طوفان الاقصیٰ اور داعش کی خاموشی

#image_title

طوفان الاقصیٰ اور داعش کی خاموشی

طاہر احرار

انہیں گھروں سے بے گھر کر دیا گیا، اپنے وطن سے جلا وطن کر دیا گیا، ان کی جائیدادوں کو ہتھیا لیا گیا، آئے روز نوجوان زندانوں میں گئے یا شہید ہوئے، ان کے سامنے ان کی ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کی گئی اور سروں سے چادریں کھینچی گئیں، عبادت کے لیے مساجد جانے پر پابندی لگا دی گئی، وہ اپنے ہی ملک میں غلام بن کر رہ گئے۔ آج تیسرا دن ہے کہ فلسطینی عوام مجبور ہو کر اپنے خون اور گوشت کے بدلے خود کو آزاد کروا رہے ہیں اور یہودی قبضے کو ختم کر رہے ہیں۔

انہوں نے حیران کن اور اچانک حملے کیے، اسرائیل کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ امت مسلمہ نے ان کے لیے دعائیں شروع کیں، پوری دنیا سے ان کی فتح و نصرت کے لیے نوافل و تلاوت کا اہتمام کیا گیا اور منتیں مانی گئیں۔

امارت اسلامیہ افغانستان نے ان کی واضح سیاسی حمایت کی حتیٰ کہ روس اور ایران نے بھی!

صرف اسلامی خلافت کے نام کے دعویداران (داعش) ہی خاموش ہے، وہ اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ فلسطین کی حمایت میں کم از کم ایک بیان ہی نشر کر دیں، کیونکہ ایسا کرنے سے ان کے آقا ناراض ہو جائیں گے اور طے شدہ معاہدے ٹوٹ جائیں گے۔

پس ثابت ہوا کہ یہ گروہ اسرائیل کے خلاف جنگ کو جہاد نہیں کہتا، شہداء کو شہید نہیں کہتا، بیت المقدس کو اپنا قبلہ نہیں کہتا اور نہ ہی اس کی آزادی کی فکر کرتا ہے۔ اس کا مقصد اور ہدف صرف اور صرف ’گریٹر اسرائیل‘ کی ریاست کا قیام ہے، اور انہیں اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

لیکن اللہ کا شکر ہے کہ کل داعشی بھاگ رہے تھے اور آج اسرائیلی…!