داعش یا یہودی مہرہ؟

#image_title

داعش یا یہودی مہرہ؟

ابو بلال انوری

 

یہ ۲۰۱۴ء کی بات ہے، ملک کے دیگر خطوں کی طرح ننگر ہار اور اس کے گرد و نواح میں آپریشن جاری تھا۔ شہید ملا نیک محمد رہبر، عسکری قطعات اور تشکیلات کے مسئول تھے، اطراف کے زیادہ تر علاقے اور گاؤں مفتوحہ تھے، باقی ایسے تھے کہ وہاں بیرونی حملہ آوروں اور ان کی مقامی کٹھ پتلیوں کے لیے سفر کرنا آسان نہیں تھا۔

شام اور عراق میں داعش کی تحریک تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی، ان کے نعروں اور اچھی شہرت کو دیکھتے ہوئے بہت سے مقامی لوگوں اور مجاہدین نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ ہم نے اور بہت سے ساتھیوں نے ان کے لیے دعائیں کیں کیونکہ ظاہر میں ہمارے مقاصد مشترک نظر آتے تھے اور ہمارے نعرے بھی مشترک تھے۔

ان دنوں میں ملک سے باہر ایک اسلامی ملک میں مسافر تھا، وہاں میرا رابطہ ہمارے مشرق سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے ہوا، جو کہ بہت عرصے سے برطانیہ میں مقیم تھا، برطانوی شہریت کا حامل تھا اور اس کا خاندان بھی پہلے سے وہاں موجود تھا۔ چونکہ اس کا گھر اور کاروبار یہاں بھی تھا، اس لیے اس کے ساتھ وقتاً فوقتاً خوشی غمی میں رابطہ ہوتا رہتا تھا۔

اس نے ایک بار فون کیا اور پوچھا: مولانا صاحب کہاں ہیں؟

میں نے کہا: گھر پر ہوں۔

اس نے پوچھا: آپ باہر آتے ہیں یا میں آجاؤں۔

میں نے کہا: جیسے آپ کو مناسب لگے، آجائیں بیٹھیں گے باتیں کریں گے اور اپنے وطن کو یاد کریں گے۔

اس نے کہا: شام میرے مہمان بن جائیں، فلاں اور فلاں کو بھی اپنے ساتھ لیتے آئیں۔

میں نے کہا: ٹھیک ہے ہم شام کو آتے ہیں۔

جب ہم مقررہ جگہ پر پہنچے جو کہ ایک افغانی ہوٹل تھا، دیواریں شیشے کی تھیں اور باہر سے اندر نظر آ رہا تھا۔ میں نے کہا حاجی صاحب ہم تو آ گئے ہیں۔ اس وقت ہم ہوٹل کے دروازے کے عین سامنے پہنچ چکے تھے۔ جب ہم نے اسے ہوٹل میں بیٹھے دیکھا تو ہمارے پاؤں وہیں جم گئے۔ میرے ساتھ ایک دوست تھا جس نے پاکستان میں بہت وقت گزارا تھا، اور ان دنوں پاکستان میں ایک وزیر کا ڈرائیور رہ چکا تھا، اور بہت سے لوگوں کو جانتا تھا، اس نے مجھ سے کہا، آپ پیچھے آجائیں۔ میں نے پوچھا، کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ اس کے ساتھ تو فلاں اور فلاں موجود ہیں۔ یہ تو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا فلاں میجر ہے اور دوسرا فلاں ہے، اور ان میں سے ایک صلاح الدین ربانی ہے اور دوسرا حاجی حضرت علی ہے اور ایک اور مشرقی زون کا فلاں کمانڈر ہے، مجھے تو یہ کچھ اور ہی معاملہ لگتا ہے۔ میں بھی خاموش ہو گیا۔ اس وقت ہمارے میزبان کا فون آ گیا کہ آپ لوگ ادھر ایک اور ہوٹل ہے اس کا یہ نام ہے وہاں چلے جائیں، میں وہیں آتا ہوں۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے۔ ہم وہاں چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد وہ وہاں پہنچ گیا اور ہم سے سلام دعا کی۔

اس نے کہا، آپ لوگ کھانا کھائیں، یہاں میرے ساتھ کچھ مہمان ہیں تو میں دوبارہ آتا ہوں۔ ایک گھنٹے بعد وہ آگیا اور کہا، مولانا صاحب آپ کے ساتھ اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔

اس نے کہا: ہم ایک نئے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔

میں نے پوچھا: کیا مطلب؟

اس نے کہا: افغانستان میں ایک نیا جھنڈا لائیں گے۔

میں حیران ہو گیا اور پوچھا: کیسا نیا جھنڈا؟

اس نے کہا: کالا جھنڈا لائیں گے اور سفید جھنڈے کو اتار پھینکیں گے۔

میں سوچ میں پڑ گیا کیونکہ یہ سب میرے لیے بہت عجیب اور حیران کن تھا۔

اس نے کہا: داعش نامی ایک گروپ کو لائیں گے،

تو میں نے پوچھا: یہاں تو امارت موجود ہے، تو اس نئے گروپ کی کیا ضرورت ہے؟

اس وقت میرا خیال یہی تھا کہ داعش کے ساتھ فکری اعتبار سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں تھا، ہر کوئی یہی سمجھتا تھا کہ یہ ایک دولتِ اسلامیہ کے مدعی ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے امارت۔ لیکن بات ایسی نہیں تھی، خیر باتیں ہم نے بہت سی کیں لیکن میں گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ کچھ دن گزرنے کے بعد پھر اس کے ساتھ رابطہ ہوا، اس نے کہا میں آ رہا ہوں۔ وہ آگیا اور ہم اکٹھے بیٹھ گئے، اس وقت تک میں نے ان کے بارے میں کچھ معلومات جمع کر لیں تھیں اور میں بھی شک میں پڑ گیا تھا۔

