شام میں داعش کا سربراہ کیسے مارا گیا؟

#image_title

شام میں داعش کا سربراہ کیسے مارا گیا؟

ترجمہ: عبد الکریم امت زوی

 

آخر کار داعش نے چوتھے رہنما کی موت کو قبول کرتے ہوئے نئے سربراہ کی تقرری کا اعلان کر دیا۔

نئے ترجمان کے الفاظ میں حیران کن بات یہ تھی کہ داعش کے سرغنہ کو حکمراں گروپ تحریر الشام نے ادلب میں قتل کر دیا اور اس کی لاش ترکی کے حوالے کر دی اور یہ بھی کہا کہ سابق ترجمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ ترک صدر طیب ایردوان کے ان الفاظ سے متصادم ہے، جنہوں نے کہا تھا کہ ترک انٹیلی جنس فورسز نے شام کے شہر جندریس (جو کہ ترکی کے زیر اثر علاقہ ہے) میں داعش کے سربراہ کو آپریشن میں مار دیا ہے۔

تاہم کئی ماہ کی قیادت کے بعد داعش کے چوتھے رہنما کا قتل کئی اہم نتائج کی تصدیق کرتا ہے۔

 

پہلا یہ کہ داعشی خوارج اپنے آخری لمحات گن ر ہے رہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے لیڈروں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ داعشی خوارج کو جغرافیائی شکست کا سامنا کرنے کے بعد، اس نے اپنے چار رہنماؤں کو کھو دیا۔ آخری لیڈر نے ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں کیا تھا اور اس نے ابھی تک خود کو ظاہر نہیں کیا تھا، اسے قیادت اور حوصلے کی خاطر اپنے حامیوں کو صوتی پیغام نشر کرنے کا وقت بھی نہیں ملا اور وہ پہلے ہی تباہ ہو چکے تھے۔

اس کے علاوہ داعشی خوارج نے شام میں درجنوں سرکردہ لیڈروں کو کھو دیا، جن میں سب سے اہم خالد الجبوری تھے، جو بیرونی آپریشنز کے انچارج تھے، ابو سارہ العراقی، اور محمد الحاجی جو شام میں آپریشن انچارج تھے۔

داعشی خوارج کی جانب سے چوتھے رہنما کے قتل کی ذمہ داری تحریر الشام سے منسوب کرنے کے بعد، تحریر الشام نے ایک بیان جاری کیا جس میں ابو الحسین کے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کی گئی۔

اس سے داعش میں بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس رسائی کی نشاندہی ہوتی ہے، نہ صرف بین الاقوامی انٹیلی جنس تنظیمیں، جو جدید آلات سے لیس ہیں، بلکہ تحریر الشام جیسی کمزور انٹیلی جنس تنظیم کی طرف سے بھی، جس کے پاس ایسے آلات نہیں ہیں، تا ہم کامیابی سے اپنے دائرہ اختیار سے باہر یہ آپریشن کیا گیا۔ یہ داعشی خوارج کی قیادت کی کمزور انٹیلی جنس پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے، جس کی داعش رہنما پیروی کرتے ہیں۔

یہ بتانا ضروری ہے کہ داعشیانٹیلی جنس ڈسپلن کے لحاظ سے بہت منظم تھے، عراقی انٹیلیجنس کے پرانے ریٹائرڈ افسران کی بدولت جو اب بھی انٹیلی جنس امور کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں، تاہم 2019 کے بعد ان میں شامل بہت سے لوگ ان سے جا چکے ہیں۔

داعش کے نئے رہنما کے بارے میں پیشین گوئی کرنا مشکل ہے، لیکن یہ کہنا آسان ہے کہ داعشی خوارج اپنے تمام رہنما کھو چکے ہیں۔

اور اگر وہ اس معیار پر قائم رہنا چاہتا ہیں، جو انہوں نے قائد کی تقرری کے لیے شرط رکھی تھی (کہ اس کا جسم تندرست اور قریشی ہونا چاہیے) تو یہ معیار اب بالکل معدوم ہے۔

 

اس سے پہلے داعشی خوارج نے ابو ابراہیم القریشی کو مقرر کیا تھا، حالانکہ وہ ترکمان تھے اور ان کا سلسلہ نسب قریش سے نہیں تھا، جس کی وجہ سے داعش اپنے دشمن گروہوں (القاعدہ اور تحریر الشام) کی ہنسی کا سٹاک بن گیا۔

داعش کو نئے لیڈر کی قانونی حیثیت قائم کرنے کے لیے بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہوگی، کیونکہ نہ تو اس کی شناخت معلوم ہے اور نہ ہی اس کا نسب معلوم ہے۔

اور نیے لیڈر کیلئے ضروری ہے، کہ تبدیلیاں لائے، کیونکہ مرکزی علاقوں شام اور عراق میں ناپید ہونے کے دہانے پر ہیں، اور دور دراز صوبوں میں داعش کی شاخیں بہت مستحکم ہیں، جو نئے لیڈر کو ایک نئے چیلنج کے سامنے رکھتی ہیں۔

اور لیڈر کے لیے اس صورتحال سے نکلنا ابھی بہت دور ہے۔