سانحہ باجوڑ سے متعلق ٹی ٹی پی کے اعلامیے پر تکفیری  عناصر(خوارج) کے اعتراض کا جواب

#image_title

سانحہ باجوڑ سے متعلق ٹی ٹی پی کے اعلامیے پر تکفیری  عناصر(خوارج) کے اعتراض کا جواب

 

عزیز الدین مصنف

 

سانحہ باجوڑ کے متعلق ٹی ٹی ٹی کے طرف سے جاری شدہ اعلامیے میں ہم نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام ہمارے اسلاف کی میراث ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جمعیت علماء اسلام نہ تو مولانا فضل الرحمن نے بنائی ہے، نہ عبد الغفور حیدری نے، نہ حافظ حمداللہ نے اور نہ ہی حاجی غلام علی نے بلکہ جن نفوس قدسیہ نے اس کی بنیاد رکھی ہے وہ تفسیر، حدیث، فقہ عقائد، احسان و تزکیہ اور دیگر تمام دینی، و علمی سلسلوں میں ہمارے مراجع ہیں۔

آج بھی ہمارے پاکستانی، ہندوستانی، اور افغانی معاشروں میں علمی و دینی سلسلوں میں انہی شخصیات کے کتب، تفاسیر، شروحات اور فیوضات کے طرف مراجعہ کیا جاتا ہے البتہ ہمارے تعزیت نامے میں یہ نہیں ہے کہ جمعیت علماء اسلام کی قائدین ہمارے قائدین ہیں۔

ہمارے اور انکے درمیان اسلامی نظام قائم کرنے کی حوالے سے طریقہ کار اور منھج کا واضح اختلاف ہے لیکن اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم داعشی خوارج کی طرح انکے تکفیر کرتے ہیں یا انکو مباح الدم سمجھتے ہیں یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جمعیت علماء اسلام سمیت پاکستان کے تمام مذھبی جہات اور تنظیمیں ہمارے اوپر تنقید کرتے ہیں لیکن ہمارا پالیسی ہے کے جہادِ پاکستان کا فائدہ اس میں ہے کہ تحریک کی فلیٹ فارم سے مذہبی قوتوں پر تنقید نہ کیا جائے، مذھبی قوتوں کی حوالے سے تحریک کا پالیسی خاموشی کا ہے کیونکہ مذھبی لوگوں میں بہت کم حضرات ایسے ہونگے جو قلباً و عقیدتاً ہمارے مخالف اور فوج کے ساتھ ہو، اکثریت ایسے ہیں جو کہ اپنے بقیہ دینی خدمات اور دینی اداروں کو بچانے کیلئے مجبوراً ہمارے مخالف مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔

اگر ہمارے موافقت سے یہ حضرات لاپتہ نہ ہو جاتے، شہید نہ کیا جاتے، انکے بقیہ دینی خدمات اور دینی ادارے متاثر نہ ہوجاتے تو یہ حضرات ضرور مجاہدین کا ساتھ دیتے تھے اور اگر آج بھی انکے سامنے سے یہ مشکل ہٹ جائیں تو یہ حضرات مجاہـدین کے ساتھ دینے میں دیر نہیں کرینگے۔

جہاد پاکستان کے حق میں فرضیت کا فتوی بھی ان دینی اداروں اور جماعتوں سے وابستہ مشائخ اور اکابر نے ہمیں دی ہے جن میں سے کئی حضرات کو بےدردی کے ساتھ فوج اور خفیہ اداروں نے شہید یا لاپتہ کردیا۔

ہم نے اپنے تعزیت نامے میں کہا ہے کہ دشمنانِ اسلام نہیں چاہتے ہیں کہ مذھبی قوتیں مظبوط ہوجائیں اور اس میں حقیقت ہے، جمعیت کے حوالے سے یہ نہیں کہا ہے کہ دشمنان اسلام نہیں چاہتے ہیں کہ جمعیت مظبوط ہوجائے، مذہبی قوتیں نظام کاحصہ بن کر اصلاح کی کوشش کرتے ہیں اور یہ انکا اپنا ایک اجتہاد ہے جبکہ تحریک نے جہاد وقتال کا راستہ اپنایا ہے اور سمجھتی ہے کہ قتال کے علاوہ مکمل اسلامی تبدیلی ناممکن ہے لیکن مذہبی اداروں اور جماعتوں کے ساتھ تصادم اور فاصلوں کے حق میں بھی نہیں ہے کیونکہ مجاہدین اور مذھبی قوتوں کی درمیان تصادم اور فاصلے ناپاک فوج، سیکورٹی اداروں اور حاکم طاغـ_وتی اور جمہوری نظام کی فائدے میں ہے ۔