اس نے کہا: پچھلی بار میں نے آپ سے اس منصوبے کے بارے میں بات کی تھی، اب ہمارے انتظامات مکمل ہو چکے ہیں، کیا آپ اس میں ہمارا ساتھ دیں گے؟

تو میں نے پوچھا: ہماری ذمہ داری کیا ہو گی؟

اس نے کہا: صوبہ ننگر ہار اور خاص طور پر ضلع خوگیانو کو اپنے قبضے میں لینا۔ وہ اس طرح کہ گاڑی کے نقلی کاغذات دیں گے، نیشنل سکیورٹی کی طرف سے کارڈ دیں گے، پیسے بھی خوب دیں گے، بس آپ ساتھی بنائیں۔

تو میں نے پوچھا: کیا ہم وہاں اس وقت کی حکومت سے جنگ کریں گے یا کچھ اور؟

تو اس نے کہا: نہیں بلکہ صرف وہ علاقے جو طالبان کے ہاتھ میں ہیں صرف ان میں اپنے منصوبے پر عمل درآمد کریں گے۔

میں اس پر سخت حیران ہوا، خیر کافی لمبی بحث اور باتوں کے بعد میں نے اس سے کہا: حاجی صاحب میری ایک بات سن لیں، یہ لوگ یہاں اس لیے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے کیونکہ ایک تو ان کا نظریہ اور حکمت عملی مختلف ہے، زیادہ تر وہابی اور سلفی ہیں، اور افغانستان میں یہ فکر نہیں چل سکتی۔

دوسری بات یہ ہے کہ ان کی یہاں جڑیں نہیں ہیںِ، مقامی لوگ ان کی معاونت نہیں کریں گے، اس لیے یہاں وہ اپنا ہدف حاصل نہیں کر سکتے۔

اس نے مجھ سے کہا: ہمیں ناکامی یا کامیابی کی پرواہ نہیں ہے، ہمارا کام اسے شروع کرنا ہے باقی کا معاملہ ہمارا کام نہیں۔

تو میں نے اس سے کہا: اوّل تو طالبان کے ساتھ جنگ ممکن نہیں، اور اگر ہوئی یا کہیں کی گئی تو میرے بارے میں اس کا تصور بھی نہ کرنا، میں دنیا و مافیہا کے بدلے بھی امارت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاؤں گا، میں چھوٹا ہی تھا کہ میں نے پچھلی امارت کے وقت میں بیعت کی تھی اور آج کم و بیش بیس سال گزر چکے ہیں میں نے ایک لمحے کے لیے بھی امارت سے بغاوت یا نافرمانی کا تصور تک نہیں کیا اور اللہ ایسا کبھی نہ کروائے۔

بہرحال میں نے اس سے پوچھا کہ یہ منصوبہ بنا کیسے؟

اس نے کہا: ہم نے پاکستان، افغانستان اور برطانیہ کے ساتھ سہ فریقی معاہدہ کیا ہے کہ افراد پاکستان فراہم کرے گا، جگہ اور تعاون افغان نیشنل سکیورٹی فراہم کرے گی، مالی معاونت اور وسائل برطانیہ اور دیگر اتحادی فراہم کریں گے۔

تو میں نے پوچھا: وسائل کس قدر ہیں؟

اس نے کہا: خدا کی قسم مجھے اتنے پیسے ملے ہیں کہ میرے بچے کیا پوتے بھی انہیں کبھی ختم نہ کر سکیں، باقی میرا وطن سے اور قوم سے کیا لینا دینا؟

مجھے اس کی بات پر شدید غصہ آگیا، میں نے کہا: یہ تو تمہارے ایمان اور عقیدے کے لیے خطرہ ہے۔

اس نے کہا: ہم نے کب کامل مسلمان اور ایمان کا دعویٰ کیا؟ لیکن ہم کاروبار کر رہے ہیں۔

خیر اس بار ہمیں سمجھ آگئی کہ ہمیں ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔

لیکن وہ ایک بار پھر میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا: میں نے تم سے کہا تھا کہ آؤ اور پیسے کماؤ لیکن تم نے بزرگی کا انتخاب کیا اور پیسے نہیں کمائے۔

تو جانتے ہیں میرا جواب کیا تھا؟ خدا کی قسم بالکل یہی الفاظ میں نے کہے: وطن پیچنا، اپنا ضمیر بیچنا ہے، اپنا ایمان، مقام اور عزت کو بیچنا ہے، اپنی ماں کو بیچنا ہے، اور میں کبھی ان چیزوں کا سودا نہیں کروں گا، چاہے میں غربت سے مر ہی کیوں نہ جاؤں، پرواہ نہیں، لیکن اپنی ماں کو نہیں بیچ سکتا۔