داعش کے ظلم کی کہانی

#image_title

داعش کے ظلم کی کہانی/ تیسرا حصہ

اویس احمد

 

ننگرہار: خطے کے بہت سے لوگ داعش کی وحشت اور بربريت سے واقف نہیں ہیں!

بعض کا خیال تو ہے کہ داعش بھی ایک اسلامی تنظیم ہے، میں آپ کو ان کے اسلام کا نمونہ پیش کرتا ہوں:

ایک گھرانہ ایسا تھا جس میں کسی کی اولاد نہ تھی، گھر کے ہر فرد کی یہی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے گھر ایک بچہ پیدا ہو،

انہوں نے بیوی اور شوہر دونوں کے کئی علاج کروائے، اس کی ماں نے بچے کے پیدائش پہ دس روزوں کی نذر بھی مانی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے اس گھرانے والوں کو ایک لڑکا دیا، لوگ مبارکباد دینے آتے تھے،

اس کے ماموں نے آکر ان کے گھر کے سامنے خوشی کے تین گولیاں چلائیں لیکن یہ تین گولیاں ان کے لیے بہت مشکلات کی سبب بن گئیں۔

داعش کے چند خوارج آئے اور پوچھا۔ گاؤں میں کس نے گولی چلائی؟

گاؤں والوں نے ان سے کہا: آج ہمارے گاؤں میں خوشی کی فائرنگ کی گئی، ایک خاندان جس میں کسی کی کوئی اولاد نہیں تھی، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک کو اولاد سے نوازا، انہوں نے اس سے کہا: اب اسے پتہ چلے گا کہ خوشی میں فائرنگ کا کتنا فائدہ ہے؟

چنانچہ گھر کے مالک کو انہوں نے بلایا ، پھر اس کی بیوی کو، وہ عورت جس نے ابھی بچے کو جنم دیا تھا!

نیا پیدا شدہ بچے کو ان کے سامنے چھری سے دو ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا، اس کے منہ سے دودھ کے ساتھ ساتھ خون بہہ رہا تھا، اس کے والدین دیکھ رہے تھے!

پھر ایک اور ظالم نے کہا کہ اس کے والد اور والدہ نے گولی چلائی ہے، چنانچہ ایک بدبخت آدمی نے پیکا کا منہ والدین کے طرف کرلیا اور ایک ہی وار سے ان دونوں کو شہید کردیا۔ لوگوں کو شہداء کو درست کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

ایک ملعون نے کہا: جو امیر کے حکم کی مخالفت کرے گا، اس کا یہی حشر ہوگا، پھر اس نے زور سے پکارا۔ تکبیر اللہ اکبر۔

گاؤں میں خاموشی چھا گئی اور تینوں شہداء عصر کو سپرد خاک کر دیے گئے۔