دین اور اسلام سے ناواقف داعشی

#image_title

طالب علم صفت اللہ (سیاح)

ہمارے دین میں الحمدللہ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک پوری زندگی کے لیے احکام موجود ہیں۔

 انسان کے انفرادی، اجتماعی، جنگی اور غیر جنگی حالات پر نظر ڈالی گئی ہے اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں واضح اور غیر متضاد اصول ہیں جن میں کافروں سے لین دین یا تجارت بھی شامل ہے۔

موالات، مواسات اور مدارات اور ان کے احکام بھی واضح ہیں۔

 موالات تو حرام ہے، اب موالات کسے کہتے ہیں؟ امام ابوبکر جصاص الحنفی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر احکام القرآن میں بیان فرمایا ہے کہ تناصر (مسلمانوں کے خلاف کافروں سے مدد لینا) اور تناصر (مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کرنا) کو موالات کہتے ہیں۔

مدارات ہر اس کافر کے ساتھ جائز ہے جو تم سے جنگ میں شریک نہ ہو۔ جواز کی بہت سی دلایل ہیں، جن میں سے چند ہم بیان کریں گے۔

 اللہ تعالیٰ اپنی معجز کتاب قرآن کریم میں فرماتے ہیں۔

لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ. [الممتحنة: ٨]

ترجمہ: اللہ تمہیں ان لوگوں سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین میں لڑائی نہیں کی یا تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا کہ تم ان کے ساتھ بھلائی کرو اور ان کے ساتھ انصاف کرو، اللّٰہ تعالٰی انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

 یہاں تجارت اور لین دین میں نیکی اور عدل مراد ہے، تفاسیر آپ کے سامنے ہیں۔

البتہ سیاسی تعلقات اور سفیروں کا آنا جانا، اگر وہ مسلمانوں اور اسلامی حکومت کے مفاد میں ہو تو کوئی حرج نہیں۔

 جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إن رأى الإمام أن الكافر حسن الرأي والأمانة بين المسلمين وكانت الحاجة داعية إلى الاستعانة به، جاز، وإلا فلا)) مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج للخطيب الشربيني، (ص4/221ج).

ترجمہ: اگر وقت کا امام دیکھے کہ کفار ان کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں اور صالح ہیں اور ان کی مدد کی ضرورت ہے تو ان سے مدد طلب کی جا سکتی ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو جائز نہیں۔

اس لیے امارت اسلامیہ کا کفار کے ساتھ کسی قسم کا سیاسی میل جول رکھنا کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہے کیونکہ امارت اسلامیہ ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور یہ ایک اہم ضرورت ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان سے بچانے کے لیے لوگوں کے ساتھ تعامل کرے۔