شہیدِ اسلام شیخ رحیم اللہ حقانی شہید رحمہ اللہ کی مختصر سوانح حیات

ڈاکٹر قدامہ احمد

جب سے ہوش سنبھالا ہے کسی ایسی شخصیت کی تلاش رہتی تھی کہ جس کی ذات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم والے اخلاق نظر آئیں، جو ہر کام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن اور آثار کا متبع ہو اور جس کو دیکھ کر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یاد آجائے ـ یقینا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہی وہ مبارک ہستیاں ہیں کہ جن کو اللہ تعالی نے اپنے پیارے اور آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور صحبت کیلئے چنا اور پھر انہیں اصحابِ ابرار کے ہاتھوں اللہ تعالی کا مبارک دین دنیا میں پھیلا اور قائم ہواـ

ہر دور میں ایسے اولیائے کرام، مشائخ عظام، مجاہدین فی سبیل اللہ، علمائے ربانیین اور دیگر نیک و متقی ہستیاں موجود ہوتی ہیں، جو اس زمانے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے نمونے ہوتے ہیں اور ان کی زندگیاں دیکھ کر جہاں ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم یاد آتے ہیں وہیں ہمارے دل میں اپنے پیارے دین اسلام کی عظمت و حقانیت پر یقین پختہ ہو جاتا ہے ـ اللہ تعالی نے پاکستان و افغانستان سمیت پورے خطے کو اس دور میں ایسے راہنما عطاء کر رکھے ہیں جنہوں نے اپنے کردار و عمل سے اس دورِ انحطاط و زوال میں اپنی قوم و ملت میں اسلام کی روح بیدار کرنے کی کوشش کی اور ان کے ذہنوں اور دلوں میں اسلام کے حقیقی نقوش کو ثبت کیا ـ

اگر ان رہنماوں کی فہرست بندی کی جائے تو یقینا بہادری میں بے مثال افغانستان سے تعلق رکھنے والے شہید شیخ رحیم اللہ حقانی صاحب رحمہ اللہ اور مظلوم امت مسلمہ کا درد رکھنے والے ان کے تلامذہ عظام سر فہرست نظر آئیں گے ـ حضرت شیخ اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں میں دین کا نور پھیلانے والی ہستی، ولی کامل، عالم باعمل، داعی بے مثال، مجاہد پُر عزم، امیر پُر وقار، اخلاص و تقوی کے پیکر، شجاعت و غیرت کی عملی تصویر، ہمارے محبوب قائد، اپنے رفقاء سے دوست اور مخلص بھائی کی طرح تعلقات رکھنے والے عظیم شخصیت تھے ـ ہم نے انہیں ان صفات حمیدہ سے متصف پایا، ان کے بارے میں ہمارا یہی اچھا گمان ہے، آگے اللہ خوب جانتا ہے ـ

شیخنا الشہید رحمہ اللہ تعالی کے مجموعہ صفات کو اکٹھا کرنا بندہ ناچیز کیلئے انتہائی مشکل کام ہے لہذا طوالت سے بچتے ہوئے ہم ان کے مختصر حالات کو ذکر کریں گے جو شیخ صاحب کی زندگی سے بے خبر مسلمانوں کیلئے مفید ثابت ہو سکتے ہیں ـ

نام و نسب:

محمد رحیم اللہ بن سعد اللہ بن محمدا جان بن شیخ محمد بن عارف باللہ شیخ عبد المجید اخندذادہ بن عارف باللہ و شیخ عبد اللہ آخندزادہ خلیفۂ عارف باللہ مولانا عبد الغفور (سیدو شریف سوات)

تاریخ و مقام ولادت:

حضرت شیخ رحمہ اللہ 1978ء بمطابق 1399 ھ ق، جمعے کے دن شیروں کی سرزمین افغانستان کے صوبہ ننگرھار کے ضلع ”پچیراگام“ میں پیدا ہوئے ـ

قوم:

حضرت شیخ صاحب معروف پشتون قوم ”خروٹی“ سے تعلق رکھتے تھے ـ

ابتدائی تعلیم:

چونکہ حضرت شیخ رحمہ اللہ کی ابتدائی تعلیم کے وقت بدنام زمانہ سرخ ریچھ شکست خوردہ کمیونسٹ روس نے افغانستان کے بے گناہ مسلمانوں پر حملہ کر رکھا تھا تو حضرت شیخ صاحب نے راہ ہجرت اختیار کی اور ابتدائی تعلیم کی شروعات مدرسة الہجرة والجہاد سے کی ـ بعد میں مختلف مشہور و معروف مدارس سے علوم دینیہ کی تکمیل کی جن میں سر فہرست ہیں دار العلوم الاسلامیہ رستم مردان، دارالعلوم منہاج العلوم نریاب ہنگو، فیض العلوم لوگر محمد آغا، دارالعلوم ہاشمیہ باڑہ خیبر ایجنسی، دارالعلوم فاروقیہ لمولانا سید قریش رحمہ اللہ یار حسین صوابی، دار العلوم اسلامیہ دیر کمبڑ لشیخ صوفی محمد رحمہ اللہ ـ

موقوف علیہ:

حضرت شیخ صاحب رحمہ اللہ نے موقوف علیہ جامعہ نعمانیہ چارسدہ میں شیخ الحدیث محمد ادریس صاحب سے پڑھی ـ

تفسیر القرآن:

تفسیر حضرت شیخ حمد اللہ جان عرف ڈاگئ باباجی صاحب رحمہ اللہ تعالی سے پڑھی ـ

فراغت:

علوم دینیہ کی تکمیل مشہور بہ دیوبند ثانی جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے 1998ء میں کی ـ

جہادی خدمات:

