داعش کے ظلم کی مثال

#image_title

داعش کے ظلم کی مثال

بریال فاتح

 

امارت کے قیام کے بعد میں نے خلیج کا سفر کیا، وہاں میں اپنے گھر اور بچوں کے لیے حلال رزق کما رہا تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مصر، یمن، شام اور دیگر ممالک کے لوگوں سے میری چند ملاقاتیں ہوئیں، میں ان کے رسم و رواج کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔

ایک دن ایک شامی نے مجھے واٹس ایپ پر لوکیشن بیجھا اور کہا کہ میرے پاس کچھ سامان ہے وہ کہیں لے جاو۔

میں عصر کو وہاں پہنچ گیا، وہ میرے لیے کافی لے کر آیا اور کہا: یہ پیو، دوسرے لوگ کام میں مصروف ہیں، میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا، ہماری ملاقات ہو رہی تھی، انہوں نے مجھ سے ملک (افغانستان) کے حالات کے بارے میں پوچھا، مومن طالبان کی حاکمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے افغانستان کے حالات کي ایک بہترین صورت حال پیش کی،

میں نے ان سے ان کے ملک (شام) کے بارے میں بھی پوچھا کہ شام میں مسلمانوں کی زندگی کیسی ہے، ملک کی کیا صورت حال ہے؟

اس نے ایک بڑی آہ بھردی اور آنکھوں میں آنسو لیے باتیں شروع کیں اور کہا: میری شام میں بہت اچھی زندگی گزر رہی تھی، میرے پاس بہت سی زمین تھی اور میں اپنے جنت نما ملک میں بہت خوش تھا، لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ شام میں مشکلات سامنے آگئے۔ گروہی تشدد بڑھ گیا، اور بد امنی انتہا کو پہنچ گیا۔

کچھ عرصے بعد ثابت ہوا کہ اسلام کے دشمن داعش کہلانے والے یہیں (شام) پیدا ہوئے۔

داعش ایک سخت گیر گروہ تھا، یہ خود کو اسلامی گروہ کہتا تھا، لیکن اس کی تمام سرگرمیاں اسلام سے متصادم تھیں۔ داعشی خوارج کو ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ کیونکہ مسلمانوں کو قتل کرنے میں ان کو خاص اور لازوال مہارت حاصل تھی۔

داعشی خوارج جو چاہتے تھے کرتے تھے، انہوں نے اپنے آپ کو اسلام کے مطابق نہیں ڈھالا تھا، بلکہ اسلام کو اپنے خواہشات کے مطابق تراشتے تھے، گھر والوں سے ان کا ضروری سامان زبردستی چھین لیا کرتے تھے اور ہماری عزتوں کو لوٹتے تھے۔

انہی مشکلات کی وجہ سے ہم نے اپنا ملک چھوڑ کر یہاں ہجرت کی۔

یہاں ہماری زندگی بہت ہی ناخوشی میں گذر رہی ہے، جو لوگ کچھ مالدار تھے انہوں نے اپنے بچوں کے لیے کرائے کے مکان لے لیے اور جو غریب تھے ان کی کنواری بیٹیاں اپنی زندگی سنوارنے کے لیے بھوڑے مردوں کی بیویاں بن گئیں جو کہ بہت تکلیف دہ صورت حال تھی۔

اس نے بھری آنکھوں سے کہا: ہم بھی اچھی زندگی چاہتے تھے، ہم یہ بھی چاہتے تھے کہ ہماری بیٹیاں ہجرت کے دوران غلامی کی زندگی نہ گزاریں اور اپنے ملک میں نوجوانوں سے قانونی طور پر شادی کر کے اچھی زندگی گزاریں۔ لیکن ہمارے نوجوانوں، کنواریوں، بھوڑوں اور بچوں کے خوابوں کو داعشی خوارج نے خاک کے ساتھ ملا دیا۔

اس نے کہا، "میں آپ کو اپنے ملک کے بارے میں آخر میں یہ بتاؤں گا: داعشی خوارج کے آمد کے بعد شام جہنم کے گڑھے میں تبدیل ہوچکا۔”

قیامت کے دن ہمارے شامیوں کے ہاتھ ہوںگے اور بغدادی داعش کے گریباں ہوں گے۔