داعش کے ظلم کی کہانی

#image_title

داعش کے ظلم کی کہانی/حصہ دوم

اویس احمد

یہ صرف مہدی کے والد نہیں تھے جن کا زابل میں داعشی خوارج نے سر قلم کیا تھا، بلکہ مہدی کی طرح دوسرے معصوم بچوں کے بھی انہوں نے سر قلم کر دیے تھے۔
فتح سے پہلے ہتھیار ڈالنے والے داعش کا کہنا تھا:  داعش کے رہنماؤں نے کہا؛ کہ غزنی سے ہرات تک تمام لوگ بدعتی، پیر پرست اور مشرک ہیں، ان کا قتل کفار کی طرح جائز ہے۔ جب بھی وہ ہاتھ آجائیں تو ہاتھ مت روکنا!

وہ صرف وہابی مسلمانوں کو جانتے تھے۔

ایک دفعہ ہم نے کئی ہزارہ لوگوں کو گرفتار کیا جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے، جب معلوم ہوا کہ وہ ہزارہ ہیں تو ہمیں ان کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا کہ یہ بہت بڑا جہاد ہے،
ان کے سر کاٹ دو!
پہلے ہم نے کئی مردوں کے سر بچوں اور عورتوں کے سامنے کاٹ دئیے۔
پھر ہم نے بچوں کے سر ان کے ماؤں کے سامنے کاٹ دئیے اور آخر میں دو عورتوں کے سر کاٹ کر بلند آواز میں نعرہ تکبیر کہنا شروع کیا۔
ہم نے ان سب کو گاڑی میں ڈال کر سڑک کے کنارے پھینک دیا، یہ دیکھ کر میں اسی دن اس نتیجہ پر پہنچا کہ داعش واقعی خوارج ہے اور ہتھیار ڈالنے کا ارادہ کیا، اور میں نے ایسا کیا بھی کہ چھٹی کے بہانے آگیا اور ایک عدد بندوق کے ساتھ امارت کے سامنے ہتھیار ڈال دیا۔

لیکن میرے لیے سب سے خوشی کا دن وہ تھا جب امارت اسلامیہ افغانستان کے سپاہیوں نے زابل میں داعش کے خلاف آپریشن کیا اور انہیں ہلاک کیا۔ میرے رب کی قسم وہ قاتل مٹی میں اس طرح پڑے تھے کہ مکھیوں اور بدبوئی کی وجہ سے کوئی قریب نہیں جا سکتا تھا۔