شہادت سعادت ہے!

#image_title

شہادت کاحصول ہمارامقصد اور ارمان ہے، ہم شہادت پرفخرکرتے ہےاور اس فخرکی برکت قربانی کامیدان کار زار اور بھی مضبوط ہوتاہے، نظام قوت حاصل کرتاہے، انتقام کیلئےغلام دشمن کی جڑ اکڑجاتی ہیں اور موجودہ خارجی وموسادی فتنہ جڑ سے ختم کردیتاہے.

بڑوں کی شہادت ہمیں بیدارکرتی ہے، قربانی کااحساس دلاتی ہے، فداکاری اور ایثار کی طرف کھینچتی ہیں اور آزادی کی نعمت کی حفاظت کاجذبہ بلندکرتی ہے.
ہمارے اکابرنے دین محمدی کی ارتقاء کیلئے اپنے آپ کو لہولہان کیا، کرتے ہے اور آئندہ بھی یہ تاریخ اسی طرح روشن رہیگی ان شاءاللہ.

شہید مزمل تقبلہ اللہ (جو چند مہینہ پہلے خوارج کی طرف سےشہادت کے اعلی مقام پرفائزہوگیا) نےہمیں کمزور نہیں بلکہ اور زیادہ قوت کی طرف سوق کردی، ہمیں نیااحساس اور مقدس جذبہ عطاکیا، ہمیں اسلامی نظام کاقدر، آزادی کی مبارک نعمت کی حفاظت اور اہمیت سے آگاہ کیااور یہ پیغام دیاکہ ہرقیمت پرہمیں بااحساس ہوناچاہئے، قوت ادراک اور بھی زیادہ ہو اورقربانیوں کے اس موسم میں اور بھی آگے بڑھ جائیں.

کسی کوبھی اجازت نہ دیں کہ نظام کی تخریب، کمزوری یاختم کرنےمیں اگے بڑھ سکے.
داعشی خوارج نے ایک مشر کی شہادت پر پوری ملت کوبیدار کیا، ان سے نفرت ملت میں اور بھی برھ گئی، ان کی ختم کرنے کا ارادہ اور بھی ملت کے دلوں میں محکم ہوگیا.
دلخراش واقعات یہ پیغام دیتے ہے کہ یہاں موسادی فتنہ ہمیش کیلئے دفن ہونے والاہے، بہت جلد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مصداق بننے والے ہے، جب بھی ان کے سینگ نکل اتے ہے وہ کٹ جاتے ہے.

شہیدمزمل تقبلہ اللہ جوتقوا، دیانت، صدق، اخلاص، توکل اور قربانی میں نام رکھتے تھے اور تاریخ ان کے ہرکارنامہ کی ثبت پرفخر کرتی تھی.
مزمل دارفانی کے راہی ہوگئےپر پیچھے ہزاروں ایس رجال چھوڑےجو مزمل کی راہ روی ہونگے.

دشمن کوخوش نہیں ہوناچاہئے ہمارے فدائی مجاہدین بہت زبردست انتقام لینگے .ان شاءاللہ.