حضرت شیخ رحمہ اللہ زمانہ طالب علمی سے جہادی میدان کا شہسوار رہے ہیں ان کی جہادی خدمات اتنے زیادہ ہیں کہ تمام کو اکٹ کرنا میرے لئے ناممکن ہے ـ مختصراً یہ کہ انہوں نے لسانی جہاد بھی کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بدنی جہاد بھی کیا ہے دونوں کو مختصراً نقل کرتے ہیں ـ

جہاد میں شرکت:

باطل کی تردید خواہ وہ رافضیوں کی شکل میں ہو یا صلیبیت، یہودیت، الحاد، سیکولرزم، اہل جمہوریت یا پھر کمیونسٹ کی شکل میں ہو، اس کے ساتھ ساتھ اپنے تلامذہ عظام کو مناظرے کے کورس بھی پڑھاتے رہتے تھے اور ساتھ ساتھ خود عملی مناظرے بھی کیے ہیں ـ

اس کے علاوہ ایک جہادی جماعت (ڈلگئ) کے امیر رہے، امارت اسلامیہ کے صوبہ ننگرھار کے نظامی (عسکری) کمیشن کے مسئول، امارت اسلامیہ کے مرکزی نظامی کمیشن میں خدمت، امارت اسلامیہ کے خصوصی محاکموں میں خدمت، امارت اسلامیہ کے مالی کمیشن میں خدمت، مجاہدین اسلام کی اصلاح اور ان کی نظریاتی تربیت کیلئے مختلف صوبوں کی طرف اسفار شامل ہیں ـ شیخ کی جہادی خدمات کا سلسلہ یہیں پر نہیں رکتا، بلکہ جب امارت اسلامیہ افغانستان کے جانبازوں کے ہاتھوں کابل فتح ہوا تو حضرت شیخ نے تحریک کی رہبری شوریٰ کے رکن مولانا قاری محمد شعیب صاحب اور شیخ گل محمد باجوڑی صاحب کے ساتھ ایک ملاقات میں جہادِ پاکستان کے لیے خود کو پیش کیا اور فرمایا کہ جہادِ افغانستان کے لیے فکری اور افرادی محنت جو مطلوب تھی وہ ہم نے کی اور اب الحمدللہ افغانستان فتح ہوگیا ـ (اب محاذ پاکستان ہم کو پکار رہا ہے) چنانچہ قاری صاحب حفظہ اللہ نے امیر تحریک طالبان پاکستان مفتی نور ولی محسود (مفتی ابو منصور عاصم حفظہ اللہ تعالیٰ و رعاہ و اطال اللہ بقائہ) سے مشاورت کے بعد شیخ صاحب سے جواباً عرض کیا کہ علمی میدان میں آپ کی اشد ضرورت ہے، تشنگان علوم اور تحصیل علم و کمال کی راہ میں حیران و سرگرداں پھرنے والے آشفتہ حالوں کو آپ کی زیادہ ضرورت ہے ـ اس کے بعد شیخ صاحب جہادِ پاکستان میں عملی شرکت کرنے سے باز رہے لیکن تائید و نصرت کا سلسلہ تا دم شہادت جاری رہا ـ

تدریس:

حضرت شیخ رحمہ اللہ ایک مجاہد فی سبیل اللہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مایہ ناز اور محنت کش مدرس بھی تھے ـ ابتدائی فنون سے لے کر دورۂ حدیث تک اسباق مختلف مدارس میں پڑھائے ہیں جن میں سرفہرست یہ ہیں ۔

الجامعة الرازیہ ناصر باغ پشاور، امارت اسلامیہ کا جہادی مدرسہ الجامعة الصدیقیہ ننگرھار، الجامعة الاسلامیہ جلال آباد، الجامعة الاسلامیہ تالاب سفید سنگ، الجامعة الھاشمیہ باڑہ خیبر ایجنسی، بدنام زمانہ پلچرخی جیل میں سوئم بلاک کے اندر اپنے شخصی مدرسے میں موقوف علیہ، ترمذی اور تفسیر کا درس، الجامعة المحمدیہ ماشوخیل پشاور، الجامعة الاسلامیہ ہری پور مہاجر کیمپ، شمس المدارس سربند، جامعہ زبیریہ پشاور، جامعہ محمدیہ کابل ۔

تصانیف:

حضرت شیخ رحمہ اللہ نے مختلف فنون میں بے مثال تصانیف کی ہیں جن میں مذکورہ تصانیف سرفہرست ہیں ۔

عقد اللآلی، شرح خیالی

احسن الفرائد، شرح شرح العقائد

الروض المکلل، شرح المطول

فریدة الغواص، شرح سلم العلوم

احقاق الحق فی الدفع عن المذھب الحق (پانچ جلد)

شمس الحکمہ، شرح ھدایة الحکمة

بیعت:

تزکیہ نفس کے سلسلے میں حضرت شیخ صاحب رحمہ اللہ عارف باللہ مولانا عبد السلام صاحب رحمہ اللہ (پیر سباق شریف) اور ان کے بیٹے عارف باللہ قاری بشیر احمد صاحب کے ہاتھ پر بیعت تھے ـ

اسارت:

بطل جلیل حق کے دفاع اور اس کی دعوت میں، باطل کے رد جیسے جرموں کی پاداش میں کئی بار زندانوں کے مہمان بنے جن میں خصوصا بدنام زمانہ جیل پلچرخی بھی شامل ہے ـ

شہادت:

دور حاضر کے اہل باطل سے شیخ رحمہ اللہ کی حق کی صدا برداشت نہ ہوئی اور بالآخر 13 محرم الحرام 1444 ھ ق، اگست 2022ء میں آپ کو شہید کروادیا ـ

ایک سورج تھا ستاروں کے گھرانے سے اٹھا
آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا

نحسبہ کذالک واللہ حسیبہ