اس صورت میں بھی یہ کہتے ہیں کہ اگر کفار کسی ایک آدھ مسلمان کو گرفتار کر کے ساتھ لے گئے ہوں تو بھی ان کا پیچھا کرنا لازم نہیں۔

فقہ شافعی کی کتاب ’مغنی المحتاج‘ میں اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ: لان ازعاج الجنود لخلاص اسیر بعید

(مغنی المحتاج، ۶/۲۴)

’’کسی ایک قیدی کی رہائی کے لیے پورے کے پورے لشکر کو حرکت میں لانا قرین قیاس بات نہیں ہے۔‘‘

فقہا نے مسلمان خواتین کے دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہو جانے کو بجا طور پر زیادہ اہمیت کا معاملہ قرار دیا اور یہ کہا ہے کہ اگر کفار مسلمانوں کا مال چھین کر دار الحرب کی طرف واپس جا رہے ہوں تو ان کے اپنے علاقے میں داخل ہونے سے پہلے پہلے ان کا پیچھا کر کے ان سے مال واپس حاصل کرنا واجب ہے، لیکن اگر کوئی مسلمان خاتون دشمن کے ہاتھوں قید ہو جائے تو کفار کے دار الحرب میں داخل ہو جانے کے باوجود ان کا پیچھا کرنا ضروری ہے، لیکن یہاں بھی فقہا شرعی ذمہ داری بیان کرتے ہوئے عملی امکانات کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ مسلمان خواتین کو چھڑانے کے لیے کفار کا پیچھا کرنا اس وقت تک لازم ہے جب تک وہ ابھی دار الحرب کے سرحدی علاقے میں ہوں۔ اگر وہ اپنی آبادیوں میں پہنچ کر قلعوں اور چار دیواریوں میں داخل ہو چکے ہوں تو ایسا کرنا لازم نہیں ہوگا۔

((شرح السیر الکبیر، ۱/۲۱۶ تا ۲۱۸۔ ابن نجیم، البحر الرائق ۱۳/۲۹۰)

 

اس فقہی جزئیے سے ایک بات تو یہ واضح ہوتی ہے کہ فقہا مسلمانوں کے مرد قیدیوں کو مال کے حکم میں شمار کرتے ہیں اور ان کو چھڑانے کے لیے کفار کا پیچھا کرنے کو اسی وقت تک ضروری سمجھتے ہیں جب تک وہ دار الاسلام میں ہوں۔ دار الحرب کے حدود میں داخل ہو جانے کے بعد وہ مال واسباب اور مرد قیدیوں کو چھڑانے کے لیے پیچھا کرنے کو لازم نہیں قرار دیتے۔ دوسری بات یہ واضح ہوتی ہے کہ فقہا اس صورت میں بھی جبکہ دشمن دار الاسلام میں داخل ہو کر مسلمانوں کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا کر اپنے ساتھ لے جا رہا ہو، ان کو چھڑانے کے لیے قتال کی فرضیت کو تین واضح شرائط کے ساتھ مشروط کرتے ہیں:

 

ایک یہ کہ مسلمانوں کے پاس ان کو چھڑانے کی طاقت ہو۔ (لہم علیہم قوۃ)۔

 

دوسرے یہ کہ دشمن مسلمان قیدیوں کو لے کر دار الحرب میں اپنے قلعوں اور محفوظ مقام پر نہ پہنچ چکا ہو۔ اگر وہ مسلمانوں کی گرفت سے نکال چکا ہو تو اس کا پیچھا کرنا لازم نہیں۔ (وان ترکوہم ولم یتبعوہم رجوت ان یکونوا فی سعۃ من ذلک)۔

 

تیسرے یہ کہ دشمن کا پیچھا کرنے سے اس بات کی امید ہو کہ مسلمان اس کے دار الحرب میں داخل ہونے سے پہلے اس کو جا لیں گے۔ اگر اس کی توقع نہ ہو تو دشمن کا پیچھا نہ کرنے کا فیصلہ درست ہوگا۔ (کانوا فی سعۃ من ان یقیموا ولا یتبعوہم)۔

 

فقہا کا بیان کردہ یہ مشہور جزئیہ بھی کہ اگر مشرق میں کوئی مسلمان خاتون دشمن کے ہاتھوں قید ہو جائے تو مغرب کے مسلمانوں پر اس کو چھڑانا لازم ہے، اسی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ البحر الرائق میں ہے:

 

وفی البزازیۃ: امراۃ مسلمۃ سبیت بالمشرق وجب علی اہل المغرب تخلیصہا من الاسر ما لم تدخل دار الحرب لان دار الاسلام کمکان واحد اھ ومقتضی ما فی الذخیرۃ انہ یجب تخلیصہا ما لم تدخل حصونہم وجدرہم (البحر الرائق ۱۳/۲۹۰)

’’بزازیہ میں ہے کہ مشرق میں اگر کوئی مسلمان عورت (کفار کے ہاتھوں) قید ہو جائے تو مغرب کے رہنے والوں پر اسے چھڑانا واجب ہے، جب تک کہ وہ دار الحرب میں داخل نہ ہو جائے۔ کیونکہ دار الاسلام ایک ہی علاقے کا درجہ رکھتا ہے (اس لیے دار الاسلام کی حدود میں اسے چھڑانا بحیثیت مجموعی پورے دار الاسلام کے ذمے ہے)۔ جبکہ ذخیرہ میں درج جزئیے کا تقاضا یہ ہے کہ (دار الحرب میں داخل ہونے کے بعد بھی) جب تک مسلمان خاتون کفار کی آبادی کے علاقے اور ان کے قلعوں میں نہ داخل نہ ہو جائے، اسے چھڑانا مسلمانوں پر واجب ہے۔‘‘