داعش کے مظالم

پہلی قسط

#image_title

داعش کے مظالم

پہلی قسط

صلاح الدین (ثانی)

 

داعش ایک گمراہ اور خارجی گروہ ہے اور امت مسلمہ کی تاریخ میں ایسے خارجی گروہ یا خوارج بار بار گزرے ہیں۔

داعش وہ گروہ ہے کہ اسلام ، وہ دین جو پوری دنیا کے لیے امن اور سلامتی کا دین ہے، کا دنیا اور عالمی برادری کے سامنے وحشت اور دہشت والے دین کے طور پر تعارف کروایا۔

داعش نے کفار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور امت مسلمہ کے خلاف وہ وحشیانہ اور خوفناک کاروائیاں کیں کہ جو دشمنانِ اسلام نے پوری تاریخ میں کبھی نہیں کیں تھیں۔

مضمون کی طوالت سے بچنے کے لیے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں یعنی داعش کے مظالم کے بارے میں، جن کو شمار کرنا اب ممکن نہیں رہا اور جن کی وجہ سے امت مسلمہ کے ہر فرد کا دل زخمی ہے۔

جب داعشی خوارج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور پیشین گوئی کے مطابق سرزمین عراق سے نکلے اور عراق کی سرزمین کو تباہ و برباد کرنے اور جان بوجھ کر صلیبیوں کے حوالے کرنے کے بعد شام کی مبارک سرزمین پر خروج کرنے کے لیے زمین برابر کی۔ اور وہ کم عقل اور جاہل مسلمان اور نوجوان جو اسلام کے لغوی اور اصطلاحی معنی سے بے خبر تھے وہ اس جھوٹی اور کاذب خلافت کے پر فریب نعروں سے مسحور ہو گئے، جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ خلافتِ اسلامیہ کے لیے جہاد اور جنگ کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں خلافت کے لیے نہیں بلکہ خارجیت اور تکفیریت کے لیے جنگ کرتے ہیں۔

شام کی سرزمین میں داعشی خوارج کی جھوٹی خلافت کی حمایت کے لیے اتنے بے گناہ مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا جو کہ صلیبیوں کی اس بربریت کی یاد تازہ کر دیتا ہے جو انہوں نے بیت المقدس میں مسلمانوں کے خلاف کی تھی۔

داعشی خوارج نے گمراہ بغدادی کے حکم پر شام کے اتنے مخلص قائدین اور مجاہدین کو شہید کیا کہ اگر وہ مجاہدین بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہوتے تو آج شام کی مبارک سرزمین مقدس اسلامی نظام کے تحت ہوتی۔ ان داعشی اسرائیلیوں نے امت کی فتح اورعزت کی بحالی کو روکا ہے۔

داعش نے شام کی سرزمین میں اتنے بڑے بڑے قبائل کو سر عام قتل کیا ہے جسے انسانیت کے خلاف ظلمِ عظیم کہا جا سکتا ہے۔

 

شام میں داعش کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام!

۱۔ شہداء کا اجتماعی قتل (مجزرة الشعيطات)

جاری ہےٍ…!