داعش کے ظلم کی کہانی

#image_title

داعش کے ظلم کی کہانی

پہلا حصہ

اویس احمد

غزنی جاغوری سے:

 

مہدی جو اب چوده سال کا ہے، کابل میں اپنی ماں کے ساتھ بھیک مانگ رہا تھا، میرے سوال کے بعد اس نے کہانی اس طرح شروع کی کہ مہدی اور ماں "جو اس کے پاس بیٹھی تھی” دونوں کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

 

فرمایا: میں اپنی ماں کا پہلا اور آخری بیٹا ہوں، میرے چچا ایران میں رہتے ہیں، میرا کوئی اور قریبی رشتہ دار نہیں ہے، سردیوں میں بارش کی وجہ سے ہمارے کمرے کی چھت گرگئی جس سے میرے والد کی ٹانگ ٹوٹ گئی، گاؤں والے آگئے۔

میرے والد کی ٹانگ سے مٹی وغیرہ کو ہٹا دیا، ہم نے خانہ بدوشوں سے ایک خیمہ قرض پر لیا، میری والدہ نے میرے والد سے کہا: اگر آپ ایران جائیں اور کچھ مزدوری کرلیں تو ہم خانہ بدوشوں کے خیمے کا قرض ادا کرنے کے لیے اپنے بھائیوں سے بھی کچھ مدد مانگیں گے،

اس کی ٹانگوں میں درد زیادہ تھا لیکن وہ مجبوری کی وجہ سے گھر سے اس حال میں روانہ ہوا کہ میرے اور میری ماں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔

 

مہدی کہتے ہیں: میرے والد نے میری والدہ سے کہا کہ پڑوسیوں سے کھانے کے لئے کچھ لیا کرو، خدا حافظ!

 

میری ماں دوپہر کے کھانے کے لئے پڑوسیوں سے ملنے گئی، لیکن سب نے اس سے مختلف بہانے کئے۔

اچانک فون کی گھنٹی بجی!

 

میرے والد نے امی سے کہا: ہمیں زابل میں داعش نے روک لیا ہے، پھر ہمارا فون کام نہیں کرے گا۔

بہت دن گزر گئے، خانہ بدوشوں نے کہا: ہم اس جگہ سے جا رہے ہیں، اگر آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں تو خیمہ واپس کر دیں۔

انہوں نے خیمہ اتار لیا اور ہم آدھی گری ہوئی چھت کے نیچے بیٹھ گئے۔

 

میں کہانی مختصر کروں گا!

 

گاؤں میں افواہ اڑی کہ مہدی کے والد کا سر داعش نے قلم کرکے اسے شہید کردیا ہے، میں نہیں چاہتا تھا کہ میری امی کو خبر ہو، اور وہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ مجھے اس بارے میں علم ہو، لیکن ہم دونوں کو اس کا علم تھا، ماں کسی چیز کے بہانے رونے کے لئے گھر سے باہر نکل جاتی تھی، مجھے اس کی سرخ آنکھیں ہمیشہ یاد رہیں گی۔

 

میرے والد مرحوم کو میرے پاس لایا گیا، ہم نے اسے نیم علیحدہ چھت کے نیچے رکھا، گاؤں والوں نے گاڑی کے کرایے کے لیے پیسوں کا چندہ کیا، والد ایک رات میرے پاس رہے، غسل دینے کے وقت معلوم ہوا کہ اس کے پاؤں اور ہاتھوں کے ناخن نکال دیے گئے ہیں۔ اور اُس کا سارا جسم خون سے سرخ ہو گیا تھا۔ اس کے سر سے ایسا لگتا تھا؛ پہلے وہ لٹکائے گئے ہیں پھر اس کا سر کاٹ دیا گیا ہے،  اگلے دن گاؤں والوں نے آکر اسے دفن کردیا۔

اسی وقت، ہم نے مہدی اور اس کی والدہ کو گاڑی میں اٹھایا، ہم نے ان کے لیے ایک چھوٹا سا مکان کرایہ پے لیا۔ جس کا کرایہ امارت اسلامیہ افغانستان دے گی۔

 

 مہدی اسکول جائے گا، اور اس کی ماں خواتین کے دستکاری اور صنعتی گروپ کے ساتھ کام کرنا سیکھے گی، اور حکومت ان دونوں کو ماہانہ بیس ہزار افغانی ادا کرے گی۔

 

(ایک مجاہد کے منہ سے)