داعش کے نئے سربراہ کو ماضی سے وراثت میں صرف شرمندگی ملی ہے

#image_title

داعش کے نئے سربراہ کو ماضی سے وراثت میں صرف شرمندگی ملی ہے

ترجمہ: عبدالکریم امت زوئی

چار سالوں میں داعش کے پانچ سربراہ گزر گئے، لیکن الھول کیمپ (جہاں داعش کے اہل خانہ قید ہیں) کے مسائل اور پریشانیاں اب بھی برقرار ہیں اور مزید بڑھ رہی ہیں۔

بہت زیادہ لکھنے کی وجہ سے ان کے قلموں کی سیاہی خشک ہو گئی اور ’ہیش ٹیگ‘ بند ہو گئے۔ داعش کے پاس بس بے وزن نعروں کے سوا کچھ نہیں بچا، جسے داعش کا ہر ترجمان اپنے قیدیوں سے دہراتا ہے: (ہم تمہیں نہ بھولے ہیں اور نہ ہی بھولیں گے، اور ہم جنگ اور مال کے ذریعے آخری حد تک تمہیں رہائی دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔)

جی ہاں! یہ وہی جملہ ہے جو داعش کے ترجمان (ابو الحسن، ابو حمزہ، ابو عمر اور ابو حذیفہ) نے اپنے سربراہان (ابو ابراہیم، ابو عمر، ابو الحسن، ابوالحسین اور ابوحفص ) کی طرف سے دہرایا ہے۔ لیکن عائشہ اور امّ عمّارہ (رضی اللہ عنہا) کی نواسیاں کیمپوں میں کفار کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی ہیں۔

داعش اور ان کے قائدین کو بس بیعتوں اور مبارک بادوں کی خوشی مبارک ہو۔